تازہ ترین
کام جاری ہے...
Friday, June 16, 2017

فھم عربی کورس کے پہلے دس اسباق

June 16, 2017

فھم عربی کورس کے پہلے دس سبق ایک ساتھ پیش خدمت ہیں :
نوٹ:
ہر شخص کو یہ اسباق اپنے نام سے بھی کاپی پیسٹ کی مکمل اجازت ہے.
-------
سبق نمبر 1:
آخر میں "ی" لگانے کا فائدہ:
میرا ،میری
عربی زبان میں کسی بھی اسم نکرہ کے آخر میں " ی " لگانے سے وہ آپ کی ھو جاتی ھے .
جیسے
کتاب + ی = کِتابِی
میری کتاب
kita-bi
بَیْت + ی = بَیتِی
میرا گھر
bey-ti

اب ھم ایک حدیث کا ترجمہ کرتے ھیں :
النِکَاحُ مِنْ سُنَّتِی
An-Nikahu-min-suna-ti
نکاح کا معنی = نکاح
مِنْ کا معنی  = سے 
سنت کا معنی = سنت

بامحاورہ ترجمہ یہ ھوگا .
نکاح میری سنت سے ھے

-------
سبق نمبر 2:
ھذا:
عربی زبان میں کسی قریب چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے "ھٰذَا" کا لفظ استعمال کیا جاتا ھے .
جیسے ھم کسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کھتے ھیں
ھٰذَا کتاب.  = یہ کتاب ھے .
Haza kita-bun
ھذا قلم      = یہ قلم ھے .
Haza Qala-mun
ھذا کرسی   = یہ کرسی ھے .
Haza kursi-yun
  اس مقصد کے لیے انگلش میں This کا  لفظ استعمال کیا جاتا ھے .

------
سبق نمبر 3:
فھم عربی کورس:
عربی زبان میں لفظ " اِلٰی" کی طرف کے معنی میں استعمال ھوتا ھے .
جیسے
اِلٰی المَسْجِد = مسجد کی طرف
اِلٰی الجَامِعَہ = یونیورسٹی کی طرف

کبھی اس کا ترجمہ : تک یا سمیت بھی کرتے ھیں .
الی المِرفَق   = کھنی سمیت
الی الکَعبَین =  ٹخنوں تک
------
سبق نمبر 4:
اِنَّ اور اَنَّ کا ترجمہ:
عربی زبان میں" اِنَّ اور اَنَّ "کا لفظ "بے شک اور یقینا" کے معنی میں استعمال ھوتا ھے .
جیسے
قرآن کریم میں ھے:
" اِنَّ  الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ "
بے شک انسان خسارے میں ھے .
اس کا ترجمہ یہ بھی کر سکتے ھیں
یقینا انسان خسارے میں ھے
"العصر:2"
-----

سبق نمبر 5:
حرف "ی" کا قاعدہ:
کسی فعل کے شروع میں "ی" آجائے ،تو اس کا ترجمہ یوں کرتے ھیں
یَعْمَلُ: وہ عمل کرتا ھے یا کرے گا
" یَعْمَلُ" کا لفظ  "عمل" سے بنا ھے
ی + عمل = یعمل
یَعْمَلُ : Ya ma lo

مزید الفاظ کا ترجمہ خود کریں ،کوئی بات سمجھ نہ آئے ،تو پوچھ لیں :
ی+ ذکر = یذکر
ی+ نظر = ینظر
ی+ علم= یعلم
ی+ شکر=یشکر
ی+ صبر=یصبر
ی+ظلم=یظلم
------
سبق نمبر 6:
حرف "ت" کا قاعدہ:
کسی فعل کے شروع میں "ت" آجائے ،تو اس کا ترجمہ یوں کرتے ھیں
تَعْمَلُ: تو عمل کرتا ھے یا کرے گا
" تَعْمَلُ" کا لفظ  "عمل" سے بنا ھے
ت + عمل = تعمل
تَعْمَلُ : ta ma lo

مزید الفاظ کا ترجمہ خود کریں ،کوئی بات سمجھ نہ آئے ،تو پوچھ لیں :
ت+ ذکر = تذکر
ت+ نظر = تنظر
ت+ علم= تعلم
ت+ شکر=تشکر
ت+ صبر=تصبر
ت+ظلم=تظلم
------
سبق نمبر 7:
حرف "ھمزہ" کا قاعدہ:
کسی فعل کے شروع میں "ھمزہ" آجائے ،تو اس کا ترجمہ یوں کرتے ھیں
اَعْمَلُ: میں عمل کرتا ھوں یا کروں گا
" اَعْمَلُ" کا لفظ  "عمل" سے بنا ھے
اَ+ عمل = اعمل
اَعْمَلُ : a ma lo

مزید الفاظ کا ترجمہ خود کریں ،کوئی بات سمجھ نہ آئے ،تو پوچھ لیں :
ا+ ذکر = اذکر
ا+ نظر = انظر
ا+ علم= اعلم
ا+ شکر=اشکر
ا+ صبر=اصبر
ا+ظلم=اظلم
-----
سبق نمبر 8:
حرف "ن" کا قاعدہ:
کسی فعل کے شروع میں "ن" آجائے ،تو اس کا ترجمہ یوں کرتے ھیں
نَعْمَلُ: ہم عمل کرتے ہیں یا کریں گے
" نَعْمَلُ" کا لفظ  "عمل" سے بنا ھے
نَ+ عمل = نعمل
نَعْمَلُ : na ma lo

مزید الفاظ کا ترجمہ خود کریں ،کوئی بات سمجھ نہ آئے ،تو پوچھ لیں :
ن+ ذکر = نذکر
ن+ نظر = ننظر
ن+ علم= نعلم
ن+ شکر=نشکر
ن+ صبر=نصبر
ن+ظلم=نظلم
------

سبق نمبر 9:
حروف جارہ:
یہ پرانی ترتیب کے مطابق سبق نمبر ایک تھا:
جدید ترتیب کے مطابق یہ سبق نمبر 9 ہے:

آج کے سبق میں ہم حروف کی ایک خاص قسم کے متعلق جانیں گے ،جنھیں ''حروف جارہ ''کہا جاتا ہے ۔

(حروف جارہ )
(prepositions)

(١) ۔۔۔۔۔۔حروف جارہ سترہ ہیں ۔
(٢) ۔۔۔۔۔۔یہ اسم سے پہلے آتے ہیں ۔ جیسے (فِیْ کتاب )
(٣)۔۔۔۔۔۔یہ اسم کو حقیقی طور پر یا حکمی طور پر ''زیر'' دیتے ہیں ۔(حقیقی کی مثال :فی کتاب ٍ)(حکمی کی مثال :فی العالمین َ)
(٤)۔۔۔۔۔۔حروف جارہ فعل سے پہلے نہیں آتے ،یعنی جب کسی کلمہ سے پہلے حرف جار آجائے ،تو آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں ،کہ یہ اسم ہے ۔
(٥)۔۔۔۔۔۔قرآن کریم میں صرف گیارہ حروف جارہ استعمال ہوئے ہیں ۔

چند اہم حروف جارہ جو کثرت سے عربی زبان میں استعمال ہوتے ہیں :
ب ، ل ، مِنْ ، اِلٰی ، ک ، فِیْ ، عَلیٰ ، حَتّٰی ،عَنْ

حروف جارہ کا ترجمہ مع مثال:
ب:ساتھ

مثال :
بِاسمِ اللہ
(اللہ کے نام کے ساتھ )

ل :کے لیے

مثال:
ِلَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
(اس کے لیے ہی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے)
(البقرہ:١٠٧)

مِنْ:سے

مثال :
اَلْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنْ الزِّنا
غیبت زنا سے بدتر ہے
(حدیث )

اِلٰی :کی طرف

مثال :
مِنْ المَسْجِدِ اِلیٰ الْمَدْرَسَۃِ
مسجد سے مدرسہ کی طرف

ک: کی طرح

مثال :
الطَّاعِم الشَاکِر کا لصَّائِم الصَابِر
کھاناکھا کر شکر ادا کرنے والا صبر کرنے والے روزہ دار کی طرح ہے ۔
(حدیث )

فی:میں

مثال :
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ
بے شک تمہارے لیے رسول اللہ (کی زندگی )میں بہترین نمونہ ہے۔
(الاحزاب :٢١)

عَلی:پر

مثال :
إِنَّ اللَّہَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ
بے شک اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے ۔
(النحل :٧٧)

حَتّٰی:یہاں تک کہ

مثال :
"سَلٰمٌ ۟ ۛہِیَ حَتّٰی مَطۡلَعِ  الۡفَجۡرِ"
یہ (لیلۃ القدر کی رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے
(سورۃ القدر)

مثال ذیل میں حتی کے بعد "اَنْ" مقدر( یعنی پوشیدہ )ہے.

وَلَنْ تَرْضَی عَنْکَ الْیَہُودُ وَلَا النَّصَارَی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ
یھود و نصاری ہر گز آپ سے راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کی ملت کی پیروی کرلیں ۔
(البقرہ:١٢٠)

عَنْ:سے

مثال :
فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ
جس کو جھنم سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا پس وہ کامیاب ہو گیا ۔
(آل عمران :١٨٥)

توجہ طلب:
(١)۔۔۔۔۔۔ہر سبق کو کم ازکم تین بار پوری توجہ سے پڑھیں،اورکسی کاپی پر نوٹ کر لیں ۔
(٢)۔۔۔۔۔۔تمام مثالوں کوضرور زبانی یاد کرلیں ۔
(٣)۔۔۔۔۔۔اپنی کاپی پر الفاظ معانی کی ایک فہرست بنائیں ،اور روزانہ ملنے والے نئے عربی الفاظ ،معانی کو اس میں درج کرتے جائیں ۔

حروف جارہ یاد رکھنے کے لیے یہ شعر یاد کرلیں:

با و تا و کاف و لام و واؤ‘ منذ و مذ‘ خلا
رُبّ‘ حاشا، مِن‘ عدا‘ في‘ عَن‘ علیٰ‘ حتیٰ، اِلیٰ

-------
سبق نمبر 10:
حروف استفہام :
حرف استفہام دو ہیں
اَ ۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔ھَلْ
حروف استفہام کے ذریعہ کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے ۔

" اَ " کا معنی :۔۔۔۔۔۔کیا

مثالیں :
اَ ھَذٰا مِفْتَاحٌ؟
کیا یہ چابی ہے ؟

اَ ھَذٰا بَیْتٌ؟
کیا یہ گھر ہے ؟

اَ عِنْدَکَ سَیَّارَۃٌ
کیا آپ کے پاس گاڑی ہے ؟

اَ اَنْتَ مِنْ البَاکِسْتَان؟
کیا آپ پاکستان سے ہیں؟

اَ فِیْ بَیْتِکَ حَدِیْقَۃٌ؟
کیا آپ کے گھر میں باغ ہے ؟

اَ کِتَابُ عَبَّاسٍ ھَذٰا؟
کیا یہ عباس کی کتاب ہے ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھل کا معنی : ۔۔۔۔۔۔ کیا

مثالیں :
ھَلْ ھُوَ غَنِیٌّ؟
کیا وہ مالدار ہے؟
is he rich..??

ھَلْ اَبِیْ ھنا؟
کیا میرے ابو یہاں ہیں ؟
is my father here..??

توجہ طلب:
ھل کے بعد جب ''اِلّاَ '' آجائے ،تو یہ نفی کا معنی دیتا ہے ۔
مثال :
(ہَل جَزَاء الْإِحْسَان إِلَّا الْإِحْسَان) (الرَّحْمَن: 60)
نہیں ہے احسان کی جزا مگر احسان

ترجمہ کا اصول :
''نفی ''اور ''الا ''ساتھ آجائیں ،تو اس کا ترجمہ مثبت کر سکتے ہیں
بامحاورہ ترجمہ :
احسان کا بدلہ احسان ہے
نیکی کا بدلہ نیکی ہے

--------

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں