ملحدین سے قبر میں سوالات اور جوابات

"ملحد مرتا بھی ہے اور قبر میں دفن بھی ہوتا ہے"
.
ابھی تک اس کی سائنس نے موت کو شکست نہیں دی، بلکہ موت ان کی سائنس و ٹیکنالوجی پر ہنستی ہے، یہ ناممکن ہے کہ کبھی موت کو شکست دے پائیں گے،
بہر حال ابھی لبرل و ملحد مرتا بھی ہے اور قبر میں دفن بھی ہوتا ہے، اسے اٹھا کر اندھیر کوٹھری میں ڈالا جاتا ہے، تن تنہا کوئی پرسان حال نہیں،
قبر میں فرشتے جب لبرل و ملحدین سے پوچھتے ہوں گے،
من ربک
تیرا رب کون ہے؟
ملحد کیا کہتا ہو گا رب تو ہے ہی نہیں کوئی، اگر رب ہوتا تو نظر آتا،
فرشتے بھی زبان حال سے کہتے ہوں گے اگر رب نہ ہوتا تو تم یہاں کیسے ہوتے، یہاں قبر میں تم اپنی مرضی سے آئے ہو یا لائے گئے ہو؟
چل یہ بتا
ما دینک
تیرا دین کیا ہے؟
لبرل و ملحد کیا کہے گا، دین کوئی نہیں انسان آزاد ہے دین پابندیاں لگاتا ہے،
فرشتے زبان حال سے کہیں گے آج آزاد ہو کر دکھا اس بند کوٹھری سے، آزادی سے جینا چاہتا ہے آزادی سے جی کر دکھا، آزاد تو تب ہوتا جب خود پر تیرا مکمل اختیار ہوتا،
چل یہ بتا
من نبیک،
“ما تقول فی ہذا الرجل الذی بعث فیکم
تیرا نبی کون ہے؟
اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جس کو تمہارے اندر نبی بنا کر بھیجا گیا؟
لبرل و ملحد کیا کہے گا، یہ وہی ہے جس کی میں گستاخیاں کرتا رہا، جس کے گستاخوں کو میں سپورٹ کرتا رہا، مجھے اس سے شدید بغض تھا،
فرشتے زبان حال سے کہیں گے، اگلی منزل پر یہی تمہیں ملیں گے اور یہی وہ ہیں جنہوں نے اس منزل سے پار لے کر جانا ہے، جن کو وہ ساتھ لے کر جائیں گے وہی پار ہو گا جن کو چھوڑ دیا وہ ہمیشہ غوطے کھاتے رہے گا آگ کے دریاؤں میں،
یہی تو واحد سہارا ہے محشر کے دن تم نے اسی سے دشمنی مول لے لی، کس بنا پر دشمنی رکھی تم نے ان سے، کیا بگاڑا تھا انہوں نے تمہارا جو ان کی گستاخی کرتا رہا، تیرے دل میں ان کے لیے بغض و کینہ کس لیے بھرا رہا،کیا تکلیف دی تھی اس ہستی نے تم کو، کیا اس ایک شخص کی توہین کیے بنا تیری زندگی نہیں گزر سکتی تھی؟ اس کے گستاخوں کی طرف داری کرنے کی تمہیں جرات کیسے ہوئی،
تو اپنی اوقات سے باہر کیوں نکل گیا، اور بھی تم سے اہم لوگ تھے جو اس ہستی کے پیروکار نہیں رہے لیکن اس کی گستاخی بھی نہیں کی،
اور بھی تم سے بہت اہم لوگ تھے، جن کی دنیا میں شہرت رہی، جن کے پاس بے شمار دولت رہی، جو اس ہستی کے پیروکار نہیں تھے لیکن اس کی مدح و تعریف کی، تو اپنی اوقات سے باہر کیوں نکلا؟
آج پار نہیں جا سکتا تو ، درد ناک عذاب تیرا مقدر بن چکا ہے، ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ تیرا شروع ہو گیا ہے مسلسل سزائیں و صعوبتیں تمہیں جھیلنی ہیں، کوئی حمایتی نہیں تیرا آج، کوئی سفارشی نہیں تیرا آج، آج تو تنہا ہی بھگتے گا
.
فلحال
اس کو آگ کا لباس پہنا دیا جائے،
اس کے لیے آگ کا بستر بچھا دو،
جہنم کی طرف سے دروازہ کھول دو تاکہ شعلے کی طرح دہکتا رہے یہ،
قبر کی کوٹھری اتنی تنگ کر دو کہ اس کی پسلیاں پسلیوں سے مل جائیں،
ہاں یہی تو وہ دن ہے جس کا تیرے ساتھ وعدہ کیا جاتا رہا ہے،