تازہ ترین
کام جاری ہے...
Thursday, June 15, 2017

حضرت عثمان بن طلحہ کا واقعہ:

June 15, 2017

حضرت عثمان بن طلحہ کا واقعہ:
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں:
مکہ سے باہر جب تنعیم کے مقام پر پہنچی ،تو وہاں مجھے عثمان بن طلحہ مل گئے
انھوں نے مجھ سے پوچھا
اے ابو امیہ کی بیٹی!
کدھر کا ارادہ ہے،میں نے کہا ،میں اپنے شوہر کے پاس مدینہ جا رہی ہوں،انھوں نے پوچھا،تمہارے ساتھ کوئی اور آدمی بھی ہے..؟؟
میں نے بتایا
خدا کی قسم !
اللہ کے سوا اور اس بچے کے سوا میرے ساتھ کوئی اور نہیں
انھوں نے کہا:میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا،انھوں نے میرے اونٹ کی نکیل پکڑی اور مجھے لے کر چل پڑے.
بخدا!
میں نے آج تک ایسا کریم النفس رفیق سفر کوئی نہیں دیکھا،
جب وہ پڑاؤ پر پہنچتے ،تو اونٹ کو بٹھاتے ،پھر دور ہٹ کر کھڑے ہو جاتے،جب میں اونٹ سے اتر جاتی تو وہ اونٹ کو پکڑ کر لے جاتے.
اس سے پالان اتارتے اور اسے باندھ دیتے،پھر دور کسی درخت کے سایہ میں آرام کے لیے لیٹ جاتے
جب دوبارہ سفر شروع کرنے کا وقت آتا ،تو وہ اونٹ پر کجاوہ کس کر لے آتے،اسے میرے قریب لا کر بٹھا دیتے،مجھے کہتے اب سوار ہو جائیں،میں سوارہونے لگتی،تو وہ پرے ہٹ جاتے،جب سوار ہو جاتی،تو وہ آکر نکیل پکڑ لیتے اورچلنے لگتے
سارے سفر میں ان کا یہی معمول رہا ،یہاں تک کہ انھوں نے مجھے مدینہ پہنچا دیا.
جب قباء کی بستی دکھائی دینے لگی،جہاں میرے شوہر قیام پذیر تھے،تو انھوں نے کہا ،تمہارے خاوند اس گاؤں میں ہیں ،وہاں چلی جاؤ
اللہ تمہیں برکتیں عطا فرمائے.

ام سلمہ فرمایا کرتی تھی:
"مارایت صاحبا قط اکرم من عثمان بن طلحۃ"
میں نے عثمان بن طلحہ سے زیادہ کوئی شریف النفس صاحب نہیں دیکھا.
(سیرت ابن کثیر)

سبق:
ہمیں ایسا کردار اپنانا چاہیے،کہ ہماری وجہ سے کوئی بہن ،بیٹی خوف زدہ نہ ہو .

طالب دعا:
#احسان_اللہ کیانی

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں