آن لائن جنسی زیادتی

آن لائن جنسی زیادتی:
جی ہاں یہ کہانی ہے اسی مہذب یورپی معاشرے کی جس کے بارے میں تیسری دنیا کے ممالک میں ان کے مہذب و شائستہ ، باشعور و بااصول ہونے اور بالخصوص جنسیات کے حوالے سے ہر ایک شخص کے حقوق کا خیال رکھنے کا ہر دم ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔
تہذیبی نرگسیت کا شکار اس معاشرے کی حقیقت اس وقت کھل کر سامنے آئی جب ایک 53 سالہ شخص David Timothy Deakin کو اس کے فلیٹ پر چھاپا مار کر اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا جبکہ وہ ایک 12 سالہ بچی کے ساتھ سیکس ویڈیو بنانے میں مصروف تھا ۔
یورپی درندوں کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ڈیوڈ نے 2 ماہ سے لیکر 12 سال کی بچی اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیوز بنائیں ، ان ویڈیوز سے اس کے پاس کئی ہارڈ ڈسکس بھری ہوئی تھیں اور اس کے فلیٹ میں جا بہ جا بچوں کے شوز، ان کے کپڑے اور ویڈیوز میں انہیں باندھنے کے لیے مختلف بیلٹس و سیکس آلات بکھرے پڑے تھے۔
اغوا شدہ ایک بچی کا کہنا تھا " اس کی ماں اور باپ اس سے بہت پیار کرتے ہیں"۔
یہ شخص اس کاروبار کے تحت فی گھنٹہ 30 ڈالر کماتا تھا  اور webcam sex tourism کے تحت  اس کے گاہک امیرکہ اوریورپ بھر میں پھیلے ہوئے تھے جنہیں آنلائن ویڈیوز بیچی جاتی تھیں۔
صرف اتنا ہی نہیں کہ یہ تو صرف ایک شخص کے کرتوت ہیں، بلکہ FBI کی رپورٹ کے مطابق اس وقت اسی طرح کے ساڑھے سات لاکھ سے زائد لوگ اس کاروبار میں ملوث ہیں۔
ڈیوڈ کو اس بات پر اعتراض تھا کہ آخر لوگوں کو آئے دن اس کے فلیٹ میں نئے نئے بچے لانے پر کیا اعتراض ہے؟ اس کاروبار کے تحت پورا فلپائن نیٹ کنکشنز سے اٹ چکا ہے اور وہاں کے بینکوں میں دنیا بھر سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیوز کے معاوضے کی رقوم کے سبب ٹرانزیکشنز کی بھرمار ہے ۔
از: زوہیب زیبی
http://www.independent.co.uk/news/world/asia/david-timothy-deakin-philippines-paedophile-child-sex-abuse-video-webcam-operator-suspect-a7725971.html