سیکولرز کی دو اقسام

ہمارے معاشرے میں دو طرح کے سیکولر پائے جاتے ہیں ایک وہ ہیں جن کو معلوم ہے کہ وہ سیکولر ہیں، جو باقاعدگی کے ساتھ سیکولرزم نظریات کو عام عوام پر مسلط کرنے کے مشن پر قائم ہیں ، جنہیں اس مد میں بھاری معاوضے بھی دیئے جاتے ہیں ، جب کہ دوسری طرف وہ سیکولر لوگ ہیں جنہیں نہیں معلوم کہ وہ سیکولر ہوچکے ہیں.

، ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد لاشعوری طور پر سیکولر بن گئی ہے اور بن رہی ہے، وہ خود کو سیکولر نہیں کہلواتے لیکن جب وہ بات کررہے ہوتے ہیں وہ لکھ رہے ہوتے ہیں تو زباں و قلم سے سیکولزم جھلک رہا ہوتا ہے ،کیمبرج انگلش ڈکشنری کے مطابق ”سیاسی و معاشرتی معاملات میں مذہب کی عدم مداخلت کا نام سیکولرزم ہے، ہم میں سے کتنے حاجی نمازی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے نظریات سیکولر ہیں مطلب وہ اسلام کو ذاتی زندگی تک محدود کرنے کے قائل ہیں وہ اس نظریئے کو تسلیم کرچکے ہیں اور ایسے سیکولر لوگوں کی تعداد ہمارے معاشرے میں بہت ذیادہ ہے اور یہ مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے، یہ یاد رکھیں کہ اسلام اور سیکولرزم ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے جہاں اسلام ہوگا وہاں سیکولزم کی نفی کرنی ہوگی اور جہاں سیکولرزم ہوگا وہاں اسلام نہیں ہوسکتا ۔

سید وجاہت