تازہ ترین
کام جاری ہے...
Tuesday, May 2, 2017

فری منٹس کا شرعی حکم

May 02, 2017

فری منٹس کا شرعی حکم:
سوال:
بعض موبائل کمپنیاں مثلا Jazz میں اکاؤنٹ کھولنے پر مفت منٹ استعمال کے لیے ملتے ھیں،
یعنی اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپے رکھنے پر تیس مفت منٹ استعمال کے لئے ملیں گے.
از رؤئے شرع بیان فرمائیں کہ اس اکاؤنٹ کے ذریعہ ملنے والے مفت منٹس کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں.؟
جواب:
مسئولہ صورت میں کمپنی چونکہ باقاعدہ ایک معاہدہ کے تحت اپنے اکاؤنٹ ہولڈر کو مذکورہ سہولیات دیتی ہیں،جب کہ اکاؤنٹ ہولڈر کی رقم (مشروط معاہدہ کے مطابق ) کمپنی کے پاس بطور قرض ھوتی ہے.
قرض کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں بنتی .
یھی وجہ ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈر جب بھی اپنی رقم لینا چاہے،لے سکتا ہے
اور اسے رقم بھی واپسی پر پوری ملتی ہے.
جب وہ کمپنی پر قرض ہے ،اور کمپنی خواہ مسلمانوں کی ہو یا کفار کی،ایک مخصوص معاہدہ کے تحت قرض کے بدلے مذکورہ سہولیات دیتی ہے،
تو کمپنی کا قرض کے بدلے مشروط نفع دینا شرعا #سود ہے
اور اکاؤنٹ ہولڈر کا مفت منٹ کی صورت میں نفع لینا نا جائز و #حرام ھے .

مختصرا

مفتی محمد اکمل قادری رضوی
نائب مفتی جامعہ نظامیہ ،لاہور

"ماہنامہ ،النظامیہ ،اپریل 2017،ص-44،"
#islam #fatwa #jazz #balance #free_balance

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں