تازہ ترین
کام جاری ہے...
Friday, August 11, 2017

تفسیر ضیاء القرآن سے چند اقتباسات

August 11, 2017


موسی علیہ السلام کا توکل :
موسی علیہ السلام کے توکل علی اللہ کی شان ملاحظہ ہو ،انھیں بھی نظر آرہا ہے کہ سامنے بحرِ بیکراں ہے ،جس کی تند و تیز موجیںساحل سے آکر ٹکر ا رہی ہیں ۔
اور ادھر فرعون ہے ،جو غیض و غضب سے دیوانہ ہورہا ہے ،لیکن کیا مجال کہ ان کے بظاہر حوصلہ شکن حالات میں بھی کلیم علیہ السلام کی پیشانی پر شکن تک پڑا ہو یا دل میں گبھرائٹ کا گزر تک ہوا ہو۔
گبھرائے ہوئے ساتھیوں کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں
ـ''ہمیں وہ ہرگز نہیں پکڑ سکتا ،میرے ساتھ میرا رب ہے''،میں اس کے حکم سے تمہیں لے کر نکلا ہوں وہ ضرور ہماری رہنمائی فرمائے گا ۔
کتنا پختہ ہے آپ کا یقین ،کتنا پختہ ہے آپ کا توکل اور کیا جلال ہے آپ کے اس جملے میں ۔
نبوت کی عظمت ایسے ہی نازک حالات میں پوری آب وتاب سے جلوہ نماہوتی ہے ۔
(ضیاء القرآن ،جلد سوم ،ص ٣٩٥)

نبی کریم علیہ السلام کی تبلیغ :
نبی رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم شب و روز تبلیغ اسلام میں مصروف ہیں ،دن بھر اپنی قوم کو سمجھاتے ہیں ،ان کے شکوک کا ازالہ اور انکے اعتراضات کے جواب دیتے ہیں ۔
قرآن کریم کی آیات پڑھ پڑھ کر انھیں سناتے ہیں ،اور جب رات کی تاریکی پھیل جاتی ہے اور ہر طرف سناٹا چھا جاتا ہے ۔
تو یہ رسول مکرم بارگاہ الہی میں حاضر ہوتے ہیں ،کبھی دست بستہ کھڑے ہو کر اور کبھی سر بسجود ہو کر بڑے سوز و گداز سے اپنی قوم کی ہدایت کیلئے التجائیں کرتے ہیں ۔
جب زبان مصروف دعا ہوتی ہے تو آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگتے ہیں ،یوں معلوم ہوتا ہے کہ آمین آمین کہہ رہے ہیں ۔
یوں دن بسر ہو رہے ہیں ،یوں راتیں گزررہی ہیں ۔
لیکن کفار کی ہٹ دھرمی اور بہتان تراشی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے ،جس سے طبعیت اداس رہتی ہے اور خاطر عاطر پر غم کے بادل چھا ئے رہتے ہیں ۔
اللہ تعالی تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
''اے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم !
تم یوں رنجیدہ خاطر اور ملول کیوں رہتے ہو ،آپ نے اپنا فرض ادا کردیا ،یہ انکی عقل کا قصور ہے کہ وہ حق کو قبول نہیںکر رہی ۔
تمہارا شفیق دل تو یہی چاہتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی گمراہ نہ رہے ،سب ہدایت یافتہ ہو جائیں ۔
اور ایسا کرنا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں ،ہم انہیں ایسی نشانی دکھانے پر قادر ہیں ،جس کو دیکھ کر ان کی گردنیں جھک جائیں اور اسلام قبول کرنے کے سوا ان کیلئے کوئی چارہ کار نہ رہے ،لیکن جبر و اکراہ سے انھیں راہ حق پر گامزن کرنا ہماری حکمت کے بھی خلاف ہے اور شرفِ انسانی بھی اس کا تقاضہ نہیں کرتا ۔
(تفسیر ضیاء القرآن ،جلد سوم ،ص ٣٨١)

گھر :
گھر ہی وہ مدرسہ ہے ،جہاں اخلاق و کردار کی جو قدریں اچھی یا بری ،بلند و پست لوح ِدل پر لکھ دی جاتی ہیں ،ان کے نقوش کبھی مدھم نہیں پڑتے ۔
(تفسیر ضیاء القرآن ،جلد اول ،ص ٣١١)

حکمت الہی :
قدرت نے ان کے دل میں ایسی بات ڈال دی کہ خود فرعون اپنے وزراء و امراء کو ہمراہ لے کر اپنی ساری فوجوں کے ساتھ نکل کھڑا ہوا ،اس میں حکمت یہ تھی کہ جب عذاب الہی آئے ،توسب نابکار ایک جگہ اکٹھے ہوں اور ایک ضرب سے ہی ان کا کام تمام کر دیا جائے۔
(تفسیر ضیاء القرآن ،جلد سوم ،ص ٣٩٤)

از
احسان اللہ کیانی 
11۔8۔2017

0 تبصرے:

Post a Comment

کمنٹ کا شکریہ ۔۔۔آپ کا تبصرہ جلد ایڈمن کی طرف سے ظاہر کر دیا جائے گا

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں