گستاخ رسول واجب القتل ہے لیکن ہمارا کردار

ایک صاحب نے یہ طنزیہ تحریر بھیجی،میں نے پڑھ کر اس کے جواب میں کیا لکھا ،وہ تحریر کے آخر میں ہے

مسجد کے سپیکر پر مولوی صاحب نے اعلان فرمایا کہ
’’فلاں شخص  نے توہین ِ رسالت کر دی ہے ۔ اسے جہنم واصل کرنے کے لیے جلد پہنچو‘‘
یہ سنتے ہی
دودھ میں پانی ملاتا ہوا بھولا گجر،
مرچوں میں پسی ہوئی اینٹیں ملاتا ہوا علم دین پنساری ،
صاحب تک رشوت پہنچانے کے لیے رقم لیتا ہوا کسٹم کا بابو,
ساری رات  فحش فلمیں دیکھ کر ابھی ابھی سونے والا نوجوان، 
موٹر سائیکل سوار سے رشوت لیتا ہوا کانٹیبل محمد نواز ،
ساری رات دھندہ کرکے ابھی ابھی سونے والا ہیرا منڈی کا دلال ساقا کنجر ،
بطور مٹن گدھے کا گوشت بیچتا ہوا ماجھا قصائی ،
میٹر میں کم بجلی کی کھپت دکھانے کے لیے نذرانے وصول کرتا ہوا میٹر ریڈر غلام رسول ۔

سب فورا اپنے کام چھوڑ چھاڑ کر اپنے ہاتھوں میں ڈنڈے ، پتھر ، اینٹیں اور منہ میں گالیاں لیے مولوی کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے دوڑے تاکہ گستاخ کو جہنم واصل کرکے اپنے لیے جنت کمائیں۔

___________________________

جواب

ایک زانی کی بہن کے ساتھ کوئی زنا کر رہا تھا ،
زانی اسے دیکھ کر خاموشی سے گزر گیا
کیونکہ اس نے سوچا
میں خود جو اچھا نہیں ہوں، بہن کی عزت کیا بچاؤں.

از
#احسان_اللہ کیانی