تازہ ترین
کام جاری ہے...
Wednesday, June 21, 2017

A short Story Bhora Saleem

June 21, 2017

بوڑھا سلیم:
میں تمہیں کتنی بار سمجھا چکا ہوں
اپنی مجلس ٹھیک کر لو
یہ تمہارے دوست مجھے ایک نظر نہیں بہاتے
پچپن سالہ بوڑھے سلیم نے انتھائی غصے میں اپنے بیس سالہ بیٹے سے کہا:

ابو !
وہ بھت اچھے لڑکے ہیں،ان میں سے ایک حافظ قرآن بھی ہے
بیٹے نے دَبی آواز میں جواب دیا

بس !
میں تمہیں آخری وارننگ دے رہا ہوں
اگر میں نے دوبارہ تمہیں ان کے ساتھ دیکھا ،تو بہت برا ہوگا.

جب چند دن بعد سلیم نے اپنے بیٹے کو تیسری بار ان ہی دوستوں کے ساتھ دیکھا
تو آگ بگولہ ہوگیا
وہ پہلے بھی غصے کا کافی تیز تھا لیکن اب بلیڈ پریشر نے  اس کے غصے کو مزید تیز تلوار جیسا بنا دیا تھا
سلیم کی طبعیت بھی بہت انتقامی تھی

وہ بیٹے کو سخت سے سخت سزا دینا چاہتا تھا
کافی دن سوچتا رہا
لیکن کوئی تدبیر ذہن میں نہ آئی

بالآخر اس نے اپنے ایک مکار دوست سے مشھورہ لیا

اس نے کہا:
انتقام تو ایسا ہے کہ اسکی سات نسلیں یاد رکھیں گی،مگر شاید تم اس پر عمل نہ کر پاؤ

سلیم نے کہا :تم میری طبیعت سے واقف ہو
میں باپ کو بھی معاف نہیں کرتا

اچھا تم ایسے کرو،اسے اپنی جائیداد سے ایک کوڑی بھی نہ دو

سلیم کو یہ تجویز بہت اچھی لگی،اس نے بیٹے کو بتائے بغیر ساری جائیداد بیچی اور بیرون ملک شفٹ ہوگیا.

کچھ عرصے بعد خبر ملی کہ سلیم کا بیرون ملک انتقال  ہوگیا ہے،لیکن مرنے سے پہلے اس نے اپنی ساری جائیداد ایک ٹرسٹ کے نام کردی تھی.

چند دن بعد بیٹا کنگال ہوکر کوڑی کوڑی کا محتاج ہوگیا

ایک دن اس نے یہ ساری صورت حال اپنے دوستوں کو بتائی،تو ایک دوست نے کہا
کاش تمہارے ابو نے یہ حدیث پڑھی ہوتی
حدیث شریف:
جو شخص اپنے وارث کو میراث سے محروم کرے گا،اللہ تعالی اس کو جنت سے محروم کر دے گا.
(مشکوۃ المصابیح)

تحریر:

#احسان_اللہ کیانی

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں