میت کو غسل دینے کا سنت طریقہ

غُسلِ میِّت کا طریقہ

اگر بتّیاں یا لُوبان جلا کر
تین، پانچ یا سات بار غُسل کے تختے کو دُھونی دیں یعنی اتنی بار تختے کے گِرد پِھرائیں ،

تختے پر میِّت کو اِس طرح لِٹائیں جیسے قَبْر میں لِٹاتے ہیں ،

ناف سے گُھٹنوں سَمیت کپڑے سے چُھپادیں۔(آج کل غُسل کے دَوران سفید کپڑا اُڑھاتے ہیں اوراس پرپانی لگنے سے میِّت کے سَتْرکی بے پردَگی ہوتی ہے لہٰذا کتَّھیٔ یا گہرے رنگ کااِتنا موٹا کپڑاہو کہ پانی پڑنے سے سَتْر نہ چمکے، کپڑے کی دو تہیں کر لیں تو زیادہ بہتر ھے )

اب نہلانے والا اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر پہلے دونوں طرف اِستِنجاکروائے (یعنی پانی سے دھوئے)

پھر نَماز جیسا وُضو کروائیں یعنی تین بارمُنہ پھر کُہنیوں سَمیت دونوں ہاتھ تین تین بار دُھلائیں ، پھر سَر کا مَسْحْ کریں ،پھر تین بار دونوں پاؤں دُھلائیں ۔

میِّت کے وُضُو میں پہلے گِٹّوں تک ہاتھ دھونا،کُلّی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا نہیں ہے،
البتّہ کپڑے یا رُوئی کی پُھرَیْری بِھگو کر دانتوں ، مَسُوڑھوں ،ہونٹوں اور نَتھنوں پر پھَیر دیں۔ پھر سَریاداڑھی کے بال ہوں تو دھوئیں۔

اب بائیں (یعنی اُلٹی)کَروٹ پر لِٹا کر بَیری کے پتّوں کا جوش دیا ہوا (جو اَب نیم گرم رہ گیا ہو)اور یہ نہ ہو تو خالِص پانی نیم گرم سَر سے پاؤں تک بَہائیں کہ تختے تک پَہُنچ جائے۔

پھر سِیدھی کروَٹ لِٹا کر بھی اِسی طرح کریں

پھر ٹَیک لگا کر بٹھائیں اور نرمی کے ساتھ پیٹ کے نِچلے حصّے پر ہاتھ پھَیریں اور کچھ نکلے تو دھو ڈالیں۔دوبارہ وُضُو اور غُسل کی حاجت نہیں

پھر آخِر میں سَر سے پاؤں تک تین بار کا فُور کا پانی بہائیں۔پھر کسی پاک کپڑے سے بدن آہِستہ سے پُونچھ دیں۔

ایک بار سارے بدن پر پانی بہانا فَرْض ہے اور تین بار سنت۔(غسلِ میِّت میں بے تحاشہ
پانی نہ بہائیں آخرت میں ایک قطرے قطرے کاحساب ہے یہ یاد رکھیں )

"ماخوذ از کتاب
"کفن کا طریقہ"