تازہ ترین
کام جاری ہے...
Wednesday, June 28, 2017

Feham e Arabi course,lesson no 16,Haroof e Nafiya

June 28, 2017

سبق نمبر 16:
حروف نافیہ:
فھم عربی کورس:

"لَمْ اور لَمَّا":---
یہ دو حروف فعل مضارع کے آخر کو جزم دیتے ہیں
جیسے:
لَم یَقتُلْ
اسے نے قتل نہیں کیا
نوٹ:
یہ فعل مضارع کو ماضی کے معنی میں کر دیتا ہے

"لَنْ":---
یہ فعل مضارع کے آخر کو نصب دیتا یے .
جیسے
لَنْ یَقْتُلَ
وہ ہر گز نہیں قتل کرے گا
نوٹ:
یہ فعل مضارع کو مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے

"مَا  اور اِنْ":---
یہ دونوں ماضی اور حال میں نفی کرتے ہیں
ماضی کی مثال:
جیسے:
 مَا جِئتُ
میں نہیں آیا

إنْ جَاءَ إلا أنَا
نہیں آیا مگر میں

حال کی مثال:
مَا أجْلسُ
میں نہیں بیٹھتا

إنْ يَجْلسُ إلا أنَا
نہیں بیٹھتا مگر میں

یہ دونوں فعل اور اسم دونوں پر داخل ہوتے ہیں
فعل کی مثالیں گزر چکی ہیں
اسم کی مثالیں یہ ہیں

"مَا هَذٰا بَشَراً
یہ بشر نہیں ہے

"إنْ أحدٌ خيراً مِن أحدٍ إلا بالعافية"

"لا":---
یہ فعل ماضی اور مستقبل کی نفی کرتا ہے
ماضی کی مثال:
جیسے
{فلا صدَّقَ ولا صَلّى}
(القرآن)

مستقبل کی مثال:
جیسے
{قُلْ لا أسألُكم عليهِ أجراً}
(القرآن)

"لَاتَ":---
یہ "حِیْنَ" اور اس جیسے دوسرے ظروف زمان پر ہی داخل ہوتا ہے.
جیسے:
{ولاتَ حينَ مناصٍ}

جیسے شاعر کا قول ہے:
"نَدِمَ البُغاةُ ولاتَ ساعةَ مَندَمٍ"

یہ "لَیْسَ" کے معنی میں ہے

طالب دعا:
احسان اللہ کیانی
28 جون 2017

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں