کیا اس صورت میں ھجرت جائز ھے..؟امام احمد رضا بریلوی سے سوال

مسئلہ۱:
از بریلی پرانا شہر محلہ سیلانی مسئولہ مستقیم نداف یکم ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ

زید کے تین بیٹے ہیں، ایک مرضِ مرگی میں مبتلا ہے، دوسرا بیٹا جوان گھر سنبھالو،
اگر وہ نہ ہوں تو زید اور اس کی اہلیہ دوسروں کے محتاج ہوجائیں کیونکہ ضعیفی کا عالم ہے
، بڑا بیٹا بعزمِ ہجرت کابل وداع ہوتا ہے کل کی تاریخ میں، 
اور اس کی بیوی سال بھر کی بیاہی پورے دن امید کے ہیں، اور اس کو بھی چھوڑے جاتا ہے۔
جو حکم قرآن و حدیث شریف کا ہو اس میں ہر گز انکار نہیں۔

الجواب:
اس صورت میں کابل کی ہجرت اسے جائز نہیں، حدیث میں ہے:
کفی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت۔۱؎
واﷲتعالٰی اعلم۔ 
کسی آدمی کے گنہگار ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ اسے ضائع کردے 
جس کی روزی اس کے ذمہ تھی۔
واﷲتعالٰی اعلم(ت)

(۱؎ سنن ابوداؤد کتاب الزکوٰۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۳۸)
(مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ۲/ ۱۶۰،۱۹۴،۱۹۵)(المعجم الکبیر حدیث ۱۳۴۱۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۳۸۲)

فتاوی رضویہ،جلد 14
امام احمد رضا خان بریلوی