Wednesday, July 19, 2017

صبر و تقوی اور قرآن

کفار کی چالوں میں صبر و تقوی بھترین ڈھال ہیں:
قرآن کریم میں ہے:
{ وَ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا لَا یَضُرُّکُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡـئًا }
اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو، تو اُن (کفار)کی چالیں تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گی.
(آل عمران:120)

مسلمانوں کی فتح و کامیابی اور تمام مشکلات میں آسانی کا راز صبر اور تقوی کی دو صفتوں میں مضمر ہے۔
قرآن کریم نے مسلمانوں کو ہر قسم کے مصائب اور پریشانیوں سے محفوظ رہنے کے لئے صبر وتقوی کو صرف اسی آیت میں نہیں
بلکہ دوسری آیات میں بھی ایک موثر علاج کی حیثیت سے بیان فرمایا
اسی رکوع کے بعد دوسرے رکوع میں ہے :
{ بلی ان تصبروا و تتقوا ویاتوکم من فورھم ھذا یمددکم ربکم بخمسۃ الاف من الملئکۃ مسومین}۔ (٣: ١٢٥)
اس میں امداد غیبی کا وعدہ انہی دو شرطوں یعنی صبر وتقوی پر موقوف رکھا گیا ہے…
سورة یوسف میں فرمایا :
{ انہ من یتق ویصبر}۔ (١٢: ٩٠)
اس میں بھی فلاح و کامیابی صبر وتقوی کے ساتھ وابستہ بتلائی گئی ہے…
اسی سورة کے ختم پر صبر کی تلقین ان الفاظ میں کی جارہی ہے :
{ یایھا الذین امنوا اصبروا و صابروا ورابطوا واتقوا اللہ لعلکم تفلحون۔} (٣: ٢٠٠)
اس میں بھی فلاح و کامیابی کو صبر وتقوی پر معلق کیا گیا ہے۔
صبر وتقوی مختصر عنوان کے اندر انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبہ عوامی اور فوجی نظم و نسق کا ایک کامیاب ضابطہ بڑی جامعیت کے ساتھ آگیا۔
حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے :
عن ابی ذر قال قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انی لاعلم ایۃ لواخذ الناس بھا لکفتھم ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا الایۃ۔ (٦٥: ٢) رواہ احمد) "
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اس پر عمل اختیار کرلیں تو ان کے دین و دنیا کے لئے وہی کافی ہے
وہ آیت یہ ہے
{ ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا}
یعنی جو شخص اللہ سے ڈرے اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ نکال دیتے ہیں "۔
#Quran #islam #Raaz #Sabar #Taqwa

Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Join us on