تازہ ترین
کام جاری ہے...
Wednesday, July 5, 2017

جھاد کا اسلامی تصور:

July 05, 2017

جھاد کا اسلامی تصور:
جھاد ایسا مفید عمل ہے،جس سے بعض اوقات گھنٹوں میں لاکھوں لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں.
یہ اسلام کا رکن اعظم ہے
یہ مسلمانوں کی قوت کا سرچشمہ ہے
یہ مسلمانوں کے اتحاد کا سبب ہے
یہ دنیا میں غلبہ اسلام کا ذریعہ ہے
یہ وہ اہم فریضہ ہے جس کے متعلق قرآن کی درجنوں بلکہ سینکڑوں آیات ہیں.
اسلام اس کے متعلق کیا کہتا ہے
چند اہم باتیں ملاحظہ فرمائیں.

دعوت، جزیہ پھر جھاد:
مسلمانوں پر ضروری ہے کہ کافروں کو دین اسلام کی طرف بلائیں اگر دین حق کو قبول کرلیں، زہے نصیب
اور اگر کافروں نے دین حق کو قبول نہ کیا، تو بادشاہ اسلام ان پر جزیہ مقرر کردے کہ وہ ادا کرتے رہیں
اور جو اس سے بھی انکار کریں، تو جہاد کا حکم ہے۔
(درمختار وغیرہ)

وضاحت:
یعنی طاقتور افواج اور ھیبت ناک ہتھیاروں کے ساتھ کفار کی سرحد پر جائیں،اور انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں،اگر قبول کر لیں ،تو ٹھیک
ورنہ دوسرا آپشن دیں،کہ تم ہمیں ماہانہ یا سالانہ اتنا جزیہ دیا کرو ،اگر مان جائیں ،تو ٹھیک
ورنہ اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے،پوری قوت سے کفار پر حملہ کردیں.

فرض کفایہ جھاد:
جہاد ابتداءً فرض کفایہ ہے کہ ایک جماعت نے کرلیا، تو سب بری الذمہ ہیں
اور سب نے چھوڑ دیا ،تو سب گناہ گار ہیں
(درمختار، ردالمحتار)

وضاحت:
یعنی  اوپر ذکر کیے گئے طریقے کے مطابق ،دنیا میں کچھ مسلمان ہمیشہ جھاد کرتے رہیں، یہ فرض ہے.

فرض عین جھاد:
اور اگر کفار کسی شہر پر اچانک حملہ کر دیں تو وہاں والے مقابلہ کریں اور اگر ان میں اتنی طاقت نہ ہو تو وہاں سے قریب والے مسلمان مدد کریں
اور اگر ان کی طاقت سے بھی باہر ہو تو جو ان سے قریب ہیں وہ بھی شریک ہوجائیں
وعلیٰ ہذا القیاس۔
(درمختار، ردالمحتار)

وضاحت:
یعنی جس شہر پر حملہ ہو پہلے وہ مقابلہ کریں،اگر ضرورت پڑے تو ساتھ والے شہر بھی شامل ہو جائیں ،

اگر ضرورت پڑے تو پورا ملک ،پھر ساتھ والے مسلم ممالک ،اور اگر مزید ضرورت پڑے ،تو پوری دنیا کے مسلمان جنگ میں کود پڑیں.
جب کفار حملہ کر دیں یا حملہ کے لیے آجائیں ،تو جھاد فرض عین ہوجاتا ہے.

جھاد واجب ہونے کی شرط:
جہاد واجب ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ اسلحہ اور لڑنے پر قدرت ہو اور کھانے پینے کے سامان اور سواری کا مالک ہو
نیز اس کا غالب گمان ہو کہ
مسلمانوں کی شوکت بڑھے گی۔ اور اگر اس کی امید نہ ہو تو جائز نہیں کہ اپنے کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
(عالمگیر ی، درمختار)

وضاحت:
اگر یہ غالب گمان نہ ہو کہ مسلمانوں کی شوکت بڑھے گی ،تو کفار سے  چیڑ چھاڑ کرنا ہی جائز نہیں.
جھاد سے پہلے خوب طاقت تیار کی جائے،پھر جھاد کیا جائے.

جھاد سے پہلے دعوت اسلام:
جن لوگوں کو دعوت اسلام نہیں پہنچی، انھیں پہلے دعوت اسلام دی جائے ،بغیر دعوت ان سے لڑنا جائز نہیں۔
(درمختار)

وضاحت:
لڑنے سے پہلے کفار کو دعوت اسلام دی جائے،تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اس جنگ کا مقصد مُلک و مال نہیں ہے،
بالکل فقط دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت ہے.

معاہدہ:
عہد توڑنا مثلاً یہ معاہدہ کیا کہ اتنے دنوں تک جنگ نہ ہوگی پھر اسی زمانہ عہد میں جنگ کی یہ ناجائز ہے.
(مجمع الانہر)

وضاحت:
یعنی جن ممالک سے ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے،دوران عہد ہمارے لیے ان پر حملہ کرنا جائز نہیں ہے.

معاہدہ نہ ہو تو اچانک حملہ:
اگر معاہدہ نہ ہو اور بغیر اطلاع کیے جنگ شروع کردی تو حرج نہیں۔
(مجمع الانہر)

وضاحت:
یعنی جن ممالک سے ہمارا کوئی معاہدہ نہیں ہے،ان پر ہم اچانک حملہ بھی کر سکتے ہیں.

کفار کو پیسے دے کر صلح:
اگر صلح مسلمانوں کے حق میں بہتر ہو تو صلح کرنا جائز ہے، اگرچہ کچھ مال لے کر یا دے کر صلح کی جائے
(درمختار مع الشامی)

وضاحت:
اگر مسلمان کمزور ہوں ،اور لڑنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو انھیں کچھ مال دے کر صلح کر لینی چاہیے،
تاکہ کچھ وقت مل جائے،جس میں وہ قوت تیار کر سکیں.

صلح کب ختم ہوگی اور کب نہیں:
صلح کے بعد اگر کسی کافر نے لڑنا شروع کیا اور یہ انکے بادشاہ کی اجازت سے ہے، تو اب صلح نہ رہی

اور اگر بادشاہ کی اجازت سے نہ ہو بلکہ شخص ِخاص یا کوئی جماعت بغیر اجازت ِبادشاہ برسرِپیکار ہے،تو صرف انھیں قتل کیا جائے ان کے حق میں صلح نہ رہی، باقیوں کے حق میں باقی ہے۔
(مجمع الانہر)

وضاحت:
یعنی اگر کوئی خاص گروہ شرارت کرے تو اسے ہی سزا دی جائے گی.

کفار کو ہتھیار بیچنا:
کافروں کو ہتھیار اور ہر وہ چیز جس سے ہتھیار بنتے ہیں ،بیچنا حرام ہے اگرچہ صلح کے زمانہ میں ہو۔
یو ہی تاجروں پر حرام ہے کہ یہ چیزیں ان کے ملک میں تجارت کے لیے لے جائیں
(درمختار)

نوٹ:
ان کتب پر تمام بریلوی دیوبندی علماء کا اتفاق ہے.

طالب دعا:
#احسان_اللہ کیانی
5-جولائی-2017
#jihad

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں