ترک سیکولرازم کا آنکھوں دیکھا حال – مجیب الحق حقی

ترک سیکولرازم کا آنکھوں دیکھا حال – مجیب الحق حقی

آئیے آپ کو آج سے بیس سال قبل کے ترکی کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔ پی آئی اے کے ہم تین ساتھیوں نے عمرے کا ارادہ کیا اور طے ہوا کہ ویزہ کھلتے ہی روانہ ہوں گے تاکہ رش سے بچ کر سکون سے عبادات کریں۔ لیکن معلوم ہوا کہ ابھی ویزہ ان لوگوں کو مل رہا ہے جن کو یورپ سفر پر جانا ہے۔ لہذا پی آئی اے کی ملازمت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہم نے ترکی اور یونان کے ویزے آسانی سے لیکر عمرے کا ویزہ لیا۔ پروگرام یہی بنا کہ استنبول سے ایتھنز اور وہاں سے جدّہ۔

استنبول ائیرپورٹ پر ہی اندازہ ہوگیا کہ ترکی کے لوگ پاکستانیوں سے بڑی محبّت کرتے ہیں۔ امیگریشن آفیسر بڑی خوش اخلاقی سے پیش آیا اور اس کا رویّہ اوروں کے مقابلے میں ہمارے ساتھ بے تکلّفانہ تھا۔ میرے نام کی اسپیلنگ سے لطف لیتے ہوئے حق حقّی کو حُچ حچّی پڑھا کیونکہ شاید ترکی میں یہی Q کاتلفظ ہو۔ ان دنوں لیرا کی قدر بہت کم تھی۔ ہر چیز ہزاروں میں تھی۔ بہرحال ایک خوشگوار تاثر کے ساتھ ہم شہر پہنچے اور ایک مناسب ہوٹل میں ٹھہر گئے۔ راستے کے نظارے نہایت خوبصورت تھے۔ واقعی استنبول بہت خوبصورت لگا۔

خیر جناب کچھ آرام کے بعد شام کو باہر نکلے تو مشرق اور مغربی تہذیب کا ایک سنگم دیکھا۔ خواتین اسکرٹ اور روایتی جینز میں نظر آئیں۔ کچھ اسکارف بھی پہنے ہوئے تھیں۔ رات ہوئی تو ہوٹلوں میں بہار آئی۔ ہم لوگ مٹر گشت کرتے رہے۔ دیکھا کہ شراب عام تھی اور اس سے منسلک تمام خرافات بھی۔ رات گئے آ کر دراز ہوئے۔ میں نے اندازہ لگایا کہ وہاں لوگ مجھے بہت دلچسپی سے دیکھتے اور پوچھتے پاکستانی؟ میں مسکرا کر سر خم کرکے کہتا، پاکستانی۔ میرے ساتھیوں نے کہا کہ یہ تمھاری داڑھی کو دیکھتے ہیں، تم کو نہیں۔ مجھے ترکوں کا یہ التفات اچھا لگا۔ ان سے انسیت اس لیے بھی لگی کہ ہماری فیملی ترکی النّسل ہے۔

اگلی صبح جمعہ تھا، ہم لوگ تیار ہو کر نکلے اور ہوٹل والے سے مسجد کا پتہ پوچھا، معلوم ہوا کہ ایک نماز کی جگہ قریب ہی ہے جہاں جمعہ کی نماز بھی ہوتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ تقریباً 98% ترک حنفی ہیں۔ جگہ تلاش کر کے پہنچے تو دیکھا کہ ایک چھوٹی عمارت کا غالباً بیسمنٹ تھا جس میں نمازی بھرے تھے۔ ہم بھی جیسے تیسے پھنس کر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد خطبے کی اذان ہوئی، اس کے بعد ایک کلین شیو صاحب آگے بڑھے، پینٹ شرٹ پر جُبّہ پہنا اور ایک مصنوعی داڑھی لگا کر منبر پر آئے اور خطبہ شروع کیا۔ میں اور ساتھی بڑے حیران ہوئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ خلافت کے خاتمے کے بعد ترک سیکولرازم میں داڑھی پر بھی پابندی ہے۔ شہر بھر میں کوئی داڑھی والا نظر نہیں آیا۔ ہم پر اس کا کوئی اچھا تاثر نہیں پڑا۔ پی آئی اے آفس جانے کے لیے پوچھ کر بس میں سفر کیا۔ بہت رش تھا۔ اس میں عورت مرد سب برابر کھڑے ہوکر سفر کر رہے تھے۔

انسان استنبول جائے اور توپ کاپی محل اور مسجد سلطان نہ جائے! یہ بھلا کیسے ممکن ہے۔ توپ کاپی کے عجائب گھر اور بلیو مسجد تو جانا ہی تھا۔ اس سلسلے میں بہت دلچسپ واقعہ ہوا۔ ہمارے دوست مجید صاحب کی لوکیشن سینس بہت اچھی ہے، انہوں نیو نقشہ دیکھ کر کہا کہ یار حقّی اس میوزیم کو کہیں قریب ہونا چاہیے، لیکن میں نے کہا بھائی نئی جگہ کہاں بھٹکیں گے، ٹیکسی کر لیتے ہیں، جلدی پہنچ جائیں گے۔ دوسرے ساتھی ممتاز صاحب لاتعلّق رہے کہ جو چاہے کرو۔ ایک ٹیکسی والے سے توپ کاپی جانے کو کہا تو اس نے ایک بڑی رقم مانگی، کئی اور سے پوچھا تو سب گویا یک زبان تھے، بادل نخواستہ بیٹھنا پڑا۔ جب ہم نے دیکھا کہ یہ کہیں دور لیے چلا جا رہا ہے تو تشویش ہوئی اور اس سے انگریزی میں بات کر کے کسی طرح اپنا مدّعا بتایا تو اس نے گاڑی روک کر بتایا کہ آپ نے محل کا نہیں کہا تھا بلکہ توپ کاپی کا کہا تھا، آپ کو توپ کاپی ہی لیکر جا رہا ہوں، آپ تو توپ کاپی پیلس کے پاس ہی تھے۔ ہم سب بہت پچھتائے، دوستوں نے اس کا ذمہ دار اس ناچیز کو ٹھہرایا کہ اس کو بہت جلدی تھی، ذرا کسی سے پوچھ ہی لیتے، آج تک یہی طعنہ سننے کو ملتا ہے۔ پھر ڈرائیور ہمیں لیکر واپس آیا اور جہاں سے ہم بیٹھے تھے اس سے بمشکل پانچ منٹ کی واک پر اتار دیا اور کہا کہ وہ رہا توپ کاپی محل اور میوزیم اور قریب ہی مسجد سلطان۔ ہم سب اپنی حماقت پر کھسیا کر ہنس رہے تھے۔ تو جب معلوم ہوا کہ وہاں دور کوئی محلّہ بھی توپ کاپی نام کا ہے، لیکن ہم نے یہ ہزاروں لیرا گنوا کر سمجھا، تبھی آج بھی یاد ہے۔ اگر آپ جائیں تو دھیان رکھیے گا۔

عجائب گھر میں بہت نایاب چیزوں کا مشاہدہ کیا۔ لیکن مشہور نیلی مسجد کی پُر شکوہ عمارت اور بلند میناروں نے سحر طاری کیا۔ بلیو مسجد میں پتھر کے چبوتروں پر بیٹھ کر وضو کیا اور نماز ظہر ادا کی، بہت لطف آیا، لیکن جو منظر آج بھی نہیں بھلا پایا، وہ ایک نوجوان ماڈرن لڑکی تھی جو جینز شرٹ میں سر پر اسکارف لیے نماز پڑھ رہی تھی۔ گردن گھما کر دیکھا تو ایسی کئی خواتین نماز میں مشغول تھیں۔ اس نوجوان بچّی اور خواتین کو نماز میں منہمک دیکھ کر ہم تینوں ہی کو اتنی حیرت اور خوشی ہوئی جو بیان سے باہر ہے۔ اس ماحول میں اپنے عقیدے کی حفاظت معمولی بات نہیں۔ سوچیں کہ تقریباً اسّی سال کے سیکولرازم کے بہیمانہ جبر کے باوجود اتاترک اور کمالسٹ اسلام کو معاشرے سے معدوم نہ کر سکے۔ اگرچہ فٹ پاتھ پر پڑے عریاں رسالے، نیم عریاں اسکرٹ، شراب خانے اور ریستورانوں میں کھلے عام شراب استنبول کا مغربی رخ دکھا رہے تھے، لیکن ان سب کے بیچ خواتین کے اسکارف ترکی کے اسلامی تشخّص اور تاریخ کو معدوم نہیں ہونے دے رہے تھے۔ اسکارف ہی اسلام کا نشان اور مسلمہ کی پہچان ہے۔ میں مان گیا۔

بے شک ترکی میں ہم نے سیکولرازم کی اصل شکل دیکھی۔ یہاں کے جو دانشور سمجھاتے ہیں کہ سیکولرازم مذہب کے خلاف نہیں، انھیں چاہیے کہ ترکی کی تاریخ کو نہ چھپائیں۔ جہاں سیکولر ازم کے نام پر مساجد بند کی گئیں، اذان پر پابندی لگا دی گئی، داڑھی پر پابندی لگائی گئی، ترکی ٹوپی پر پابندی لگائی گئی، پردے کے بجائے مغربی لباس کی حوصلہ افزائی کی گئی، نکاح اور طلاق کے اسلامی قوانین ختم کیے گئے، رسم الخط تبدیل کیا، اسلام کا سرکاری مذہب کا درجہ ختم کیا، یعنی اسلام کو ترکی سے بے دخل کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا، تاریخ میں شاذ ہی ایسا ہوا ہو کہ کسی حکومت نے ماضی سے تعلّق توڑنے کے لیے انتہائی جبر سے اپنے ہی عوام کی زبان تبدیل کرائی ہو۔ یہ اعزاز بھی ترکی کے سیکولرازم کو جاتا ہے۔ ہمیں جدید ترکی سیکولرازم کا اصل روپ دکھا رہا تھا۔

حالیہ ریفرنڈم میں ترک عوم نے گویا کمال ازم اور سیکولرازم کو رد کردیا ہے اور شاید یہ وقت ہی کی بات ہے کہ اگر مغرب اپنی مکر فریبیوں سے باز رہا۔ جمہوریت کے راگ الاپتے دانشوروں کے دوغلے پن کو دیکھیے کہ یہ کہا جارہا ہے کہ بلیڈ کی طرح باریک سبقت ہے۔ ایسی ہی باریک سبقت پر امریکی صدر منتخب ہو کر دنیا کے سب سے زیادہ تباہ کن ہتھیاروں کا مالک بنتا ہے تو وہ جمہوریت کی خوبصورتی ہوتی ہے۔ تو اسے بھی خوبصورتی ہی کہیں، اور کشادہ دل ہو کر خوش دلی سے جمہوریت کے فیصلے کو قبول کریں۔

پاکستان میں سیکولرازم اور لبرل ازم کے مقاصد کسی حد تک وہی ہیں جو ترکی میں تھے، یعنی مسلمانوں کو ان کے ماضی سے کاٹ کر ایک نئی قوم بنایا جائے۔ اپنے ان مقاصد میں ترکی میں تقریباً سو سال میں ناکامی کے بعد مغرب کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ پاکستان ہے، اور یہ نومبر 1922ء نہیں جب سلطنت عثمانیہ کو ختم کیا گیا تھا اور وہاں کی طاقتور فوج مغرب کی حمایت سے عوام پر قابض ہوئی تھی۔ یہاں پاکستان کی طاقتور فوج اور عوام آئین کے محافظ ہیں، اس آئین کے جس میں اقتدار اعلٰی اللہ کا ہے، کسی بندے کا نہیں۔ اور جس کی قرارداد ِمقاصد اس کے اہداف مقرر کرتی ہے۔ اس اقتدار ِ اعلی کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنا اعلان جنگ ہوگا