Saturday, July 22, 2017

فلسطین بروز جمعہ یوم غضب

آج جمعہ کے روز #فلسطینی قوم #یوم_غضب منا رہی ہے:
21-july-2017
مقبوضہ بیت المقدس: #مسجد_اقصیٰ پر نئی #اسرائیلی پابندیوں کے خلاف آج جمعہ کے روز #فلسطینی قوم یوم غضب منا رہی ہے۔ اس موقع پر #فلسطین بھر میں احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کا انعقاد کیا جائے گا، جب کہ احتجاج کی متوقع شدت کے خوف سے قابض #صہیونی فوج نے #بیت_المقدس شہر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ جمعہ مسجد اقصیٰ کے دروازے پر قابض صہیونی فوج پر فلسطینی نوجوانوں کے فدائی حملے کے بعد اسرائیلی حکومت نے #قبلہ_اول کو مسلمانوں کے لیے بند کردیا تھا اور 2 روز بعد سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے قبلہ اول کو دوبارہ کھول دیا تھا، تاہم فلسطینی مسلمان گزشتہ 5 روز سے ان نئی پابندیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور اسی تناظر میں آج فلسطینی قوم نے جمعہ غضب منانے کا اعلان کیا ہے۔

فلسطینی مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ تک پہنچنے سے روکنے کے لیے اسرائیلی فوج نے شہر کو چھاؤنی میں تبدیل کردیا ہے۔ جگہ جگہ ناکے لگائے گئے ہیں اور راہگیروں کی سخت تلاشی لی جارہی ہے۔ قابض حکومت نے شہر میں 6 ہزار اضافی پولیس اہل کار اور بڑی تعداد میں فوج کی اضافی نفری تعینات کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے فجر کے بعد ہی مسجد اقصیٰ کے دروازوں پر کئی روز سے دھرنا دینے والے مسلمانوں کو وہاں سے بے دخل کردیا ہے۔

قابض صہیونی انتظامیہ نے فلسطینی مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ پہنچنے سے روکنے کے لیے 50 سال سے کم عمر مردوں کے مسجد اقصیٰ اور شہر قدیم میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ جب کہ قبلہ اول جانے والے راستوں پر خواتین اور بزرگوں کو بھی سخت سیکورٹی نظام سے گزارا جا رہا ہے۔

شہر قدیم کے باہر مقبوضہ بیت المقدس کی شاہراہوں پر فلسطینی مردوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ٹولیوں کی صورت میں موجود ہے، جو کسی نہ کسی طرح مسجد اقصیٰ پہنچنے کے خواہش مند ہیں۔ دوسری جانب 1948ء کے مقبوضہ شہروں اور قصبات سے بھی ہزاروں فلسطینی نصرت کے لیے مسجد اقصیٰ پہنچنا چاہتے ہیں، تاہم اسرائیلی حکومت نے ان کی آمد روکنے کے لیے بھی سخت اقدامات کیے ہیں۔

ادھر بین الاقوامی علما کونسل نے ایک بیان میں پوری امت مسلمہ پر زور دیا ہے کہ وہ آج قبلہ اول کے ساتھ اظہار یکجہتی  اور اسرائیل پابندیوں کے خلاف دنیا کے کونے کونے میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور جلسے جلوس منعقد کریں۔

دوحہ میں قائم بین الاقوامی علما کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں عالم اسلام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دفاع قبلہ اول کے حوالے غیرمؤثر کردار اور مجرمانہ غفلت ترک کرے۔ بیان میں نصرت اقصیٰ کے لیے عالم گیر انقلابی تحریک چلانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے قبلہ اول میں نماز اور اذان پر پابندی بالکل ایسا ہی سنگین جرم ہے جیسے حرمین شریفین میں نماز اور اذان پر پابندی لگا دی جائے۔ قابض اور ناپاک صہیونیوں نے مسلمانوں کے کسی عام مقام کو بند نہیں کیا، بلکہ مسلمانوں کے پہلے قبلے اور تیسرے حرم کو بند کیا ہے۔

Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Join us on