تازہ ترین
کام جاری ہے...
Thursday, June 15, 2017

کھانا کب اور کتنا..؟؟

June 15, 2017

کھانا کب اور کتنا..؟؟
بھوک سے کم کھانا چاہیے اور پوری بھوک بھر کر کھانا کھا لینا مباح ہے
یعنی نہ ثواب ہے نہ گناہ
کیونکہ اس کا بھی صحیح مقصد ہوسکتا ہے کہ طاقت زیادہ ہوگی
اگر بھوک سے کچھ زیادہ اس لیے کھالیا کہ
کل کا روزہ اچھی طرح رکھ سکے گا،روزہ میں کمزوری نہیں پیدا ہوگی ،توحرج نہیں
جبکہ
اتنی ہی زیادتی ہو جس سے معدہ خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو
اور معلوم ہے کہ زیادہ نہ کھایا تو کمزوری ہوگی، دوسرے کاموں میں دقت ہوگی۔
یوہیں اگر مہمان کے ساتھ کھا رہا ہے اور معلوم ہے کہ یہ ہاتھ روک دے گا، تو مہمان شرما جائے گا اور سیر ہو کر نہ کھائے گا تو اس صورت میں بھی کچھ زیادہ کھالینے کی اجازت ہے۔
(درمختار)

سیر ہو کر کھانا اس لیے کہ نوافل کثرت سے پڑھ سکے گا اور پڑھنے پڑھانے میں کمزوری پیدا نہ ہوگی، اچھی طرح اس کام کو انجام دے سکے گا، یہ مندوب ہے

اور سیری سے زیادہ کھایا ،مگر اتنا زیادہ نہیں کہ شکم خراب ہوجائے یہ مکروہ ہے۔
عبادت گزار شخص کو یہ اختیار ہے کہ بقدر مباح تناول کرے یا
بقدر مندوب
مگر اسے یہ نیت کرنی چاہیے کہ اس کے لیے کھاتا ہوں
کہ عبادت کی قوت پیدا ہو
کیونکہ اس نیت سے کھانا ایک قسم کی طاعت ہے۔
کھانے سے اس کا مقصود تلذذ و تنعم نہ ہو کہ یہ بری صفت ہے۔ قرآن مجید میں کفار کی صفت یہ بیان کی گئی ، کہ کھانے سے ان کا مقصود تمتع و تنعم ہوتا ہے
اور حدیث میں کثرت خوری کفار کی صفت بتائی گئی۔  (ردالمحتار)

  ریاضت و مجاہدہ میں ایسی تقلیل غذا کہ عبادت مفروضہ کی ادا میں ضعف پیدا ہوجائے،
مثلاً
اتنا کمزور ہوگیا کہ کھڑا ہو کر نماز نہ پڑھ سکے گا ،یہ ناجائز ہے
اور اگر اس حد کی کمزوری نہ پیدا ہو تو حرج نہیں۔  (درمختار)

زیادہ کھالیا اس لیے کہ قے کر ڈالے گا اور یہ صور ت اس کے لیے مفید ہو تو حرج نہیں
کیونکہ بعض لوگوں کے لیے یہ طریقہ نافع ہوتا ہے۔  (ردالمحتار)
طرح طرح کے میوے کھانے میں حرج نہیں، اگرچہ افضل یہ ہے کہ ایسا نہ کرے۔
(درمختار)

طالب دعا:
#احسان_اللہ کیانی

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں