Tuesday, July 25, 2017

فلسطینی بچوں کی گرفتاری:

فلسطینی بچوں کی گرفتاری:
سورت توبہ کی اس آیت کو پڑھنے سے پہلے تفسیر ابن کثیر سے اسکی وضاحت پڑھ لیجیے
تفسیر ابن کثیر میں ہے:
اللہ تعالیٰ کافروں کے مکر و فریب اور ان کی دلی عداوت سے مسلمانوں کو آگاہ فرما رہا ہے
تاکہ وہ ان کی دوستی اپنے دل میں نہ رکھیں
نہ ان کے قول و قرار پر مطمئن رہیں ان کا کفر شرک انہیں وعدوں کی پابندی پر رہنے نہیں دیتا۔
یہ تو وقت کے منتظر ہیں ان کا بس چلے تو یہ تو تمہیں کچا چبا ڈالیں ،اور یہ اس وقت نہ قرابت داری کو دیکھیں گے نہ وعدوں کی پاسداری کریں گے۔
ان سے جو ہو سکے گا وہ ظلم کا پہاڑ تم پر توڑیں گے اور خوش ہوں گے
قرآن کریم میں ہے:
{کَیۡفَ وَ  اِنۡ  یَّظۡہَرُوۡا عَلَیۡکُمۡ  لَا یَرۡقُبُوۡا فِیۡکُمۡ  اِلًّا وَّ لَا ذِمَّۃً  ؕ یُرۡضُوۡنَکُمۡ  بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ تَاۡبٰی  قُلُوۡبُہُمۡ ۚ وَ اَکۡثَرُہُمۡ  فٰسِقُوۡنَ}

(بھلا ان سے عہد کی پاسداری کی توقع) کیونکر ہو، ان کا حال تو یہ ہے کہ اگر تم پر غلبہ پا جائیں تو نہ تمہارے حق میں کسی قرابت کا لحاظ کریں گے اور نہ کسی عہد کا
وہ تمہیں اپنے منہ سے تو راضی رکھتے ہیں لیکن ان کے دل (ان باتوں سے) انکار کرتے ہیں
اور ان میں سے اکثر عہد شکن ہیں.
(التوبۃ:8)

توجہ طلب:
اس سے معلوم ہوتا ہے ،اکثر کفار عہد شکن ہوتے ہیں
تفسیر الجلالین میں ہے:
{وَأَكْثَرهمْ فَاسِقُونَ} نَاقِضُونِ لِلْعَهْدِ
#israel #palestine #islam #Quran

Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Join us on