وتر کی جماعت:

وتر کی جماعت:
  رمضان شریف میں وتر جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے خواہ اُسی امام کے پیچھے، جس کے پیچھے عشا و تراویح پڑھی یا دوسرے کے پیچھے۔
(عالمگیری، درمختار)

اگر عشا جماعت سے پڑھی اور تراویح تنہا تو وتر کی جماعت میں شریک ہو سکتا ہے
اور اگر عشا تنہا پڑھ لی اگرچہ تراویح باجماعت پڑھی تو وتر تنہا پڑھے۔
(درمختار، ردالمحتار)

یہ جائز ہے کہ ایک شخص عشا و وتر پڑھائے، دوسرا تراویح۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشا و وتر کی امامت کرتے تھے اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تراویح کی۔ 
(عالمگيری)

اگر سب لوگوں نے عشا کی جماعت ترک کر دی ،تو تراویح بھی جماعت سے نہ پڑھیں
ہاں
عشا جماعت سے ہوئی اور بعض کو جماعت نہ ملی۔
تو یہ جماعت تراویح میں شریک ہوں۔
(درمختار)

طالب دعا:
#احسان_اللہ کیانی