سیکولر سوچ کا انجام موت ھے

بہت ہی اہم پوسٹ ہیں
سمندر پُر سکون تھا ۔ ۔ ۔ جہاز کی دونوں منزلیں پر بھرپور زندگی کارفرما تھی ۔ ۔ ۔
قہقہے ، رونقیں ، خوش گپیاں ، چہل پہل ، سلام دعا ۔ ۔ ۔ ۔
مطلع صاف تھا ، ھوا میں ہلکی سی خنکی تھی ۔ ۔ ۔
کئی لوگ عرشے پر واقع کینٹین میں چاۓ ، کافی اور مشروبات سے دل بہلا رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔
خواتین و حضرات ۔۔ ۔ متوجہ ھوں ۔ !!!
کپتان کی پریشان اور بھرّائی ھوئی آواز جہاز میں گونجنے لگی ۔ ۔ ۔
ایک بڑے طوفان کی اطلاع دی جاتی ھے ۔ ۔ سب لوگ ایمرجنسی کے لئے تیاری کر لیں ۔ ۔ ۔
جہاز پر یکدم سنّاٹا چھا گیا ۔ ۔ ۔ ۔
اور پھر پورے جہاز پر ہلچل۔ ۔ ۔سسکیاں ۔ ۔آہ و بکا۔۔۔
نااُمّیدی کے سائے ۔ ۔ ۔ ۔

خواتین و حضرات !!
طوفان میں گِھرے ، ایک ڈوبتے جہاز نے اپنے بچاؤ کی تدابیر کی اطلاع کی ھے ۔ ۔،،
ابھی فوراً سب لوگ لائف جیکٹس پہن لیں ۔ ۔
اور جہاز سے اُتر کر لائف بوٹس میں سوار ہو جائیں ۔ ۔ ۔
جہاز کا عملہ آپ کی رھنمائی کرے گا ۔ ۔ ۔
یہ آخری اعلان ھے ۔ ۔ ۔
اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ھو ۔ ۔ ۔
خدا حافظ ۔ ۔ ۔۔!!!

یہ سب جھوٹ ھے ، غلط ھے ، میں نہیں مانتا !!
ایک مسافر زور سے دھاڑا ۔ ۔ ۔
تمہارا دماغ چل گیا ھے ۔ ۔ ۔جلدی کرو ۔ ۔ ۔نکلو ۔۔۔،،،،
اس کے دوست نے گزارش کی ۔ ۔ ۔
میں نہیں جاؤں گا ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا ۔ ۔ ۔
دیکھو تو سمندر کتنا پُر سکون ھے ۔ ۔ ۔
اور اس کپتان کا شائد دماغ کام نہیں کر رھا ۔ ۔ !!! ۔ ۔۔۔۔ ۔
ارے وہ اس لائن کا ماہر ہے ، ھمیں تو نہیں دکھائی دے رہا لیکن اسے سب نظر آ رہا ھے ، ۔ ،، دماغ اس کا نہیں تمہارا چل گیا ھے ، ،،،،
مان لو تو بچ جاؤ گے ورنہ مارے جاؤ گے ، ،،، چلو چلو جلدی کرو. !!! ۔ ۔ ۔ ۔
میں کوئی بے وقوف ھوں ، اتنا پڑھا لکھا ھوں ، مجھے مت سمجھاؤ ، ، ، جانا ھے تو جاؤ ، مجھے مجبور نہ کرو ۔ ۔ !!!

وہ اکیلا ھی جہاز میں گھوم رھا تھا ، قیمتی چیزیں اکٹھی کر رھا تھا ، ، ، ، وہ بہت خوش تھا ۔ ۔ ۔
ذرا عرشے پر واک کرتا ھوں ۔ ۔
دور دور تک مطلع صاف تھا ۔ ۔
سمندر بھی بالکل خاموش تھا ۔ ۔ ۔
دور دھندلکے میں اسے کوئی اُٹھتی ھوئی چیز نظر آنا شروع ھوئی ۔ ۔ ۔ ،،،،!!!

یہ کیا ھو سکتا ھے ؟ وہ سوچ میں پڑ گیا ،،،!!
منظر صاف ھوا تو اس کی چیخ نکل گئی ۔ ۔ ۔ وہ تو ایک بڑی طوفانی لہر تھی ۔ ۔ ۔
وہ چلّاتا ھوا عرشے پر دوڑنے لگا ۔ ۔ ۔ مگر اب دیر ھو چکی تھی ۔ ۔بچاؤ کے راستے مسدود ہو چکے تھے ۔ ۔ ۔ ھاۓ میں کیا کروں ؟ کہاں جاؤں ؟ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔ ۔ ۔ !!! ۔۔۔اسے اپنے دوست کی باتیں یاد آ رہی تھیں ، اسکی منتیں ، مگر موقع اس کے ھاتھ سے نکل چکا تھا ،وہ یہ بازی ہار چکا تھا ۔ ۔۔ ۔ !!!
اور جب وہ طوفانی لہر اس جہاز سے ٹکرائی اور جہاز کو ایسا جھٹکا لگا کہ وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور ایک بے جان پتھر کی طرح اڑتا ھوا ۔ ۔ ۔ سمندر میں جا گرا اور اس کی آخری چیخ پانی کے طوفانی شور میں دب گئی ۔ ۔ ،،!!!
۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔
۔۔۔ ۔ ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں ھے جنّت ۔ ؟۔۔ ۔ ۔مجھے دکھاؤ !!
قبر کے عذاب مجھے نظر نہیں آتے۔ ۔ ۔!!
اللہ تعالی کو کس نے دیکھا ۔ ؟؟؟
میں نے دنیاوی علوم میں اتنی دسترس حاصل کر لی مگر ان دینی مغیبات کا کچھ پتہ نہ چل سکا ، اگر یہ سچ ھوتی تو مشاہدہ میں بھی نہ آ جاتی. !!!
یہ ایسے ہی سنی سنائی باتیں ھیں ، بے بنیاد ہیں !!!
مگر یہ نہ جانا کہ سب سچوں کے سچے ، آخرت کی لائن کے ماھر ، ، ، ، آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم ، ، ایک خبر دے رھے ھیں ، ، ،
آخرت کے اعتبار سے وہ بینا اور آنکھوں والے ھیں ، ، ، ، ۔ ۔ ۔ سب دنیا والے آخرت کے اعتبار سے اندھے ھیں ۔ ۔
نابینا کی خیر اور زندگی بینا کی ماننے میں ھے ، ورنہ نامعلوم کس کھائی یا گڑھے میں جا گرے ۔ ۔ ۔
اور اگر اپنے مشاہدات اور تجربات کے پیچھے چلتے رہے تو انجام اس بے وقوف مسافر جیسا ھی ھوگا ۔ ۔ ۔،،،،!!! مگر اس وقت سواۓ پچھتاوے کے اور کوئی کام نہ ھو گا ، جو بے سود ھو گا ۔ ۔ ۔ ۔!!!

جیسی کرنی ویسی بھرنی ، نہ مانے تو کر کے دیکھ ۔ ۔ ۔
جنت بھی ھے دوزخ بھی ھے ، نہ مانے تو مر کے دیکھ ۔ ۔