بچے کو کب،کیسے اور کتنا مار سکتا ہے..؟؟

بچے کو کب،کیسے اور کتنا مار سکتا ہے..؟؟
اپنے بچہ کو قرآن و علم پڑھنے پر مجبور کرسکتا ہے،
یتیم بچہ کو اس چیز پر مار سکتا ہے ،جس پر اپنے بچہ کو مارتا ہے۔
(ردالمحتار)
کیونکہ اگر یتیم بچہ کو مطلق العنان چھوڑ دیا جائے، تو علم و ادب سے بالکل کورا رہ جائے گا
اور عموماً بچے بغیر تنبیہ قابو میں نہیں آتے اور جب تک انھیں خوف نہ ہو کہنا نہیں مانتے
مگر مارنے کا مقصد صحیح ہونا ضروری ہے ،ایسے ہی موقع پر فرمایا گیا
قرآن کریم میں ہے:
(وَاللہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ؕ)
''اﷲ کو معلوم ہے کہ کون مفسد ہے اور کون مصلح۔''
(القرآن)
اسی طرح اساتذہ بھی بچوں کو نہ پڑھنے یا شرارت کرنے پر سزائیں دے سکتے ہیں،
مگر وہ کلیہ ان کے پیش نظر بھی ہونا چاہیے کہ
اپنا بچہ ہوتا تو اسے بھی اتنی ہی سزا دیتے،
بلکہ ظاہر تو یہ ہے کہ ہر شخص کو اپنے بچہ کی تربیت و تعلیم کا جتنا خیال ہوتا ہے، دوسرے کا اتنا خیال نہیں ہوتا ،تو اگر اس کام پر اپنے بچہ کو نہ مارا
یا
کم مارا
اور دوسرے بچہ کو زیادہ مارا
تو معلوم ہوا کہ
یہ مارنا محض غصہ اتارنے کے لیے ہے سدھارنا مقصود نہیں، ورنہ اپنے بچہ کے سدھارنے کا زیادہ خیال ہوتا ہے.

از
#احسان_اللہ کیانی