تازہ ترین
کام جاری ہے...
Wednesday, June 21, 2017

A Short Story of kamran Mazdoor

June 21, 2017

کامران مزدور:
میں بھت پریشان ہوں
مجھے پچھلے دو دن سے کوئی کام نہیں مل رہا
بیوی نے کہا تھا آتے ہوئے
کچھ کھانا لے کر آنا
میں بھی صبح سے بھوکا ہوں اور میری بیوی بھی
اور میری جیب میں صرف پچیس روپے ہیں

کامران  نے یی سارا دکھڑا اپنے مزدور دوست کو سناتے ہوئے کہا، یار مجھے کوئی حل بتاؤ

یار !
پچیس روپے میں تو کچھ بھی نہیں ملے گا
دوست نے اپنی شھادت کی انگلی دماغ پر رکھتے ہوئے کہا
اب اس کا حل کیا ہوسکتا ہے..؟
 

کچھ دیر سوچنے کے بعد
دوست نے کہا
ہم ایسے کرتے ہیں، بس سٹاپ پر چلتے ہیں  ،وہاں کسی  سے  کہیں گے
ہم دونوں مزدور ہیں ،ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں ،ہم نے کھانا کھانا ہے ،ہم کچھ پیسے دے دیں .

کامران نے کہا :
نہیں یار میرا ضمیر گوارہ نہیں کرتا کہ میں بھیک مانگ کر کھاؤں
میں بھوکا رہ لوں گا
لیکن بھیک نہیں مانگوں گا
کامران نے انتہائی اداسی سے جواب دیا

دوست نے کامران کا ہاتھ پکڑا
اور مسکراتے ہوئے کہا
آؤ
میں تمہیں وی آئی پی کھانا کھلاتا ہوں
ایسی جگہ
جہاں تمہاری عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوگی

کامران نے ہاتھ چھوڑاتے ہوئے کہا:
تمہیں مجھے کہاں لے کر جا رہے ہوں ،پہلے یہ تو بتاؤ

سب بتاتا ہوں
تم چپ چاپ میرے ساتھ آتے جاؤ
دوست نے پُر اسرار لہجے  میں جواب دیا

کچھ  دیر چلنے کے بعد انھیں ایک آواز سنائی دینے لگی
وہ دونوں اس آواز کی طرف ہی بڑھ رہے تھے
جیسے جیسے وہ قدم بڑھا رہے تھے
آواز تیز ہوتی جا رہی تھی

اچانک وہ ایک گلی میں مڑے
تو دیکھا

ایک محفل نعت جاری ہے
جس میں ثناء  خوان یہ کلام پڑھ رہا ہے
"مصطفی جان رحمت پے لاکھوں سلام "
چند لمحے بعد دعا ہوئی
پھر دعا کے بعد مرکزی اسٹیج سے  اعلان کیا گیا
تمام حضرات سے گزارش ہے
لنگر کھا کر جائیں
لنگر کا وسیع انتظام ہے

دونوں مزدوروں نے جی بھر کر کھانا کھایا
پھر دونوں مین گیٹ کی طرف چل پڑے
جاتے ہوئے کامران یہ سوچ رہا تھا
میں نے تو کھانا کھا لیا
اب پچیس روپے میں بیوی کے لیے کیا لے کر جاؤں

کامران اسی سوچ میں گم تھا کہ مرکزی گیٹ کے پاس ایک شخص نے بریانی کا بھرا ہوا شاپر دیتے ہوئے کہا
حضرت احتیاط سے پکڑیے گا
چاول گرم ہیں

نتیجہ:
آج بھی غریب کو عزت سے روٹی مذہب ہی کھلاتا ہے.

تحریر:
احسان اللہ کیانی
22 جون 2017

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں