Friday, July 21, 2017

اکیلی لڑکی، مدرسے کا طالب علم اور مسجد

اکیلی لڑکی، مدرسے کا طالب علم اور مسجد 

هندوستان میں ایک نواب کی خوبرو لڑکی فسادات کے دوران ایک مسجد میں پناه لینے داخل هوئ تو دیکها ایک نوجوان طالب علم درس و تدریس میں مشغول هے- بغیر کوئ آهٹ کۓ لڑکی چند ساعات خاموش کهڑی رهی اور پهر طالب علم کے قریب چلی گ‍ئ-  اسلامی رنگ میں رنگے  طالب علم نے جب ایک نوجوان لڑکی کو مسجد میں غیرشرعی حالت میں دیکها تو اسے مسجد سے نکلنے کو کہا جس سے لڑکی نے انکار کیا-
طالب علم نے غصه، منت و سماجت ہر حربه آزمایا مگر لڑکی نے الله کا واسطه دے کر کہا که باهر اس کی عزت کو خطره هے اور اسے رات یہیں گزارنے دیا جاۓ- اس پر طالب علم نے کہا که ایک شرط پر تم مسجد میں ٹهہر سکتی هو که ایک کونے میں پوری رات خاموش بیٹهی رهوگی اور کسی صورت میرے ساتهـ بات نہیں کروگی-

ادهر نوجوان طالب علم ہر تهوڑی دیر بعد اپنی ایک انگلی آگ پر رکهـتا اور پهر آه و سسکیاں لے کر هٹاتا- لڑکی رات بهر یه تماشا دیکهـتی رهی مگر کچهـ کہنے سے قاصر تهی- خدا خدا کرکے صبح هوئ- لڑکا ا‍ذان دینے اٹها اور لڑکی سے کہا که وه اب مسجد سے نکلے کیونکه نمازی آنے والے هوں گے تاکه کوئ بدگمانی نه کرے- لڑکی نے كہا ٹهیک مگر مجهے ایک بات بتادیں که رات بهر آپ وقفے وقفے سے اپنی انگلی آگ پر کیوں رکهتے تهے- طالب علم نے جواب دیا که رات بهر میں نفس اور شیطان اور الله کے احکامات کے مابین شش و پنج میں گزاری- جب کبهی شیطان کا غلبه هوتا تو میری خواهش ابهرتی که اکیلی لڑکی هے اپنی خواهش کی تکمیل کرلوں مگر جب دوزخ کا عذاب سامنے پاتا تو اپنی انگلی کو آگ پر رکهـ کر یه آزمایش کرتا که کیا اس آگ کو میں سہہ پاوں گا- مگر جلد هی احساس هوجاتا که ایک چهوٹی انگلی یه تهوڑا سا آگ برداشت نہیں کرسکتی تو جہنم کی آگ میرے پورے جسم کو کیسے بهسم کرے گی.

وقت گزرتا گیا - نواب زادی کیلۓ امیر سے امیر شخصیات  کے رشتے آنے لگے مگر وه هررشته ٹکراتی رهی. لڑکی کے والدین بہت پریشان تهے که آخر معامله کیا هے- بالاخر لڑکی زبان پر مدعا لے آئ که اس کی شادی صرف مذکوره طالب علم سے کی جاۓ ورنه وه کبهی شادی نہیں کرے گی-

نتیجه:  ایک رات نفس کو قابو رکهـ کر وه غریب طالب علم محل میں چلا گیا اگر هم پوری زندگی الله اور رسول کے طور طریقوں پر گزاریں تو خالق کائینات همیں جنت کے محلات میں کیا مقام دیں گے........ضرور سوچئے گا .......اور مجھے اپنے من کی آواز سے بھی ضرور مطلع کیجئے گا .......انتظار رھے گا آپکی آواز کا مجھے .....!

د عا گو : احتشام الحق

Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Join us on