تازہ ترین
کام جاری ہے...
Wednesday, June 28, 2017

Feham e Arabi course,lesson no 17,Haroof e Jawab

June 28, 2017

سبق نمبر 17:
فھم عربی کورس:
حروف جواب:
"نَعَمْ":---
جواب محذوف پر دلالت کے لیے" نَعَمْ" کو استعمال کیا جاتا ہے .
مثلا کوئی آپ سے کہے
أَتذهبُ؟
کیا تم جاتے ہو..؟

اگر  آپ نے جواب میں صرف کہا:
"نَعَمْ"

تو اس کا معنی ہے
نَعَمْ اَذْھَبُ
جی ہاں،میں جاتا ہوں
 

"أَجَلْ":---
یہ بھی نعم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے

"أَي":---
یہ قسم سے پہلے قسم کی تاکید کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے
جیسے:
{قُلْ إي ورَبي إنَّهُ لَحَقٌّ}
"أي" توكيد للقسم
والمعنى نعم وربي

مکمل آیت یوں قرآن کریم میں ہے:
{وَ یَسۡتَنۡۢبِئُوۡنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ؕ ؔ قُلۡ اِیۡ وَ رَبِّیۡۤ  اِنَّہٗ  لَحَقٌّ ۚ ؕ ؔ وَ مَاۤ  اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ}
اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا (دائمی عذاب کی) وہ بات (واقعی) سچ ہے؟ فرما دیجئے: ہاں میرے رب کی قسم یقیناً وہ بالکل حق ہے۔ اور تم (اپنے انکار سے اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتے
(یونس:53)

"بَلی":---
یہ نفی کے بعد آکر اسکا اثبات کرتا ہے
جیسے:
قرآن کریم میں عالم ارواح کے سوال کے متعلق ہے
{أَلستُ بِرَبّكُم، قالوا "بَلى"}
کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں..؟
تو ان سب ارواح نے کہا،کیوں نہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں

قرآن کریم میں ہے:
{زَعَمَ الذينَ كفروا أَنْ لن يُبعَثوا، قُل بَلى ورَبي لَتُبعَثُنَّ}

دلچسپ بات:
اگر  آپ کسی عربی ملک کی عدالت میں پیش ہوں،اور آپ کو صرف نعم،اَجَل یا بلی سے جواب دینے کی اجازت ہو ،اور ایک شخص آکر کہے:
کیا آپ نے میرے ہزار روپے ادھار نہیں دینے ..؟؟
اگر آپ نے اس کے جواب میں  کہا  :
"بَلی"

تو آپ کے ذمے وہ ہزار روپے لازم ہوجائیں گے
کیونکہ
بلی کا مطلب ہوگا ،جی میں نے آپ کے ہزار روپے دینے ہیں

اگر آپ نے اس کے جواب میں نعم یا اجل کہا تو
یہ ہزار روپے آپکے ذمے لازم نہیں ہوں گے

کیونکہ نعم یا اجل کا مطلب ہوگا
جی ہاں میں نے آپ کے ہزار روپے نہیں دینے

مزید چند امثلہ ملاحظہ فرمائیں
قرآن کریم میں ہے
 أو لم تؤمن؟ قال بلى، ولكن ليطمئن قلبي
(البقرة، 260)

قرآن کریم میں ہے:
ألم يأتكم نذير؟ قالوا بلى قد جاءنا نذير
(الملك، 8-9)

"جَيْرِ":---
یہ اکثر قسم سے پہلے واقع ہوتا ہے،اور بمعنی نعم استعمال ہوتا ہے
جیسے:
جيرِ لأفعلنَّ

یعنی
"نَعَم واللهِ لأفعلنَّ"
بعض نے کہا ہے:
یہ اسم ہے اور "حقا" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے

"اِنَّ":---
یہ بھی حرف جواب ہے،اور نعم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے
جیسے کوئی آپ سے کہتا ہے
"هل جاءَ زُهَيرٌ؟
آپ جواب میں کہتے ہیں

"إنَّهُ"
جی ہاں

اہل علم یہ بھی ملاحظہ فرما لیں:
والهاءُ، التي تلحقه، هي هاءُ السَّكت، التي تُزادُ في الوقف، لا هاءُ الضمير ولو كانت هاءَ الضمير لثبتت في الوصل، كما تثبتُ في الوقف. وليس الأمرُ كذلك، لأنك تحذفها إن وصلتَ، يقال لك "هل رجعَ أُسامةُ؟ " فتقولُ "إنّ" يا هذا، أي نعم، يا هذا قد رجع. وأيضاً قد يكون الكلام على الخطاب أو التكلم، والهاءُ هذه على حالها، نحو "هل رجعتم؟ "، فتقولُ "إنَّهُ"، وتقولُ "هل نمشي؟ " فتقول "إنَّهْ". ولو كانت هذه الهاءُ هاءَ الضمير، وهي للغيبة، لكان الكلامُ فاسداً.

"لَا  اور  کَلَّا":---
یہ دونوں جواب کی نفی کے لیے استعمال ہوتے ہیں
جیسے کوئی پوچھتا ہے
اَ ھَذا کتاب..؟
آپ جواب میں کھتے ہیں
لا،ھذہ کُرَاسَۃ
نہیں یہ کاپی ہے

لیکن "لا  اور کَلَّا "کی نفی میں فرق یہ ہے ،کہ
کَلَّا  کی نفی میں مخاطب کے ردع اور زجر بھی ہوتی ہے

جیسے:
قرآن کریم میں ہے:
کَلَّا ؕ سَنَکۡتُبُ مَا یَقُوۡلُ وَ نَمُدُّ  لَہٗ  مِنَ الۡعَذَابِ  مَدًّا
ہرگز نہیں! اب ہم وہ سب کچھ لکھتے رہیں گے جو وہ کہتا ہے اور اس کے لئے عذاب (پر عذاب) خوب بڑھاتے چلے جائیں گے
(مریم:79)

کَلَّا ؕ سَیَکۡفُرُوۡنَ  بِعِبَادَتِہِمۡ وَ یَکُوۡنُوۡنَ  عَلَیۡہِمۡ  ضِدًّا
ہرگز (ایسا) نہیں ہے، عنقریب وہ (معبودانِ باطلہ خود) ان کی پرستش کا انکار کر دیں گے اور ان کے دشمن ہوجائیں گے
(مریم:83)

کَلَّا بَلۡ  تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ
حقیقت یہ ہے  تم جلد ملنے والی (دنیا) کو محبوب رکھتے ہو
(القیامۃ:20)

کبھی یہ حقا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے
جیسے قرآن کریم میں ہے:
کَلَّا  لَمَّا یَقۡضِ مَاۤ  اَمَرَہٗ
یقیناً اس (نافرمان انسان) نے وہ (حق) پورا نہ کیا جس کا اسے (اللہ نے) حکم دیا تھا
(عبس:23)

کَلَّا  بَلۡ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیۡنِ
حقیقت تو یہ ہے (اور) تم اِس کے برعکس روزِ جزا کو جھٹلاتے ہو
(الانفطار:9)

طالب دعا:
احسان اللہ کیانی
29 جون 2017

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں