فری منٹس کا شرعی حکم

فری منٹس کا شرعی حکم:
سوال:
بعض موبائل کمپنیاں مثلا Jazz میں اکاؤنٹ کھولنے پر مفت منٹ استعمال کے لیے ملتے ھیں،
یعنی اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپے رکھنے پر تیس مفت منٹ استعمال کے لئے ملیں گے.
از رؤئے شرع بیان فرمائیں کہ اس اکاؤنٹ کے ذریعہ ملنے والے مفت منٹس کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں.؟
جواب:
مسئولہ صورت میں کمپنی چونکہ باقاعدہ ایک معاہدہ کے تحت اپنے اکاؤنٹ ہولڈر کو مذکورہ سہولیات دیتی ہیں،جب کہ اکاؤنٹ ہولڈر کی رقم (مشروط معاہدہ کے مطابق ) کمپنی کے پاس بطور قرض ھوتی ہے.
قرض کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں بنتی .
یھی وجہ ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈر جب بھی اپنی رقم لینا چاہے،لے سکتا ہے
اور اسے رقم بھی واپسی پر پوری ملتی ہے.
جب وہ کمپنی پر قرض ہے ،اور کمپنی خواہ مسلمانوں کی ہو یا کفار کی،ایک مخصوص معاہدہ کے تحت قرض کے بدلے مذکورہ سہولیات دیتی ہے،
تو کمپنی کا قرض کے بدلے مشروط نفع دینا شرعا #سود ہے
اور اکاؤنٹ ہولڈر کا مفت منٹ کی صورت میں نفع لینا نا جائز و #حرام ھے .

مختصرا

مفتی محمد اکمل قادری رضوی
نائب مفتی جامعہ نظامیہ ،لاہور

"ماہنامہ ،النظامیہ ،اپریل 2017،ص-44،"
#islam #fatwa #jazz #balance #free_balance