تازہ ترین
کام جاری ہے...
Tuesday, June 6, 2017

اخوان المسلمون کا تعارف

June 06, 2017

اخوان المسلمون  کے بانی حسن البنا نے ۱۹۲۸ میں اخوان المسلمون کی بنیاد رکھی
جناب محترم مرشد حسن البنا ۱۴اکتوبر ۱۹۰۶ میں محمودیہ مصر میں پیدا ہوۓ
مرشد حسن البنا نے بچپن ہی میں قرآن حفظ کرلیا اور ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی اور سولہ سال کی عمر میں مرشدحسن البنا نے قاہرہ کے دارلعلوم میں داخل ہوۓ جہاں سے انہوں نے ۱۹۲۷ میں سند حاصل کی
حسن البنا نے ۱۹۲۸ میں شہر اسماعلیہ میں جہاں وہ تعلیمی سند حاصل کرنے کے بعد استاد مقرر ہوگئے اور اخوان المسلمون کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی -
‏ ۱۹۳۳ میں اخوان المسلمون کا صدر دفتر اسماعیلیہ سے قاہرہ منتقل کردیا گیا
مرشد استاد حسن البنا نے اعلان کیا کہ اسلام کا پیغام عالمگیر ہے اور یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے - جلد ہی مصر کے طول و عرض میں اخوان المسلمون کی شاخیں ملک بھر میں قائم کردی گئی ، طلبہ اور مزدوروں کو منظم کیا گیا اور عورتوں کی تنظیم کے لیے"اخوات المسلمین" کے نام سے علیحدہ شعبہ قائم کیا- اخوان المسلمون نے مدرسے بھی خوب قائم کیئے اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی حصہ لیا انہوں نے ایک ایسا نظام ترتیب دیا جس کے تحت اخوان المسلمون کے کارکن بہترین قسم کے مسلمان بن سکیں
‏ مرشدحسن البنا نے اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا
انہوں نے کہا کہ پچاس سال سے مصر میں غیر اسلامی آئین آزماۓ جارہے ہیں جوکہ سخت ناکام ہوۓ ہیں - لہذا اب اسلامی شریعت کا تجربہ کیا جانا چاہیئے،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کی موجودہ دستور اور قانون کے ماخذ کتاب و سنت نہیں بلکہ یورپ کے ممالک کے دستور اور قوانین ہیں جو اسلام سے متصادم ہیں
اخوان المسلمون کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ ہوتا جارہا تھا اور دو سال کے اندر اندر اخوان کے ارکان کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی - ہمدردوں کی تعداد اس سے دوگنی ہوچکی تھی
‏ اخوان کی روز بروز مقبولیت سے اگر ایک طرف شاہ فاروق اول کو خطرہ محسوس کرنے لگا تو دوسری طرف برطانیہ نے مصر پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اخوان المسلمون پر پابندی لگائی جاۓ
چنانچہ ۹دسمبر ۱۹۴۸ کو مصری حکومت نے اخوان المسلموں کو خلاف قانون قرار دے دیا اور کئی ہزار مرد و خواتین اخوانی کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا
تین ہفتے بعد وزیراعظم نقراشی پاشا کو ایک نوجوان نے قتل کردیا ‏
مرشد حسن البنا کو آخر تک گرفتار نہیں کیا گیا اور بلآخر ۱۲‎فروری ۱۹۴۹ کی شب قاہرہ میں اس عظیم القدر رہنما حسن البنا کو ایک سازش کے تحت رات کی تاریکی میں گولی مار کر شہید کردیا گیا شھادت کے وقت حسن البنا کی عمر صرف ۴۳ سال تھی- ان کے جنازے میں عوام کی شرکت کی پابندی لگادی گئی گھر کی خواتین نے جنازے کو کندھا دے کر قبرستان پہنچایا ظلم کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے حسن البنا کی شہادت کے بعد سید قطب شہید ‏‎ ‎کو پھانسی دے کر شہید کیا گیا
قیادت و کارکنان نے ہمت نہ ہاری اپنا کام جاری رکھا اسی جدوجہد کے نتیجے میں صدارتی انتخابات میں مصری عوام نے ایک بار پھر محمدمرسی کو باون فیصد ووٹ دے کر صدر مصر منتخب کیا لیکن عالمی دہشت گردوں نے ایک ڈکٹیٹر جنرل سیسی کے ذریعے منتخب صدر محمدمرسی کی حکومت پر شب خون مار کر حکومت کا تختہ الٹ دیا اخوان المسلمون کے مرشد محمدبدیع اور صدر محمد مرسی اور لاکھوں کارکنان اخوان کو عقوبت خانوں و جیلوں میں ڈال دیا گیا ظلم و بربریت کا سلسلہ تاحال جاری ہے
اے اللہ کریم مصر میں اخوان المسلمون کی ہر ہر طرف سے مدد و نصرت فرما ظلم کے دور کا خاتمہ فرما آمین

تحریر
از
عبدالقیوم جے آئی

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں