تازہ ترین
کام جاری ہے...
Thursday, June 15, 2017

چند فتنے اور احادیث مبارکہ: سیکولر ازم:

June 15, 2017

چند فتنے اور احادیث مبارکہ:
سیکولر ازم:
حدیث شریف میں ہے:
"فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ فَإِنْ تَمُتْ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبِعَ أَحَدًا مِنْهُمْ"

ایک ایسا اندھا اور بہرا فتنہ ہو گا (جس کے قائد) جہنم کے دروازوں پر بلانے والے ہوں گے،
تو اے حذیفہ!
تمہارا جنگل میں درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جانا بہتر ہو گا، اس بات سے کہ تم ان میں کسی کی پیروی کرو ۔
(سنن ابوداؤد)

مسلمان محصور کر دیے جائیں گے:
حدیث شریف میں ہے:
" يُوشِكُ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يُحَاصَرُوا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يَكُونَ أَبْعَدَ مَسَالِحِهِمْ سَلَاحِ"

قریب ہے کہ مسلمان مدینہ ہی میں محصور کر دئیے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے ۔
(یہ خیبر کے پاس ایک جگہ ہے)
(سنن ابوداؤد)

تیس کذاب آئیں گے:
حدیث شریف میں ہے:
"سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ"

عنقریب میری امت میں تیس (۳۰) کذاب پیدا ہوں گے، ان میں ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے،
حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا،
میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا
(سنن ابوداؤد)

قتل کی کثرت:
حدیث شریف میں ہے:
"يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَّةُ هُوَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْقَتْلُ الْقَتْلُ"

زمانہ سمٹ جائے گا،
علم کم ہو جائے گا، فتنے رونما ہوں گے، لوگوں پر بخیلی ڈال دی جائے گی،
اور «هرج» کثرت سے ہو گا، آپ سے عرض کیا گیا:
اللہ کے رسول! وہ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل، قتل ۔
(سنن ابوداؤد)

ایک عجیب فتنہ:
حدیث شریف میں ہے:
"إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ يَكُونُ الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرًا مِنَ الْجَالِسِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجَالِسُ خَيْرًا مِنَ الْقَائِمِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَائِمُ خَيْرًا مِنَ الْمَاشِي، ‏‏‏‏‏‏وَالْمَاشِي خَيْرًا مِنَ السَّاعِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَلْيَعْمِدْ إِلَى سَيْفِهِ فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ عَلَى حَرَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لِيَنْجُ مَا اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ"
: عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا کہ
اس میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا، بیٹھا کھڑے سے بہتر ہو گا، کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے
عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت کے لیے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس کے پاس اونٹ ہو وہ اپنے اونٹ سے جا ملے، جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے جا ملے،
اور جس کے پاس زمین ہو تو وہ اپنی زمین ہی میں جا بیٹھے
(لگتا ہے شھر چھوڑ کر ،گاؤں کی طرف جانے کا اشارہ ہے.واللہ اعلم )
عرض کیا: جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو وہ کیا کرے؟
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو ،تو اسے چاہیئے کہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار ایک پتھر سے مار کر کند کر دے (اسے لڑنے کے لائق نہ رہنے دے)
پھر چاہیئے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے وہ (فتنوں سے) گلو خلاصی حاصل کرے ۔
(سنن ابوداؤد)

یا اللہ ہمیں تمام فتنوں سے محفوظ رکھ

طالب دعا:
#احسان_اللہ کیانی

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں