تازہ ترین
کام جاری ہے...
Sunday, June 11, 2017

حضرت ابو سلمہ کا واقعہ

June 11, 2017


حضرت ابو سلمہ کا واقعہ
جب قبیلے والوں کو خبر ملی کہ ابو سلمہ اپنی بیوی اور بچے کے ہمراہ مدینہ منورہ کی طرف ہجر ت کر رہے ہیں ،تو ان کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے اور کہا :
اے ابوسلمہ!
اگر تم ہماری مرض کے خلاف اپنا وطن چھوڑ کر جانا چاہتے ہو ،تو ہم تمہیں مجبور نہیں کریں گے ،تم جاؤ،لیکن تم ہماری بچی ام سلمہ کو ساتھ نہیں لے جا سکتے
یہ کہہ کر انھوں نے ابو سلمہ کے ہاتھ سے اونٹنی کی نکیل چھین لی اور ام سلمہ کو اپنے ساتھ واپس لے گئے
ابو سلمہ کے خاندان کو جب اس بات کو علم ہوا ،تو وہ آئے ،اورانتہائی غصہ میں کہا
اگر تم اپنی بیٹی ،ابو سلمہ کے ساتھ بھیجنے پرر ضا مند نہیں ہو ،تو پھر ہم بھی تمہیں اس بات کی اجازت نہیں دیں گے ،کہ تم ہمارا (شیر خوار )بیٹا سلمہ اپنے ساتھ لے جاؤ
ام سلمہ فرماتی ہیں :
انہوں نے میری گود سے میرا لخت جگر چھین لیا ،اس کھینچا تانی میں میرے ننھے بیٹے کا بازو اتر گیا
میرے شوہر ابو سلمہ کا فراق ہی میرے لیے بہت اذیت ناک تھا ،اب بیٹا بھی مجھ سے چھین لیا گیا اور اس کی جدائی کاغم بھی مجھے سہنا پڑا ،
اس طرح میرا سارا کنبہ بکھر گیا ،میں الگ ،میرا بیٹا الگ اور میرا خاوند سب ایک دوسرے سے جدا کر دئیے گئے۔
میں ہر صبح'' ابطخ'' کے مقام پر پہنچتی ،جہاں میرا سارا کنبہ بکھرا تھا ،وہاں بیٹھ کر دن بھرآنسو بہاتی رہتی ،اس طرح تقریبا ایک سال گزرگیا ،
ایک روز میں وہاں بیٹھی رو رہی تھی ،کہ میرا چچا زاد بھائی میرے قریب سے گزرا ،اس نے جب میری حالت زار دیکھی ،تو اس کا دل پسیج گیا ،
اس نے قبیلہ والوں کو ملامت کی کہ تمہیں اس مسکینہ پر رحم نہیں آتا ،تم نے اس سے اسکے خاوند اور اسکے بچے کو جدا کر دیا ہے
میرے خاندان والوں نے مجھے کہا ،اگر تم اپنے خاوند کے پاس جانا چاہتی ہو تو چلی جاؤ ،ہماری طرف سے اجازت ہے
ابو سلمہ کے رشتہ داروں کو اس اجازت کا پتا چلا ،تو انہوںنے مجھے میرا بیٹا واپس کر دیا
میں نے اپنے اونٹ پر کجاواڈالا ،اس پر سوار ہو گئی ،پھر اپنے بیٹے کو اپنی گود میں بٹھا لیا ،اور تنہا مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہو گی ۔
(ماخوذ  از   السیرۃ النبویہ لابن کثیر ،ملخصا )

سبق:
(
١)۔۔۔۔۔۔دین کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے ،چاہے وہ بیوی ،بچوں کی جدائی کی صورت میں ہو ۔
(
٢)۔۔۔۔۔۔دین کیلئے انسان جو دکھ بھی برداشت کرتا ہے ،وہ زیادہ دیر نہیں رہتا،جلدہی اللہ تعالی اس کو رفع فرمادیتا ہے ،جیسے ایک سال بعد ابو سلمہ کو انکے بیوی ،بچے واپس مل گئے تھے ۔
(
٣)۔۔۔۔۔۔جب کوئی غلط کام ہورہا ہو ،تو ضرور لوگوں کو اس سے روکنے کی کوشش کرنی چاہیے ،جیسے ام سلمہ کے چچازاد بھائی نے لوگوں کو ملامت کی ،تو انھوں نے ام سلمہ کو شوہر کے پاس جانے کی اجازت دے دی ۔

تحریر :
احسان اللہ کیانی
١٢جون ٢٠١٧


0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں