تازہ ترین
کام جاری ہے...
Friday, June 2, 2017

مختلف فتوے اور عام آدمی

June 02, 2017


مختلف فتوے اور عام آدمی :
کسی مسئلے میں علماء کرام کے اختلاف کی صورت میں عوام کو اس فتوی پر عمل کرنا چاہیے ،جس میں زیادہ احتیاط ہو ؟
چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں :
مسئلہ نمبر
١ :
انجکشن سے روزہ ٹوٹتا ہے یانہیں ۔۔۔۔۔۔؟
عوام کو چاہیے کہ انجکشن سے روزہ ٹوٹنے والے فتوے کو پیش نظر رکھیں اور روزے میں انجکشن نہ لگوائیں ،اگر مجبورا لگوانا پڑ جائے ،تو روزے کی قضاء کریں ۔

مسئلہ نمبر
٢:
آج کل عیسائی یا یھودی لڑکی سے نکاح جائز ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔؟
عوام کو چاہیے کہ عدم جواز والے فتوے کو سامنے رکھیں ،اور عیسائی یا یھودی لڑکی سے نکاح نہ کریں ۔

مسئلہ نمبر
٣:
سجدے میں دونوں پاؤں زمین سے اٹھ جائیں ،تو نماز ٹوٹ جاتی ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔؟
عوام کو چاہیے کہ وہ نماز ٹوٹنے والے فتوے کو پیش نظر رکھیں ،اور سجدے کی حالت میں ہرگز زمین سے دونوں پاؤںنہ اٹھنے دیں ۔

مسئلہ نمبر
٤:
پرائز بونڈ جائز ہے یا نہیں ۔۔۔۔۔۔؟
عوام کو چاہیے کہ وہ عدم جواز والے فتوے کو سامنے رکھتے ہوئے ،پرائز بونڈ کے چکر میں نہ پڑیں ۔

میں نے چند مثالیں آپ کے سامنے ذکر کر دی ہیں ،آپ باقی مختلف فیہ مسائل کو اسی پر قیاس کر لیں۔

احتیاطی قول پر عمل کرنے میں عافیت ہی عافیت ہے ۔
نبی کریم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :
إِنَّ الْحَلَالَ بَیِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَیِّنٌ، وَبَیْنَہُمَا مُشْتَبِہَاتٌ لَا یَعْلَمُہُنَّ کَثِیرٌ مِنَ النَّاسِ،فَمَنِ اتَّقَی الشُّبُہَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِینِہِ
بےشک حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ،لیکن ان کے درمیان کچھ مشتبھات ہیں، انھیں اکثر لوگ نہیں جانتے ،جو شبھات سے خود کو بچائے گا،وہ اپنے دین کو بچا لے گا ۔
(صحیح مسلم ،باب اخذ الحلال وترک الشبھات )

جو احتیاطی قول پر عمل نہیں کرتا
اس کے متعلق حدیث شریف میں ہے :
وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبُہَاتِ وَقَعَ فِی الْحَرَامِ
جو شبھات پر عمل کرتاہے وہ حرام میں پڑجاتا ہے ۔
(صحیح مسلم ،باب اخذ الحلال وترک الشبھات )

از
#احسان_اللہ کیانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔








0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں