تازہ ترین
کام جاری ہے...
Wednesday, June 7, 2017

دور نبوی میں سحری کا سائرن:

June 07, 2017

دور نبوی میں سحری کا سائرن:
دور نبوی میں سحری کے وقت جگانے کے لیے سائرن تو نہیں بجتا تھا ،لیکن الگ سے سحری کے لیے اذان دی جاتی تھی،سحری کی اذان حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور فجر کی اذان حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ دیتے تھے.

حدیث شریف میں ہے:
"إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْْ"
بلال رات کو اذان دیتے ہیں،تاکہ سونے والا جاگ جائے.
(صحیح ابن حبان)

حدیث شریف میں ہے:
"إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِي ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ"
بیشک حضرت بلال رات کو اذان دیتے ہیں،تم کھاتے ،پیتے رہا کرو،حتی کہ حضرت ابن ام مکتوم اذان دے دیں.
(صحیح ابن حبان)

از
#احسان_اللہ کیانی
#sehri

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں