کیسی تقریر جائز ہے اور کیسی ممنوع ہے؟

کیسی تقریر جائز ہے اور کیسی ممنوع ہے؟
منبر پر بیٹھ کر وعظ و نصیحت کرنا ،انبیا علیہم السلام کی سنت ہے
اور اگر تذکیر و وعظ سے مال و جاہ مقصود ہو تو یہ یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے۔
(درمختار)

وعظ کہنے میں بے اصل باتیں بیان کردینا
مثلاً
احادیث میں اپنی طرف سے کچھ جملے ملا دینا
یا
ان میں کچھ ایسی کمی کردینا جس سے حدیث کے معنی بگڑ جائیں
جیسا کہ اس زمانہ کے اکثر مقررین کی تقریروں میں ایسی باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں
کہ مجمع پر اثر ڈالنے کے لیے ایسی حرکتیں کر ڈالتے ہیں ایسی وعظ گوئی ممنوع ہے۔

اسی طرح یہ بھی ممنوع ہے کہ
دوسروں کو نصیحت کرتا ہے اور خود انھیں باتوں میں آلودہ ہے
اس کو سب سے پہلے اپنی ذات کو نصیحت کرنی چاہیے
اور
اگر واعظ غلط باتیں بیان نہیں کرتا
اور نہ اس قسم کی کمی بیشی کرتا ہے
بلکہ الفاظ وتقریر میں لطافت اور شستگی کا خیال رکھتا ہے تاکہ اثر اچھا پڑے لوگوں پر رقت طاری ہو
اور قرآن و حدیث کے فوائد اور نکات کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتا ہے تو
یہ اچھی چیز ہے۔
(درمختار)

از
#احسان_اللہ کیانی