Feham e Arabi course ,lesson no 18 ,Haroof e A'taf

سبق نمبر 18
فھم عربی کورس
حروف عطف :
یہ حروف اسماء ،افعال اور جملوں کو ملانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں
یہ اپنے ماقبل اور مابعد کو ایک حکم میں شریک کرنے کے لئے آتے ہیں ،ان کے ماقبل کو معطوف علیہ اور مابعد کو معطوف کہتے ہیں

یہ دس ہیں
(
١)۔۔۔۔۔۔واو (٢)۔۔۔۔۔۔ فائ(٣)۔۔۔۔۔۔ ثُمَّ (٤)۔۔۔۔۔۔اَوْ (٥)۔۔۔۔۔۔اَمْ (٦)۔۔۔۔۔۔ لاَ(٧)۔۔۔۔۔۔بَلْ(٨)۔۔۔۔۔۔لَکِنْ(٩)۔۔۔۔۔۔حَتّٰی (١٠)۔۔۔۔۔۔اِمَّا

(
١)۔۔۔۔۔۔واو
وَ :۔۔۔۔۔۔
ترجمہ :(اور )
یہ معطوف اور معطوف علیہ کو ایک حکم میں جمع کرنے کے لئے آتی ہے

مثال :۔۔۔۔۔۔
قَامَ زیدٌ وَعَمْرو
زید اور عمرو کھڑے ہوئے ۔
یعنی ان دونوں نے قیام کیا ہے ،مگر کون پہلے کھڑے ہوا ،کون بعد میں اس کا کچھ پتا نہیں ۔

توجہ طلب :
جب عمر کے بعد و لکھا ہو ،تو اسے عَ مَرْ پڑھتے ہیں ۔

حوالہ:
فَمَعْنَی الْوَاو الِاجْتِمَاع تَقول قَامَ زید وَعَمْرو أَی اجْتمع لَہما الْقیام وَلَا یدری کَیفَ تَرْتِیب حَالہمَا فِیہِ
(اللمع فی العربیۃ ،لابن جنی)

(
٢)۔۔۔۔۔۔فائ
فَ :۔۔۔۔۔۔
ترجمہ:(پس ،تو )
یہ کبھی ترتیب کے لیے ہوتی ہے

جیسے:
(فأزلہما الشَّیْطَان عَنْہَا فأخرجہما)
(الْبَقَرَۃ:
٣٦)
تفسیر الجلالین میں ہے :
(فَأَزَلَّہُمَا الشَّیْطَان) إبْلِیس أَذْہَبہُمَا وَفِی قِرَاء َۃ فَأَزَالہُمَا نَحَّاہُمَا (عَنْہَا) أَیْ الْجَنَّۃ بِأَنْ قَالَ لَہُمَا ہَلْ أَدُلّکُمَا عَلَی شَجَرَۃ الْخُلْد وَقَاسَمَہُمَا بِاَللَّہِ إنَّہُ لَہُمَا لَمِنْ النَّاصِحِینَ فَأَکَلَا مِنْہَا (فَأَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیہِ) مِنْ النَّعِیم

جیسے:
(فقد سَأَلُوا مُوسَی أکبر من ذَلِک فَقَالُوا)
(النِّسَاء :
١٥٣)
تفسیر الجلالین میں ہے:
(یَسْأَلک) یَا مُحَمَّد (أَہْل الْکِتَاب) الْیَہُود (أَنْ تُنَزِّل عَلَیْہِمْ کِتَابًا مِنْ السَّمَاء ) جُمْلَۃ کَمَا أُنْزِلَ عَلَی مُوسَی تَعَنُّتًا فَإِنْ اسْتَکْبَرْت ذَلِکَ (فَقَدْ سَأَلُوا) أَیْ آبَاؤُہُمْ (مُوسَی أَکْبَر) أَعْظَم (مِنْ ذَلِکَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّہ جَہْرَۃ) عِیَانًا (فَأَخَذَتْہُمْ الصَّاعِقَۃ) الْمَوْت عِقَابًا لَہُمْ

جیسے:
(وَنَادَی نُوحٌ رَبَّہُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِی مِنْ أَہْلِی وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْکَمُ الْحَاکِمِینَ )
(ہود:
٤٥)
تفسیر الجلالین میں ہے :
(وَنَادَی نُوح رَبّہ فَقَالَ رَبّ إنَّ ابْنِی) کَنْعَان (مِنْ أَہْلِی) وَقَدْ وَعَدْتنِی بِنَجَاتِہِمْ (وَإِنَّ وَعْدک الْحَقّ) الَّذِی لَا خُلْف فِیہِ (وَأَنْت أَحْکَم الْحَاکِمِینَ) أَعْلَمہمْ وَأَعْدَلہمْ


یہ کبھی تعقیب کے لیے ہوتی ہے
جیسے
جَاء َ زید فعمرو
زید آیا پھر فوراعمر بھی آیا (یعنی بغیر مہلت کے )

جیسے:
مثال :۔۔۔۔۔۔
دَخَلَ المُدَرِّسُ فَوَقَفَ التَّلَامِیْذُ
مدرس داخل ہوا تو طلباء کھڑے ہو گئے

جیسے
(تزوج فلَانٌ فولد لَہُ)
فلاں نے نکاح کیا توفورا اس کی اولاد ہوگئی ۔
توجہ طلب :
کیوں اس کے درمیان صرف مدت حمل ہی ہے ۔

اسی طرح قرآن کریم میں ہے :
(أنزل من السَّمَاء مَاء فَتُصْبِح الأَرْض مخضرۃ) (الْحَج:
٦٣)
کیا تم نہیں جانتے ،بے شک اللہ آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے ،تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے ۔

تفسیر الجلالین میں ہے :
(أَلَمْ تَرَ) تَعْلَم (أَنَّ اللَّہ أَنْزَلَ مِنْ السَّمَاء مَاء ) مَطَرًا (فَتُصْبِح الْأَرْض مُخْضَرَّۃ) بِالنَّبَاتِ وَہَذَا مِنْ أَثَر قُدْرَتہ


کبھی یہ سببیت کے لیے ہوتی ہے ،جبکہ جملہ یا صفت کا عطف ہو ۔
جیسے
(فوکزہ مُوسَی فَقضی عَلَیْہِ)
موسی (علیہ السلام )نے اسے مُکا مارا تو وہ فوت ہو گیا
(الْقَصَص:
١٥)

تفسیر الجلالین میں ہے :
(فَوَکَزَہُ مُوسَی) أَیْ ضَرَبَہُ بِجَمْعِ کَفّہ وَکَانَ شَدِید الْقُوَّۃ وَالْبَطْش (فَقَضَی عَلَیْہِ) قَتَلَہُ وَلَمْ یَکُنْ قَصَدَ قَتْلہ وَدَفَنَہُ فِی الرَّمْل


(فَتَلَقًّیء َادَمُ مِن رَّبِہِ کَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیہِ)
(الْبَقَرَۃ:
٣٧)

(لأَکِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ فَمَالِئُنَ مِنہَا البُطُونَ فَشَارِبُونَ عَلَیہِ مِنَ الحَمِیمِ)
(الْوَاقِعَۃ:
٥٢،٥٣،٥٤)

کبھی کبھی'' ف ''ثم کے معنی میں بھی استعمال ہوتی ہے ۔
قرآن کریم میں ہے :
ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاہُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَکَ اللَّہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِینَ
(المومنون :
١٤)

توجہ طلب :
ف :عطف مفصل علی المجمل کے لیے مختص ہے



(
٣)۔۔۔۔۔۔ثُمّ
ترجمہ :(پھر )
ثم مہلت اور تراخی کے لیے آتا ہے ،یعنی ایک کام کے ختم ہونے کے بعد دوسرے کام کے تاخیر سے کرنے پر دلالت کرتا ہے ،خواہ یہ تاخیر فی الزمان ہو ،خواہ تاخیر فی المرتبہ ۔

جیسے :
قَامَ زید ثمَّ عَمْرو
زید کھڑا ہوا پھر (تھوڑی دیر بعد )عَمر کھڑا ہوا

(
٤)۔۔۔۔۔۔اَوْ
ترجمہ :یا
یہ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے
١۔شک ٢۔تخییر

اگر جملہ خبریہ ہو تو شک کا معنی دیتا ہے
جیسے:
قَالُوا لَبِثْنَا یَوْمًا أَوْ بَعْضَ یَوْمٍ
(الکھف :
١٩)

کبھی یہ ابہام کے لیے ہوتا ہے :
جیسے
قُلْ مَنْ یَرْزُقُکُمْ مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللَّہُ وَإِنَّا أَوْ إِیَّاکُمْ لَعَلَی ہُدًی أَوْ فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ
(سبائ:
٢٤)

تفسیر الجلالین میں ہے
(قُلْ مَنْ یَرْزُقکُمْ مِنْ السَّمَاوَات) الْمَطَر (وَالْأَرْض) النَّبَات (قُلْ اللَّہ) إنْ لَمْ یَقُولُوہُ لَا جَوَاب غَیْرہ (وَإِنَّا أَوْ إیَّاکُمْ) أَیْ أَحَد الْفَرِیقَیْنِ (لَعَلَی ہُدًی أَوْ فِی ضَلَال مُبِین) بَیِّن فِی الْإِبْہَام تَلَطُّف بِہِمْ دَاعٍ إلَی الْإِیمَان إذَا وُفِّقُوا لَہُ


کبھی یہ تخییر کا معنی دیتا ہے :
جیسے
اقْرَأ فقہا أَو نَحوا
علم فقہ پڑھویا علم نحو


(
٥)۔۔۔۔۔۔اَمْ
ترجمہ:(یا)
اس کی دوقسمیں ہیں
١۔متصلہ ٢۔منقطعہ

ام متصلہ :
یہ دو مساوی امور میں سے ایک کی تعیین کے لئے ہمزہ استفہام کے بعد آتا ہے ،جو کلمہ ہمزہ استفہام کے بعد آتا ہے ،وہی اس کے بعد آتا ہے ،اگر ہمزہ کے بعد اسم ہو تو ''ام '' کے بعد بھی اسم آتا ہے ۔
جیسے :
اَ کتاب ٌ عندک َ ام قلم ٌ

اگر ہمزہ کے بعد فعل ہو تو اس کے بعد بھی فعل آتا ہے
جیسے :
اَنَجَحَ تلمیذٌ فی الامتحان ام رَسَب َ
طالب علم امتحان میں کامیاب ہوا یا ناکام

اس کا جواب نعم یا بلی سے نہیں ہوتا ،بلکہ ایک کو متعین کرنے کے ساتھ آتا ہے ،اسے ام معادلہ بھی کہتے ہیں ۔

ام منقطعہ :
وہ ہے ،جس سے پہلے ہمزہ استفہام نہیں ہوتا
یہ بل کی طرح اضراب کا معنی دیتا ہے ۔
جیسے :
اِنَّھا لَاِبِلٌ اَمْ شَاۃ ٌ
بے شک وہ اونٹ بلکہ بکری ہے


(
٦)۔۔۔۔۔۔لَا
ترجمہ :(نہیں )
یہ معطوف کے حکم کی نفی کرتا ہے

لا کا استعمال درج ذیل طریقے سے ہوتا ہے

امر کے بعد لا سے عطف کیا جاتا ہے
جیسے:
اضْرِب زیدا لَا عمرا

دعا
جیسے :
غفر اللہ لزید لَا لبکر

تحضیض
جیسے :
ہلا تضرب زیدا لَا عمرا

ایجاب
جیسے:
جَاء َ زید لَا عَمْرو
و
زید قَائِم لَا عَمْرو أَو لَا قَاعد
وَیقوم زید لَا عَمْرو


(
٧)۔۔۔۔۔۔بَلْ
ترجمہ :(بلکہ )
یہ اضراب کے لیے آتا ہے
جیسے :
اِشْتَرَیْتُ کتابا ًبَل ْ قَلَماً
میں نے کتاب بلکہ قلم خریدی

(
٨)۔۔۔۔۔۔لَکِنْ
ترجمہ :(لیکن ،بلکہ )
یہ استدراک کے لیے آتا ہے ،یعنی سابقہ جملہ سے پیدا شدہ وہم کے ازالہ کے لئے آتا ہے ۔
جیسے :
مَا حَضَرَ الوَلَدُ لَکِنْ اُسْتَاذُہ
بچہ حاضر نہیں ہوا لیکن اس کا استاد

اگر لکن کے ساتھ جملہ ملا ہو ،تو یہ حروف عطف سے نہیں ہوتا ،بلکہ حرف ابتدا ء ہوتا ہے ،اگرچہ اس کے ساتھ واو ہو یا نہ ہو ۔
جیسے :
واو کے ساتھ مثال :
(وَلَکِن کَانُوا ہم الظَّالِمین)
(الزخرف:
٧٦)

بغیر واو کے مثال :
إنَّ ابْنَ ورقَاء لَا تُخْشَی بوادِرُہ ... لَکِنْ وقائِعُہُ فِی الْحَرْب تُنْتَظَرُ

جب لکن کے بعد مفر د ہو تو یہ شرط ہے کہ اس سے پہلے نفی یا نھی ہو ۔
جیسے :
نفی کی مثال یہ ہے :
مَا قَامَ زید لَکِن عَمْرو

نھی کی مثال یہ ہے :
لَا تضرب زیدا لَکِن عمرا



(
٩)۔۔۔۔۔۔حَتّٰی
ترجمہ :(حتی کہ ،یہاں تک کہ )
یہ واو کی طرح مطلق جمع کے لیے آتا ہے،بعض نے کہا یہ ترتیب کے لیے آتا ہے۔
حتی سے عطف اسی صورت میں کیا جاتا ہے ،جبکہ وہ معطوف علیہ کا بعض ہو یا اس کے بعض کی طرح ہو ۔
چاہے وہ ان کے افضل ترین لوگ ہوں
جیسے :
مَاتَ النَّاس حَتَّی الْأَنْبِیَاء
لوگ فوت ہوئے ،حتی کہ انبیاء کرام بھی

یا انکے کم تر لوگ ہوں
جیسے :
قدم الْحجَّاج حَتَّی المشاۃ
حجاج آئے حتی کہ پیدل بھی

یا انکے بعض کی طرح ہو ں
جیسے :
ألْقی الصَّحِیفَۃ کی یُخَفِّف رَحْلَہ ... والزَّادَ حَتَّی نَعْلہ ألْقاہَا
اس نے صحیفہ پھینک دیا ،تاکہ سواری اور زاد میں تخیف ہو جائے ،حتی کہ اس نے اپنی چپل بھی پھینک دی ۔
توجہ طلب :
غور فرمائیں ،چپل صحیفے اورزادکا بعض نہیں ہے ،لیکن بعض کی طرح ہے ،یعنی اس نے ہر وہ چیز پھینک دی ،جس سے سواری ہلکی ہو سکتی تھی ۔

(
١٠)۔۔۔۔۔۔اِمَّا
ترجمہ :(خواہ،یا،وغیرہ)
یہ بھی '' اَو ْ ' ' ہی طرح مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے
شک کے لیے:
جیسے :
جَاء َ إِمَّا زید وَإِمَّا عَمْرو

ابہام کے لیے:
جیسے
وَء َاخَرُونَ مُرجَونَ لأَمرِ اللہِ إِمَّا یُعَذِبُہُم وَإِمَّا یَتُوبُ عَلَیہِم
(التَّوْبَۃ:
١٠٦)
تفسیر الجلالین میں ہے :
(وآخرون) من المتخلفین (مرجون) بِالْہَمْزِ وَتَرْکہ مُؤَخَّرُونَ عَنْ التَّوْبَۃ (لِأَمْرِ اللَّہ) فِیہِمْ بِمَا یَشَاء (إمَّا یُعَذِّبہُمْ) بِأَنْ یُمِیتہُمْ بِلَا تَوْبَۃ (وَإِمَّا یَتُوب عَلَیْہِمْ وَاَللَّہ عَلِیم) بِخَلْقِہِ (حَکِیم) فِی صُنْعہ بِہِمْ وَہُمْ الثَّلَاثَۃ الْآتُونَ بَعْد مَرَارَۃ بْن الرَّبِیع وَکَعْب بْن مَالِک وَہِلَال بْن أُمَیَّۃ تَخَلَّفُوا کَسَلًا وَمَیْلًا إلَی الدَّعَۃ لَا نِفَاقًا وَلَمْ یَعْتَذِرُوا إلَی النَّبِیّ صَلَّی اللَّہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَغَیْرِہِمْ فَوَقَفَ أَمْرہمْ خَمْسِینَ لَیْلَۃ وَہَجَرَہُمْ النَّاس حَتَّی نَزَلَتْ توبتہم بعد


تخییر کے لیے :
جیسے:
إِمَّا أَن تعذب وَإِمَّا أَن تتَّخذ فیہم حسنا
(الْکَہْف:
٨١)
تفسیر الجلالین میں ہے :
(قُلْنَا یَا ذَا الْقَرْنَیْنِ) بِإِلْہَامٍ (إمَّا أَنْ تُعَذِّب) الْقَوْم بِالْقَتْلِ (وَإِمَّا أَنْ تَتَّخِذ فِیہِمْ حُسْنًا) بِالْأَسْرِ


اباحت کے لیے :
جیسےـ:
اقْرَأ إِمَّا فقہا وَإِمَّا نَحوا

تفصیل کے لیے:

إِنَّا ہَدَیْنَاہُ السَّبِیلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُورًا
(الْإِنْسَان:
٣)
تفسیر الجلالین میں ہے :
(إنا ہدیناہ السبیل) بینا لہ طریق الہدی ببعث الرسل (إما شاکرا) أی مؤمنا (وإما کفورا) حالان من المفعول أی بینا لہ فی حال شکرہ أو کفرہ المقدرۃ
وإما لتفصیل الأحوال

طالب دعا :
احسان اللہ کیانی
٣٠ جون ٢٠١٧