نماز میں قرات کم از کم اتنی ہو کہ خود سن سکے:

نماز میں قرات کم از کم اتنی ہو کہ خود سن سکے:
قراء ت اس کا نام ہے کہ تمام حروف مخارج سے ادا کيے جائیں ،کہ ہر حرف غیر سے صحیح طور پر ممتاز ہو جائے
اور
آہستہ پڑھنے میں بھی اتنا ہونا ضروری ہے کہ خود سنے، اگر حروف کی تصحیح تو کی
مگر اس قدر آہستہ کہ خود نہ سنا
اور کوئی مانع مثلاً شور و غل یا  ثقل سماعت  بھی نہیں، تو نماز نہ ہوئی۔
(عالمگیری)

یوہیں جس جگہ کچھ پڑھنا یا کہنا مقرر کیا گیا ہے، اس سے یہی مقصد ہے کہ
کم سے کم اتنا ہو کہ خود سن سکے،
مثلاً
طلاق دینے
آزاد کرنے
جانور ذبح کرنے میں۔
(عالمگیری)

از
#احسان_اللہ کیانی