سجدہ سھو کے متعلق چند احکام:

سجدہ سھو کے متعلق چند احکام:
واجبات نماز میں جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے ليے سجدۂ سہو واجب ہے
اس کا طریقہ یہ ہے کہ التحیات کے بعد دہنی طرف سلام پھیر کر
دو سجدے کرے پھر تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیرے۔

اگر بغیر سلام پھیرے سجدے کر ليے تو بھی کافی ہيں، مگر ایسا کرنا مکروہِ تنزیہی ہے۔
(عالمگیری، درمختار)

ایک نماز میں چند واجب ترک ہوئے، تو وہی دو سجدے ،سب کے ليے کافی ہیں۔
(ردالمحتار وغیرہ)

قصداً واجب ترک کیا ،تو سجدۂ سہو سے وہ نقصان دفع نہ ہو گا
بلکہ اعادہ واجب ہے۔
يوہيں اگر سہواً واجب ترک ہوا اور سجدۂ سہو نہ کیا،
جب بھی اعادہ واجب ہے۔
(درمختار وغیرہ)

: فرض ترک ہو جانے سے نماز جاتی رہتی ہے سجدۂ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی.
(ردالمحتار)

: الحمد پڑھنا بھول گیا اور سورت شروع کر دی اور بقدر ایک آیت کے پڑھ لی اب یاد آیا تو الحمد پڑھ کر سورت پڑھے اور سجدہ واجب ہے
(عالمگیری)

تعدیل ارکان(یعنی رکوع،سجدہ،قومہ اور جلسہ میں ایک مرتبہ سبحان اللہ کھنے کی مقدار ٹھرنا) بھول گیا ،تو سجدۂ سہو واجب ہے۔ 
(عالمگیری)

قعدۂ اولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ تو سجدۂ سہو واجب ہے.
(در مختار مع رد المحتار)

فرض میں قعدۂ اولیٰ بھول گیا ، اگر سیدھا کھڑا ہو گيا تو نہ لوٹے
اور آخر ميں سجدۂ سہو کرلے
(درمختار ،غنیہ)

آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کرنا بھول گیا ،تو سجدۂ تلاوت ادا کرے اور سجدۂ سہو کرے۔
(عالمگیری)

قنوت یا تکبیر قنوت بھول گیا ،تو سجدۂ سہو کرے۔
(عالمگیری)

کسی قعدہ میں اگر تشہد میں سے کچھ رہ گیا، سجدۂ سہو واجب ہے، نماز نفل ہو یا فرض۔
(عالمگيری)

کوئی ایسا واجب ترک ہوا، جو واجباتِ نماز سے نہیں
بلکہ
اس کا وجوب امر خارج سے ہو ،تو سجدۂ سہو واجب نہیں مثلاً
خلافِ ترتیب قرآن مجيد پڑھنا ترک واجب ہے ،مگر موافق ترتیب پڑھنا واجباتِ تلاوت سے ہے، واجباتِ نماز سے نہیں لہٰذا سجدۂ سہو نہیں۔
(ردالمحتار)

از
#احسان_اللہ کیانی