طالب علم کی نیت یہ ہونی چاہیے

طالب علم کی نیت:
علم کی طلب اگر اچھی نیت سے ہو تو ہر عمل خیر سے یہ بہتر ہے
کیونکہ
اس کا نفع سب سے زیادہ ہے
مگر
یہ ضروری ہے کہ فرائض کی انجام دہی میں خلل و نقصان نہ ہو۔
اچھی نیت کا یہ مطلب ہے کہ
رضائے الٰہی اور آخرت کے لیے علم سیکھے۔
طلبِ دنیا و طلب جاہ نہ ہو
اور طالب کا اگر مقصد یہ ہو کہ
میں اپنے سے جہالت کو دور کروں اور مخلوق کو نفع پہنچاؤں یا پڑھنے سے مقصود علم کا احیا ہے
مثلاً
لوگوں نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے میں بھی نہ پڑھوں، تو علم مٹ جائے گا
یہ نیتیں بھی اچھی ہیں
اور اگر تصحیح نیت پر قادر نہ ہو جب بھی نہ پڑھنے سے پڑھنااچھا ہے۔
(عالمگیری)

از
#احسان_اللہ کیانی