تازہ ترین
کام جاری ہے...
Thursday, June 8, 2017

نماز میں قرات کم از کم اتنی ہو کہ خود سن سکے:

June 08, 2017

نماز میں قرات کم از کم اتنی ہو کہ خود سن سکے:
قراء ت اس کا نام ہے کہ تمام حروف مخارج سے ادا کيے جائیں ،کہ ہر حرف غیر سے صحیح طور پر ممتاز ہو جائے
اور
آہستہ پڑھنے میں بھی اتنا ہونا ضروری ہے کہ خود سنے، اگر حروف کی تصحیح تو کی
مگر اس قدر آہستہ کہ خود نہ سنا
اور کوئی مانع مثلاً شور و غل یا  ثقل سماعت  بھی نہیں، تو نماز نہ ہوئی۔
(عالمگیری)

یوہیں جس جگہ کچھ پڑھنا یا کہنا مقرر کیا گیا ہے، اس سے یہی مقصد ہے کہ
کم سے کم اتنا ہو کہ خود سن سکے،
مثلاً
طلاق دینے
آزاد کرنے
جانور ذبح کرنے میں۔
(عالمگیری)

از
#احسان_اللہ کیانی

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں