غلامی کیا ہوتی ہے

غلامی کیا ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
آج ایک امریکی مائیکل ڈی رائٹ شراب کے نشے میں دھت جعلی نمبر پلیٹ لگی گاڑی میں اسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ آیا۔ اسے کے ساتھ دو گوری خواتین بھی تھیں۔ اسنے طاقت اور شراب کے نشے میں مست ہو کر اپنی لینڈ کروزر سے گاڑیوں کو ٹکریں مارنا شروع کر دیا۔
پورے علاقے میں ہڑبونگ مچ گئی۔ لوگ جان بچانے کے لئے بھاگنا شروع ہوگئے۔ عورتیں اور بچے خوف سے چیخنے لگے۔ کئی لوگ اس اثنا میں زخمی ہوئے۔ پورا امریکی فلموں والا ماحول بن گیا۔ پولیس کی گاڑی سمیت نصف درجن گاڑیاں مکمل تباہ ہو گئیں۔ بلآخر ٹکریں مارنے کے دوران ہی امریکی کی گاڑی بند ہو گئی تو لوگوں نے اسے گھیر لیا۔ لیکن پولیس فورا موقعہ پر پہنچی اور امریکی کو گھیرنے والے پاکستانیوں کو گالیاں اور دھکے دے کر منتشر کر دیا۔
اور امریکی سے درخواست کی کہ لوگ اسے نقصان پہنچا سکتے، وہ یہاں سے نکل جائے۔ اسلام آباد پولیس نے اپنے حصار میں اسے مارکیٹ سے نکالا اور کچھ دور جا کر اسے باحفاظت روانہ کر دیا گیا۔
جن لوگوں کی گاڑیاں امریکی نے توڑیں تھیں وہ تھانہ آبپارہ پہنچے تو انہیں ٹکا سا جواب ملا کہ امریکی سفارتخانے کا ملازم تھا، ہم سفارتی استشنی کی وجہ سے اس کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد کی سڑکوں پر امریکیوں کی بدمعاشی تو معمول کی بات ہے۔ اب تک یہ کئی راہ چلتے پاکستانیوں کو کچل کر مار چکے ہیں۔ لیکن کسی کے خلاف آج تک مقدمہ تک درج نہیں ہوا۔
سمجھ نہیں آتا کہ سفارتخانے کے اہلکاروں کو میزبان ملک کی عوام کے جان و مال سے کھیلنے کا استشنی کس قانون کی روح سے حاصل ہوتا ہے۔
کاش ہم غلام نہ ہوتے۔
تحریر : صحافی مہتاب عزیز
_________________________