ھجرت کب جائز ،کب واجب اور کب حرام ھے


سوال:

حضرت مولانا صاحب السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ
،کیافرماتے ہیں علمائے دین 
موجودہ اسلامی حالت کا خیال کرتے ہوئے اور عام علماء کی تقریر متعلق ہجرت کرنے نہ کرنے کے سنتے ہوئے طبیعت پر تذبذب پیدا ہورہا ہے کہ مجھ کو کیا کرنا چاہئے ہجرت کروں یا نہیں؟
اس کے متعلق حضور کا ذاتی خیال کیا ہے؟

الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،
ہجرت دو قسم ہے:
عامہ و خاصہ۔
عامہ یہ کہ تمام اہل وطن ترکِ وطن کرکے چلے جائیں۔ 
اور خاصہ یہ کہ خاص اشخاص،
پہلے ہجرت دارالحرب سے ہر مسلمان پر فرض ہے، جس کا بیان آیہ کریمہ ان الذین توفّٰھم الملٰئکۃ ظالمی انفسھم ۱؎الآیۃ

(وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے الآیۃ۔ت)میں ہے،

اس سے صرف عورتیں اور بچے اور عاجز مرد جو نکل نہیں سکتے مستثنٰی ہیں،
جس کا ذکر اس کے متصل دوسری آیہ کریمہ الاالمستضعفین ۲؎الآیۃ میں ہے، 
باقی سب پر فرض ہے جوباوصفِ قدرت دارالحرب میں سکونت رکھے اور ہجرت نہ کرے مستحقِ عذاب ہے،

(۱؎ القرآن الکریم ۴/۹۷) (۲؎القرآن الکریم ۴/ ۹۸)

رہا دارالاسلام اس سے ہجرتِ عامہ حرام ہے کہ
اس میں مساجد کی ویرانی وبے حرمتی، قبور مسلمین کی بربادی، عورتوں بچوں اور ضعیفوں کی تباہی ہوگی 
اور ہجرت خاصہ میں تین صورتیں ہیں،
اگر کوئی شخص کسی وجہ خاص سے کسی مقام خاص میں اپنے فرائض دینیہ بجانہ لاسکے اور دوسری جگہ ممکن ہوتو اگر یہ خاص اسی مکان میں ہے 
اس پر فرض ہے کہ یہ مکان چھوڑ کر دوسرے مکان میں چلاجائے،
اور اگر اس محلہ میں معذور ہوتو دوسرے محلہ میں اٹھ جائے 
اور اس شہر میں مجبور ہوتو دوسرے شہر میں 
وعلٰی ہذا القیاس۔
کما بینہ فی مدارک التنزیل واستشھد بحدیث

(جیسا کہ مدارک التنزیل میں اس کی تفصیل ہے اور اس پر حدیث مبارکہ سے استشہاد کیا ہے۔ت)
دوسرے وہ کہ یہاں اپنے فرائض مذہبی بجالانے سے عاجز نہیں اور اس کے ضعیف ماں یا باپ یا بیوی یا بچے جن کا نفقہ اس پر فرض ہے وہ نہ جاسکیں گے
یا 
نہ جائیں گے اور اس کے چلے جانے سے بے وسیلہ رہ جائیں گے
تو اس کو دارالاسلام سے ہجرت کرنا حرام ہے،

حدیث میں ہے:
کفٰی بالمرء اثماان یضیع من یقوت۱؎۔

کسی آدمی کے گنہگار ہونے کےلئے اتنا کافی ہے کہ وہ اسے ضائع کردے جس کا نفقہ اس کے ذمے تھا(ت)

(۱؎ سنن ابوداؤد کتاب الزکوٰۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۳۸
مسند احمد بن حنبل دارالفکر بیروت ۲/ ۱۶۰، ۱۹۴،۱۹۵
المعجم الکبیر حدیث ۱۳۴۱۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۳۸۲)

یا وہ عالم جس سے بڑھ کر اس شہر میں عالم نہ ہو اسے بھی حرام ہے

وقد نص فی البزازیۃ والدرالمختار 
انہ لایجوزلہ السفر الطویل منھا فضلا عن المھاجرۃ۲؎
(بزازیہ او درمختار میں تصریح ہے کہ ایسے آدمی کے لئے طویل سفر جائز نہیں چہ جائیکہ وہ وہاں سے ہجرت کرجائے۔ت)

تیسرے وہ کہ نہ فرائض سے عاجز ہے نہ اس کی یہاں حاجت، 
اسے اختیار ہے رہے یاچلاجائے جو اس کی مصلحت سے ہو،
یہ تفصیل دارالاسلام میں ہے،
کما حققناہ فی فتاوٰنا

(جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں کی ہے۔ت)
اب آپ اپنی حالت کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ
آپ کو ہجرت جائز یا واجب یاحرام ہے۔
واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۲؎ درمختار کتاب الجہاد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۳۹)

فتاوی رضویہ،جلد14