تازہ ترین
کام جاری ہے...
Thursday, June 15, 2017

بدر کے  کمانڈر انچیف کا فیصلہ:

June 15, 2017

بدر کے  کمانڈر انچیف کا فیصلہ:
بدر کے دن مسلمانون کے پاس صرف ایک گھوڑا اور اسی اونٹ تھے،باقی مجاھدین پیدل تھے.
نبی کریم علیہ السلام نے ایسے نہیں کیا کہ
جس کے پاس سواری کا اونٹ ہے وہ تو اپنے اونٹ پر سوار ہو جائے اور باقی پا پیادہ سفر کریں
بلکہ
حضور نے تین صحابہ کے لئے ایک ایک اونٹ مقرر فرما دیا ،جس پر وہ باری باری سوار ہوا کریں گے
حضور نے اپنے اونٹ کو بھی اپنی ذات کے لئے مختص نہیں فرمایا
حالانکہ آپ امت کے نبی اور امام  تھے اور لشکر کے کمانڈر انچیف تھے ،اگر آپ اپنی سواری کو اپنے لیے مختص فرما لیتے،تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا

لیکن
جو نبی انسانی مساوات کی تعلیم دینے کے لیے تشریف لایا تھا،اگر وہ اپنے حسن عمل سے مساوات کا درس نہ دیتا تو کون دیتا

حضور نے اپنے اونٹ کے لیے تین آدمی تجویز فرمائے،حضور خود ،حضرت علی اور حضرت ابو لبابہ
جب ابولبابہ کو مدینہ کا والی بنا کر واپس بھیج دیا ،تو مرثد بن ابی مرثد کو اپنے ساتھ شامل کر لیا
(ماخوذ از ضیاء النبی)

سبق:
اول:
انسان کے پاس اگر کوئی اونچا عہدہ بھی ہو تو اسے عام لوگوں کی طرح ہی رہنے کی کوشش کرنی چاہیے.

ثانی:
ہر معاملہ میں ایسا فیصلہ کرنا چاہیے،جس میں غریبوں کو احساس کمتری محسوس نہ ہو،جیسے حضور نے ہر اونٹ کے لیے تین آدمی مقرر فرما دیے.

طالب دعا:
#احسان_اللہ کیانی

  #Ghazwa_Badar #17Ramzan

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں