تازہ ترین
کام جاری ہے...
Saturday, May 13, 2017

ہندوستان دار الاسلام ہے یا دار الحرب ایک تحقیقی فتوی

May 13, 2017

حرف آغاز :
یہ فتوی مولانا احمد رضا خان صاحب نے اس وقت دیا تھا ،جب ہندوستان پر انگریز قابض تھے ۔ 
احسان اللہ کیانی

رسالہ
اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام (۱۳۶۵ھ)
(علم کے پہاڑوں کا اعلان کہ بیشک ہندوستان دارالاسلام ہے)

مسئلہ۳
(۱) ہندوستان دارالحرب ہے یادارالاسلام؟


جواب سوالِ اول
ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ بلکہ علمائے ثلٰثہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم کے مذہب پر ہندوستان دارالاسلام ہے ہرگز دارالحرب نہیں
کہ دارالاسلام کے دارالحرب ہوجانے میں جو تین باتیں ہمارے امام اعظم امام الائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک درکار ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں احکام شرک علانیہ جاری ہوں اور شریعتِ اسلام کے احکام و شعائر مطلقا جاری نہ ہونے پائیں
اور صاحبین کے نزدیک اسی قدر کافی ہے مگر یہ بات بحمداﷲ یہاں قطعاً موجود نہیں اہل اسلام جمعہ و عیدین واذان واقامت و نماز باجماعت وغیرہا شعائر شریعت بغیر مزاحمت علی الاعلان  ادا کرتے ہیں۔
فرائض، نکاح، رضاع، طلاق، عدۃ، رجعت، مہر، خلع، نفقات، حضانت، نسب، ہبہ،وقف، وصیت، شفعہ وغیرہا، بہت معاملات مسلمین ہماری شریعت غرابیضاء کی بناپر فیصل ہوتے ہیں کہ ان امور میں حضرات علماء سے فتوٰی لینا اور اسی پر عمل و حکم کرنا حکام انگریزی کو بھی ضرور ہوتا ہے
 اگرچہ ہنود و مجوس و نصارٰی ہوں اور بحمد اﷲ یہ بھی شوکت و جبروت شریعت علیہ عالیہ اسلامیہ اعلی اﷲ تعالٰی حکمہا السامیہ ہے کہ مخالفین کو بھی اپنی تسلیم اتباع پر مجبور فرما تی ہے والحمد للہ رب العالمین،

فتاوٰی عالمگیریہ میں سراج وہاج سے نقل کیا:
اعلم ان دارالحرب تصیردار الاسلام بشرط واحد وھو اظہار حکم الاسلام فیھا۱؎۔
جان لو کہ بیشک دارالحرب ایک ہی شرط سے دارالاسلام بن جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہاں اسلام کا حکم غالب ہو جائے (ت)

 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب السیر     الباب الخامس فی استیلاء الکفار     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲/ ۲۳۲)

پھر سراج وہاج سے صاحب المذھب سیدنا و مولٰنا محمد بن الحسن قدس سرہ الاحسن کی زیادات سے کہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے نقل کیا:
 انما  تصیردار الاسلام دارالحرب عندابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی بشروط ثلاثۃ،
 احدھا
 اجراء احکام الکفار علی سبیل الاشتھار وان لایحکم فیھا بحکم الاسلام، ثم قال و صورۃ المسئلۃ ثلاثۃ اوجہ
 اما ان یغلب اھل الحرب علی دار من دورنا او ارتد اھل مصر غلبوا واجروااحکام الکفر او نقض اھل الذمۃ العھد وتغلبواعلی دارھم
ففی کل من ھذہ الصور لاتصیر دارحرب الابثلاثۃ شروط،
 وقال ابویوسف ومحمدرحمہما  اﷲ تعالٰی بشرط واحد وھو اظہار احکام الکفر
 وھو القیاس الخ۲؎
 امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک دارالاسلام تین شرائط سے دارالحرب ہوتا ہے جن میں ایک یہ کہ وہاں کفار کے احکام اعلانیہ جاری کئے جائیں اور وہاں اسلام کا کوئی حکم نافذ نہ کیاجائے، پھرفرمایا اور مسئلہ کی صورت تین طرح ہے اہلِ حرب ہمارے علاقہ پر غلبہ پالیں یا ہمارے کسی علاقہ کے شہری مرتد ہوکر وہاں غلبہ پالیں  اور کفر کے احکام جاری کردیں یا وہاں ذمی لوگ عہد کو توڑ کر غلبہ حاصل کرلیں، تو ان تمام صورتوں میں وہ علاقہ تین شرطوں سے دارالحرب بن جائے گا وہ یہ کہ احکام کفر اعلانیہ غالب کردئے جائیں۔ یہی قیاس ہے الخ(ت)

 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب السیر     الباب الخامس فی استیلاء الکفار     نورانی کتب خانہ پشاور     ۲/ ۲۳۲)

درر غرر ملاخسرومیں ہے:
 دارالحرب تصیردارالاسلام باجراء احکام الاسلام فیھا کا قامۃ الجمعۃ والاعیادوان بقی فیھا کافر اصلی ولم یتصل بدارالاسلام بان کان بینھا وبین دارالاسلام مصر اٰخر لاھل الحرب ۱؎الخ
ھذا لفط العلامۃ خسر و
واثرہ شیخی زادہ فی مجمع الانھر،
وتبعہ المولی الغزی فی التنویر،
 واقرہ المدقق العلائی فی الدر،
 ثم الطحطاوی والشامی اقتدیا فی الحاشیتین۔
دارالحرب، اسلامی احکام جاری  کرنے مثلاً جمعہ اور عیدین وہاں ادا کرنے پر دارالاسلام بن جاتا ہے اگرچہ وہاں کوئی اصلی کافر بھی موجود ہو اور اس کا دارالاسلام سے اتصال بھی نہ ہویوں کہ اس کے اور دارالاسلام کے درمیان کوئی دوسرا حربی شہر فاصل ہو الخ،
یہ علامہ خسر وکے الفاظ ہیں، اور مجمع الانہر میں شیخی زادہ نے اس کی پیروی کی ہے، اور مولٰی غزی نے تنویر میں اس کی اتباع کی، اور مدقق علائی نے درمیں اس کو ثابت رکھا، پھر طحطاوی اور شامی نے اپنے اپنے حاشیہ میں اسکی اقتدا کی۔(ت)

 (۱؎ دررغرر  کتاب الجہاد باب المستامن مطبع احمد کامل مصر ۱/ ۲۹۵)

جامع الفصولین سے نقل کیا گیا:
لہ ان ھذہ البلدۃ صارت دارالاسلام باجراء احکام الاسلام فیھا فما بقی شیئ من احکام دارالاسلام فیھا تبقی دارالاسلام علی ماعرف ان الحکم اذاثبت بعلۃ فما بقی شیئ من العلۃ یبقی الحکم ببقائہ،
 ھکذاذکر شیخ الاسلام ابوبکر فی شرح سیر الاصل انتہی،۲؎
امام صاحب کے ہاں دارالحرب کا علاقہ اسلامی احکام وہاں جاری کرنے سے دارالاسلام بن جاتا ہے تو جب تک وہاں اسلامی احکام باقی رہیں گے وہ علاقہ دارالاسلام رہے گا،
 یہ اس لئے کہ
 حکم جب کسی علت پر مبنی ہوتو جب تک علت میں سے کچھ پایا جائے تو اس کی بقاء سے حکم بھی باقی رہتا ہے
جیسا کہ معروف ہے۔
 ابوبکر شیخ الاسلام نے اصل(مبسوط) کے سیر کے باب کی شرح میں یونہی ذکر فرمایا ہے، اھ،

 (۲؎ جامع الفصولین     الفصل الاول فی القضاء     اسلامی کتب خانہ کراچی     ص۱۲)

وعن الفصول العمادیۃ ان دارالاسلام لایصیر دارالحرب اذابقی شیئ من احکام الاسلام وان زال غلبۃ اھل الاسلام
وعن منثور الامام ناصرالدین دارالاسلام انما صارت دارالاسلام باجراء الاحکام فمابقیت علقۃ من علائق الاسلام یترجح جانب الاسلام۱؎
وعن البرھان شرح مواھب الرحمٰن لایصیر دارالحرب مادام فیہ شیئ منھا بخلاف دارالاسلام لانارجحنا اعلام الاسلام واحکام اعلام کلمۃ الاسلام۲؎
 وعن الدر المنتقٰی لصاحب الدرالمختار دارالحرب تصیر دارالاسلام باجراء بعض احکام الاسلام۳؎۔
 فصول عمادیہ سے منقول ہے کہ دارالاسلام جب تک وہاں احکام اسلام باقی رہیں گے تو وہ دارالحرب نہ بنے گا اگرچہ وہاں اہلِ اسلام کا غلبہ ختم ہوجائے،
امام ناصرالدین کی منثور سے منقول ہے کہ دارالاسلام صرف اسلامی احکام جاری کرنے سے بنتا ہے تو جب تک وہاں اسلام کے متعلقات باقی ہیں تو وہاں اسلام کے پہلو کو ترجیح ہوگی۔
 اور برہان شرح مواہب الرحمٰن سے منقول ہے کوئی علاقہ اس وقت تک دارالحرب نہ بنے گا جب تک وہاں کچھ اسلامی احکام باقی ہیں، کیونکہ اسلامی نشانات کو اور کلمہ اسلام کے نشانات کے احکام کو ہم ترجیح دیں گے، دارالاسلام کا حکم اسکے خلاف ہے۔
 صاحب درمختار کی المنتقٰی سے منقول ہے کہ دارالحرب میں بعض اسلامی احکام کے نفاذ سے دارالاسلام بن جاتا ہے۔(ت)

 (۱؎ الفصول العمادیۃ )( ۲؎ البرھان شرح مواہب الرحمان)
(۳؎ الدرالمنتقی علی ہامش مجمع الانہر    کتاب السیر         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۲۳۴)

شرح نقایہ میں ہے:
لاخلاف ان دارالحرب تصیردارالاسلام باجراء بعض احکام الاسلام فیھا۴؎۔
بلا اختلاف دارالحرب وہاں بعض اسلامی احکام کے نفاذ سے وہ دارالاسلام بن جاتا ہے(ت)

 (۴؎ جامع الرموز    کتاب الجہاد             مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران     ۴/ ۵۵۶)

اور اسی میں ہے:
وقال شیخ الاسلام والامام الاسبیجابی ای الدارمحکومۃ بدارالاسلام ببقاء حکم واحد فیھا کمافی العمادی وغیرہ۵؎۔
 شیخ الاسلام اور امام اسبیجابی نے فرمایا:
 کسی بھی علاقہ میں کوئی ایک اسلامی حکم بھی باقی ہوتو اس علاقہ کو دارالاسلام کہا جائے گا،
جیسا کہ عمادی وغیرہ میں ہے۔(ت)

 (۵؎ جامع الرموز    کتاب الجہاد             مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۴/ ۵۵۷)

پھر اپنے بلاد اور وہاں کے فتن و فساد کی نسبت فرماتے ہیں:
فالاحتیاط یجعل ھذہ البلاد دارالاسلام والمسلمین وان کانت للملاعین والید فی الظاھر لھؤلاء الشیطین ربنا لاتجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین ونجنا برحمتک من القوم الکٰفرین
کمافی المستصفی وغیرہ۱؎۔
 احتیاط یہی ہے کہ یہ علاقہ دارالاسلام والمسلمین قرار دیاجائے، اگرچہ وہاں ظاہری طور پر شیطانوں کاقبضہ ہے، اے ہمارے رب! ہمیں ظالموں کے لئے فتنہ نہ بنا اور اپنی رحمت سے ہمیں کافروں سے نجات عطا فرما،
جیسا کہ مستصفٰی وغیرہ میں ہے۔(ت)

 (۱؎ جامع الرموز  کتاب الجہاد      مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران     ۴/ ۵۵۷)

دررغرر و تنویر الابصار ودرمختار ومجمع الانہر وغیرہا میں کہ شرطِ اول کوصرف بلفظ اجرائے احکام الشرک سے تعبیر کیا وہاں بھی یہ ہی مقصود کہ اس ملک میں کلیۃً احکام کفر ہی جاری ہوں نہ یہ کہ مجرد جریان بعض کفر کافی ہے اگرچہ ان کے ساتھ بعض احکام اسلام بھی اجراء پائیں۔

فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار
قولہ باجراء احکام اھل الشرک ای علی الاشتھار وان لایحکم فیھا بحکم اھل الاسلام،

ہندیۃ
وظاھرہ انہ لواجریت احکام المسلمین واحکام اھل الشرک لاتکون دارحرب انتہی۲؎۔
 درمختار کے حاشیہ طحطاوی میں ہے
قولہ باجراء احکام اھل الشرک
 (اس کا قول کہ اہل شرک کے احکام کے اجراء سے دارالحرب بن جاتا ہے) سے مراد یہ ہے کہ وہاں اعلانیہ احکامِ شرک نافذ کئے جائیں اور اہل اسلام کا کوئی حکم بھی نافذ نہ ہو، ہ
ندیہ میں یوں ہےکہ اس سے ظاہر ہے کہ اگر وہاں احکامِ شرک اور احکامِ اسلام دونوں نافذ ہوں تو دارالحرب نہ ہوگااھ۔(ت)

 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار     کتاب الجہاد      فصل فی استیمان الکافر   دارالمعرفۃ بیروت   ۲/ ۴۶۰)

اور اسی طرح حاشیہ شامیہ میں نقل کرکے مقرر رکھا،
اقول و باﷲ التوفیق
 والدلیل علی ذٰلک امران
 الاول :قول محمد وھوالطراز المذھب انھا تصیردارحرب عند الامام بشرائط ثلث
 احدھا: اجراء احکام الکفار علی سبیل الاشتھار وان لایحکم فیھا بحکم الاسلام فانظر کیف زادالجملۃ الاخیرۃ ولم یقتصر علی الاولی فلو لم یفسر کلامھم بماذکرنا لکان کلام الامام قاضیا علیھم وناھیک بہ قاضیا عدلا،
 اقول وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں او ر توفیق اﷲ تعالٰی سے ہے)
اس پر دلیل دو چیزیں ہیں:
اول یہ کہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی جو مذہب کے ترجمان ہیں ان کا یہ قول کہ وہ علاقہ امام صاحب رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک تین شرطوں سے دارالحرب بنتا ہے
 ان میں سے ایک یہ کہ وہاں کفار کے احکام اعلانیہ جاری کئے جائیں اور کوئی اسلامی حکم نافذ نہ ہو، تو غور کرو کہ انہوں نے آخری جملہ کیسے زائد فرمایا اور صرف پہلے جملہ پر اکتفاء نہ فرمایا،
 اگر فقہاء کا کلام ہمارے ذکر کردہ بیان سے واضح نہ بھی کیاجائے توصرف امام صاحب کا کلام ہی فیصلہ کن ہے تجھے یہی فیصلہ کن کلام کافی ہے

فالثانی: ان ھٰؤلاء العلماء ھم الذین قالوا فی دارالحرب انھا تصیر دارالاسلام باجراء احکام الاسلام فیھا
فاما ان تقولوا ھٰھنا ایضا انھا تصیردار الاسلام باجراء بعض احکام الاسلام ولومع جریان بعض احکام الکفر
فعلی ھذاترفع المباینۃ بین الدارین
 اذکل دارتجری فیھا الحکمان مع استجماع بقیۃ شرائط الحربیۃ تکون دارحرب واسلام جمیعا لصدق الحدین معًا وکذا لواردت الخلوص والتمحض فی کل الموضعین یعنی ان دارالحرب مایجری فیھا احکام الشرک خالصۃ ودارالاسلام مایحکم فیھا باحکام الاسلام محضۃ فعلی ھذاتکون دارالتی وصفناھالک واسطۃ بین الدارین ولم یقل بہ احد، واماان ترید التمحض فی المقام الثانی دون الاول فھذا یخالف ماقصدہ الشارع من اعلاء الاسلام
 وبنی العلماء کثیرا من الاحکام علی
“ان الاسلام یعلوولایعلی”
، علی انہ یلزم ان تکون دورالاسلام باسرھا دور حرب علی مذھب الصاحبین اذااجری فیھا شیئ من احکام الکفر او حکم فیھا بعض مالم ینزل اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی وھو معلوم مشاہد فی ھذہ الامصار بل من قبلھا بکثیر حیث فشاالتھاون  فی الشرع الشریف وتقاعد الحکام عن اجراء احکامہ وترقی اھل الذمۃ علی خلاف مراد الشریعۃ عن ذل ذلیل الی عزجلیل اعطوامناصب رفیعۃ ومراتب شامخۃ منیعۃ حتی استعلواعلی المسلمین ورحم اﷲ للقائل کما نقل المولی الشامی؎
حبابنانوب الزمان کثیرۃ
وامرّمنھا رفعۃ السفھاء
فمتی یفیق الدھر من سکراتہ
وأری الیھود بذلۃ الفقھاء ۱؎
وکذلک ارتضی بعض الظلمۃ من حکام الجور بعض البدعات التی خرقھا ائمۃ الکفر فاجروھا فی بلادھم کتحلیف الشھود و الزام المصادرات والمکوس ووضع الوظائف الباطلۃ علی الاموال والنفوس الی غیر ذٰلک من الاحکام الباطلۃ ویسلم ھذاالامر الفظیع من اشنع الشنائع الھائلۃ فوجب القول بان المراد فی المقام الاول ھوالخلوص والتمحض دون الثانی وھو المقصود ،
دوسری چیز یہ کہ یہی وہ علماء کرام ہیں جنہوں نے دارالحرب کے متعلق فرمایا کہ وہ دارالاسلام بن جاتا جب اس میں اسلامی احکام جاری کئے جائیں،
تو اگر یہاں بھی وہ بعض اسلامی احکام مراد لیں(جس طرح کہ دارالحرب کے لئے کفار کے بعض احکام تم نے مراد لئے) تو جب بعض اسلامی احکام کے ساتھ کچھ احکام کفار ہوں گے تو اس سے دارالحرب اور دارالاسلام کے درمیان فرق ختم ہوجائے گا،
 کیونکہ ان دونوں میں سے ہرایک میں دونوں قسم کے حکم پائے جائیں گے اگرچہ کفار کے احکام زائد  ہوں تو لازم آئے گا کہ ہر ایک دارالحرب اور دارالاسلام بھی ہو کیونکہ دونوں پر ہرایک کی تعریف صادق آئے گی،
اگر تم یہاں یہ مراد لو کہ ہر دار میں اس کے تمام احکام وہاں نافذ ہوں اور ایک دوسرے کے احکام سے خالی ہوں یعنی دارالحرب وہ ہے جس میں تمام احکام خالص کفر کے ہوں اور دارالاسلام وہ ہے جس میں خالص اسلامی احکام ہوں، تو اس سے لازم آئے گا کہ جس دار کی بحث ہورہی ہے وہ دونوں داروں میں واسطہ کہلائے گا یعنی وہ نہ دارالاسلام ہونہ دارالحرب ہو،
حالانکہ ایسے دار کا کوئی بھی قائل نہیں،
اگر تم یہ مراد لو کہ ثانی یعنی دارالاسلام میں توخالص اسلامی ہوں اورد وسرے یعنی دارالحرب میں خالص ہونا ضروری نہیں تو
 اس سے شارع کا مقصد اعلاء کلمہ اسلام اور اس کی ترجیح فوت ہوجائیگی جو شارع کے مقصد کے خلاف ہے
جبکہ علماء نے بہت سے احکام
''الاسلام یعلوولایعلٰی''
(اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا) کے قاعدہ پر مبنی قرار دئے ہیں،
 علاوہ ازیں یہ بھی لازم آئے گا کہ تمام دارالاسلام صاحبین کے مذہب پر دارالحرب قرار پائیں جبکہ ان میں کچھ احکامِ کفر پائے جاتے ہوں یااﷲ تعالٰی کے نازل کردہ حکم کے خلاف وہاں حکم نافذ پائے جاتے ہوں جیسا کہ آج کے دور میں مشاہدہ ہے
بلکہ قبل ازیں بھی ایسا رہاہے
جب سے شریعت کے بارے میں سستی ظاہرہوئی اور مسلمان حکام نے شرعی احکام کے نفاذ سے رو گردانی کر رکھی ہے، اور ذمی حضرات کو ترقی ملی ہے کہ خلافِ شرع ذلیل کی ذلت سے نکل کر بڑی عزت پارہے ہیں جن کو مسلمان حکمرانوں نے بلند منصب اور محفوظ مراتب عطا کررکھے ہیں یہاں تک کہ وہ مسلمانوں پر تعلی کرنے لگے ہیں، اﷲ تعالٰی ایک قائل پر رحم فرمائے جس کا کلام مولانا شامی نے نقل کیا ہے

(شعر کا ترجمہ)
''دوستو! زمانہ کے مصائب کثیر ہیں، ان میں سے سخت ترین بیوقوف لوگوں کا اقتدا ر ہے، تو کب زمانے کا نشہ ختم ہوگا جبکہ ملک یہودی بن کر فقہاء کی ذلت گاہ بن چکا ہے''۔
اور جیسا کہ بعض ظالم حکمرانوں نے کافر لیڈروں کی جاری کردہ کئی بدعات کو پسند کرتے ہوئے اپنے ملکوں میں جاری کردیا
مثلاً گواہوں سے حلف لینا، اور ٹیکس، چونگیاں اور لوگوں کے اموال اور نفوس پر باطل قسم کے محصولات لاگو کردئے، یہ پریشان کن برے معاملات مسلمان ملکوں میں ماننے پڑیں گے لہذا ضروری ہے کہ پہلے مقام یعنی دارالحرب میں خالص مکمل احکام کفر ہوں اور دوسرے یعنی دارالاسلام میں ایسا نہ ہو جبکہ یہی مدعٰی ہے،

 (۱؎ ردالمحتا ر    کتاب الجہاد         داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳/ ۲۷۵)

وبھذا تبین ان الدارالتی تجری فیھا الحکمان شیئ من ھذاوشیئ من ھذاکدارنا ھٰذہ لاتکون دارحرب علی مذھب الصاحبین ایضا
 لعدم تمحض احکام الشرک
 فمن الظن  ماعرض لبعض المعاصرین من بناء نفی الحربیۃ علی الھند علی مذھب الامام فقط فتوھم
 انہ لایستقیم علی مذھب الصاحبین واخطر الی تطویل الکلام بماکان فی غنی عنہ واشد سخافۃ واعظم شناعۃ مااعترٰی بعض اجلۃ المشاھیر من الذین ادرکناعصرھم اذحاولو انفی الحربیۃ عن بلادنا بناء علی عدم تحقق الشرط الثانی اعنی الاتصال بدارالحرب ایضًا فقالوامعنی الاتصال ان تکون محاطۃ بدارالحرب من کل جھۃ ولاتکون فی جانب بلدۃ اسلامیۃ وھو غیر واقع فی بلاد الھند
اذجانبھا الغربی متصل بملک الافاغنۃ کفشاور وکابل وغیرھما من بلاد دارالاسلام
 ، تو اس سے واضح ہوگیا کہ وہ دار جس میں دونوں قسم کے احکام کچھ کفر کے اور کچھ اسلام کے پائے جائیں جیسا کہ ہمارا یہ ملک ہے،
صاحبین کے مذہب پر بھی دارالحرب نہ ہوگا کیونکہ یہاں خالص محض احکام کفر نہیں ہیں
تو ہمارے بعض معاصرین کا یہ گمان کہ ہندوستان سے دارالحرب کی نفی کی بنیاد صرف امام صاحب کامذہب ہے،
اس کا وہم ہے کہ صاحبین کے مذہب پر درست نہیں ہے
 اس نے طویل کلام کیا جبکہ اس کی ضرورت نہیں تھی، کمزور ترین اور سب سے خطر ناک موقف وہ ہے جو ہمارے زمانہ کے مشہور اجلہ حضرات کو لاحق ہوا ہے کہ انہوں نے ہمارے اس ملک سے دارالحرب کی نفی کی بنیاد شرط ثانی یعنی کسی دارالحرب سے اتصال کے نہ پائے جانے کو قرار دیا ہے اور انھوں نے اتصال کا معنی لیا ہے کہ چاروں طرف سے دارالحرب میں گھرا ہوا ہو اور کسی طرف سے دارالاسلام سے نہ ملا ہوا ہو چونکہ اتصال کا معنٰی ہندوستان میں نہیں پایا جاتا لہذا یہ دارالحرب نہ ہوگا کیونکہ ہندوستان غربی جانب سے افغانوں کے ملک پشاور اور کابل وغیرہ دارالاسلام سے ملا ہوا ہے،

اقول:
 یالیتہ تفکر فی معنی الثغور
اونظر الی فضائل المرابطین فتأمل فی معنی الرباط
اوعلم ان مکۃ والشام والطائف وارض حنین وبنی المصطلق وغیرھا کانت دارحرب علی عھد النبی صلی اﷲتعالٰ علیہ وسلم مع اتصالھا بدارالاسلام قطعًا
 اوفھم ان الامام کلما فتح بلدۃ من بلاد الکفار واجری فیھا احکام الاسلام صارت دارالاسلام والتی تلیہا من البلاد تحت حکم الکفار دارحرب کما کانت
 اوتفطن ان لوصح ماقالہ لاستحال ان یکون شیئ من دیارالکفر دارحرب الاان یفصل بینھا وبین الحدود الاسلامیۃ البحاروالمفاوزولم یقل بہ احد، وذلک لانہ کلما حکمت علی بلدۃ بانھا دارحرب سألنا عما یحیطھا من البلاد فان کان فیھا من بلاد الاسلام کانت الاولی ایضا دارالاسلام لعدم الاتصال بالمعنی المذکور والانقلنا الکلام الی مایلاصقھا حتی ینتہی الی بلدۃ من بلاد الاسلام فتصیر کلھا دارالاسلام لتلازق بعضھا ببعض اولاتکون فی تلک الجھۃ بلدۃ اسلامیۃ الی منقطع الارض، وبالجملۃ ففساد ھذاالقول اظھر من ان یخفی وانما منشؤہ القیاس الفاسد
 وذٰلک ان الشرط عندالامام فی صیرورۃ بلدۃ من دارالاسلام دارالحرب ان لاتکون محاطۃ بدار الاسلام من الجہات الاربع وذٰلک
لان غلبۃ الکفار اذن علی شرف الزوال فلاتخرج بہ البلدۃ عن دارالاسلام
فزعم ان شرط الحربیۃ ان تکون محاطۃ بدارالحرب من جمیع الجوانب
 وما افسدہ من قیاس
کما لایخفٰی عماافادالناس۔
اقول (میں کہتا ہوں کہ)کاش وہ سرحدوں کے معنٰی پر غور کرلیتے،
یااسلامی سرحدوں کی نگرانی کی فضیلت کو دیکھتے ہوئے رباط کے معنی پر غور کرلیتے
 یا یہ معلوم کرلیتے کہ مکہ، شام، طائف، حنین، اور بنی مصطق کے علاقے وغیرہا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک زمانہ میں دارالحرب تھے حالانکہ ان سب کا دارالاسلام سے اتصال تھا،
 یا یہی سمجھ لیتے کہ مسلمان امام جب کفار کے کسی علاقہ کو فتح کرکے وہاں اسلامی احکام جاری کردیتا تو وہ علاقہ دارالاسلام بن جاتا ہے جبکہ اس سے متصل باقی علاقے جو کفار کے قبضہ میں بدستور ابھی تک موجود ہیں وہ پہلے کی طرح دارالحرب ہیں،
 یاان کو سمجھ آتی کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اگر صحیح ہوتو پھر دنیا بھر میں کوئی بھی دارکفر اس وقت تک دارالحرب نہ کہلائے جب تک ان میں اور دارالاسلام میں سمندروں اور بیابانوں کا فاصلہ نہ ہو، حالانکہ کوئی بھی دارالحرب کے اس معنٰی کا قائل نہیں ہے،
یہ اس لئے کہ جب آپ کسی ملک کو دارالحرب کہیں گے تو ہم استفسار کریں گے کہ اس کے ارگرد کن ملکوں کا احاطہ ہے اگر کوئی بھی ان میں سے دارالاسلام ہوتو پہلاملک (دارالحرب) بھی دارالاسلام قرار پائے کیونکہ وہ اتصال جودارالحرب کا معیار ہے وہ نہ پایاگیا،
 ورنہ اگر ارد گرد اسلامی ملک نہ ہوتو پھر ہم اس سے ملنے والے دوسرے ملک کی بابت معلوم کریں گے حتی کہ ملتے ملاتے کوئی دارالاسلام پایاگیا تو یہ درمیان والے تمام ملک دارالاسلام ہوجائیں گے کیونکہ ان ملکوں کا آپس میں ایک دوسرے سے اتصال ہوگیا ہے،
یاپھر یہ تسلیم کیاجائے کہ اس جہت میں کرہ ارض میں کوئی بھی دارالاسلام نہیں۔
 خلاصہ یہ ہے کہ دارالحرب کے اس میعاد والے قول کا فساد واضح ہے جس میں کچھ بھی خفاء نہیں ہے،
 اس کی بنیاد یہ فاسد قیاس ہے کہ
 امام صاحب کے نزدیک کسی دارالاسلام کے دارالحرب بننے کے لئے یہ شرط ہے کہ
 چاروں اطراف سے وہ ملک دارالاسلام میں گھراہوانہ ہو کیونکہ اگر وہ گھراہوا ہوتو اس دارالحرب میں کفار کا غلبہ معرض سقوط میں رہے گا تو یوں وہ دارالاسلام سے خارج نہ رہے گا،
لہذا انہوں نے خیال کرلیا کہ کسی ملک کے حربی ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ چاروں طرف سے حربی ملکوں میں گھراہواہو،
 یہ قیاس نہایت ہی فاسد ہے جو عوام الناس کے لئے بھی مخفی نہیں۔(ت)
الحاصل ہندوستان کے دارالاسلام ہونے میں شک نہیں
عجب ان سے جو تحلیل ربٰو کے لئے (جس کی حرمت نصوص قاطعہ قرآنیہ سے ثابت اور کیسی کیسی سخت وعیدیں اس پروارد) اس ملک کو دارالحرب ٹھہرائیں
 اور باوجود قدرت واستطاعت ہجرت کا خیال بھی دل میں نہ لائیں گویا یہ بلاد اسی دن کے لئے دارالحرب ہوئے تھے کہ مزے سے سود کے لطف اڑائیے اور بآرام تمام وطن مالوف میں بسر فرمائیے

استغفراﷲ،

افتؤمنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض۱؎  
(میں اﷲ تعالٰی سے مغفرت چاہتا ہوں، تو کیا بعض کتاب پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو۔ت)
اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی فرماتا ہے سود کھانیوالے قیامت کو آسیب زدہ کی طرح اٹھیں گے ۲؎
یعنی مجنونانہ گرتے پڑتے بدحواس۔

 (۱؎ القرآن الکریم                    ۲/ ۸۵ )(۲؎القرآن الکریم                    ۲/ ۲۷۵)

اور حضور پر نور سرور عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
میں نے کچھ لوگ ملاحظہ فرمائے کہ پیٹ ان کے پھول کر مکانوں کے برابر ہوگئے ہیں اور مثل شیشہ کے ہیں کہ اندر کی چیز نظر آتی ہے سانپ بچھو ان میں بھرے ہیں، میں نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں؟جبریل نے عرض کیا : سود کھانے والے۳؎۔

 (۳؎ سنن ابن ماجہ      باب التغلیظ فی الربا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۵)

جب تحریم ربٰو کی آیت نازل ہوئی بعض مسلمانوں نے کہا: جو سودہمارانزولِ آیت سے پہلے کا رہ گیا ہے وہ لے لیں آئندہ باز رہیں گے۔ حکم آیا اگر نہیں مانتے تو اعلان کردو اﷲ اور اﷲ کے رسول سے لڑائی کا۔۴؎

 (۴؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۹)

سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے سود خور پر لعنت کی۔۵؎

(۵؎ صحیح مسلم         باب الربا          قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۲۷)

مولٰی علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں:
میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو سود خور پر لعنت فرماتے سنا۶؎،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سود کے ستر ٹکڑے ہیں سب سے ہلکا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۷؎۔

 (۶؎ مسند احمد بن حنبل             دارالفکر بیروت     ۱/ ۱۵۸)


(۷؎ سنن ابن ماجہ     باب التغلیظ فی الربا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۵ و مشکوٰۃ المصابیح، باب الربا، مطبع مجتبائی دہلی ص۲۴۶)
فتاوی رضویہ ،جلد ۱۴


0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں