تازہ ترین
کام جاری ہے...
Saturday, June 17, 2017

بطور دوا کیا کیا استعمال کرنا حرام ہے..؟

June 17, 2017

بطور دوا کیا کیا استعمال کرنا حرام ہے..؟
انسان کے کسی جز کو دوا کے طور پر استعمال کرنا حرام ہے۔
خنزیر کے بال یا ہڈی یا کسی جز کو دواء ً استعمال کرنا حرام ہے۔
دوسرے جانوروں کی ہڈیاں دوا میں استعمال کی جاسکتی ہیں
بشرطیکہ
ذبیحہ کی ہڈیاں ہوں
یا
خشک ہوں کہ
اس میں رطوبت باقی نہ ہو۔
ہڈیاں اگر ایسی دوا میں ڈالی گئی ہوں ،جو کھائی جائے گی تو یہ ضروری ہے کہ
ایسے جانور کی ہڈی ہو ،جس کا کھانا حلال ہے اور ذبح بھی کردیا ہو
مردار کی ہڈی کھانے میں استعمال نہیں کی جاسکتی۔
(عالمگیری)

حرام چیزوں کو دوا کے طور پر بھی استعمال کرنا ناجائز ہے، کیونکہ حدیث شریف میں ہے
''جو چیزیں حرام ہیں ،ان میں ﷲتعالیٰ نے شفا نہیں رکھی ہے۔
(معجم کبیر ،امام طبرانی)

طالب دعا
احسان اللہ کیانی

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں