صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث

دو نعمتیں:
حدیث شریف:
دو۲ نعمتیں ہیں جن میں بہت لوگ گھاٹے میں ہیں
تندرستی اور فراغت ۱؎ (بخاری)

شرح

۱؎ یعنی تندرستی اور عبادت کے لیے موقعہ مل جانا اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں
مگر تھوڑے لوگ ہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اکثر لوگ انہیں دنیا کمانے میں صرف کرتے ہیں حالانکہ دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ محنت سے جوڑنا،مشقت سے اس کی حفاظت کرنا،حسرت سے چھوڑنا۔
خیال رہے کہ فراغت اور بیکاری میں فرق ہے۔
فراغت اچھی چیز ہے،بیکاری بری چیز۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ
جنتی لوگ کسی چیز پر حسرت نہ کریں گے سوائے ان ساعتوں کے جو انہوں نے دنیا میں اللہ کے ذکر کے بغیر صرف کردیں۔(مرقاۃ)