تازہ ترین
کام جاری ہے...
Tuesday, May 9, 2017

ملک چین اور اسلام دشمنی

May 09, 2017

چین کی دوستی پر بغلیں بجانے والے مسلمان متوجہ ہو.

نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 68 سال سے نافذ کفری جمہوری نظام کو اس سے کیا لینا دینا کہ مسلمان کی جان اور اس کے مذہب کو سلامتی ہو...
"پاک چین دوستی زندہ باد" کا نعرہ لگانے والا وطن پرست اور لادین طبقہ تو ہوسکتا ہے مگر امت مسلمہ کی اس جسم کا حصہ کبھی نہیں بن سکتا جس کو جسم کے کسی دوسرے حصے کی تکلیف پر درس محسوس ہو.
فلسطین ہو یا شام و عراق افغانستان ہو یا برما کشمیر ہو یا ہندوستان کے مسلمان یہ سب اسی امت کا حصہ ہیں جو امت امام الانبیا چھوڑ کے گئے تھے.
آج انگریز کی تقسیم کردہ سرحدات کے اندر قید، شریعت اور خلافت جیسے نظام سے ناآشنا ہر ملک کے مسلمانوں کی اولین ترجیح انکا اپنا ملک ہے چاہئے قبلہ اول بیت المقدس یہودیوں کے قبضے میں ہو چاہئے افغانستان پر یہود و نصاریٰ کی یلغار ہو اور یاں آئے دن کشمیر میں ماؤں بیٹیوں کی عصمتیں لوٹی جا رہی ہو.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لائے ہوئے دین میں یہ گنجائش نہ پہلے تھی اور نہ کبھی ہوگی.اس امت نے اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا جب تک اس امت ایک بھی فرد کسی تکلیف میں ہو.
آج ایک خبر پڑھی جو کچھ عرصہ پہلے بھی پڑھ چکا ہوں کہ بیجنگ (30 مارچ2017ء) چین میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے داڑھی، عوامی مقامات پر نقاب اور دیگر معاملات کے حوالے سے بنائے جانے والے قوانین کا اطلاع یکم اپریل سے ہوگا۔یہ قانون رواں ہفتے چین کے صوبے سنکیانگ کے قانون سازوں نے منظور کیا تھا اور اس میں پہلے سے موجود قانون کو وسعت دی گئی ہے۔خیال رہے کہ چین مسلم اکثریت والے صوبہ سنکیانگ میں گزشتہ کئی برسوں سے صورتحال کشیدہ ہے اور اس میں اب تک سیکڑوں افراد شہید کئے جا چکے ہیں۔
چینی حکومت شورش کی ذمہ داری شدت پسندوں اور علیحدگی پسندوں پر عائد کرتی ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے چین کی سخت پالیسیوں کا رد عمل قرار دیتی ہیں۔سنکیانگ میں یکم اپریل سے نافذ ہونے والے نئے قانون کے مطابق عوامی مقامات جیسے ریلوے اسٹیشنز و ایئرپورٹس وغیرہ میں تعینات افسران پر لازم ہوگا کہ وہ ہر اس شخص یا خاتون کو روکیں جو مکمل طور پر اپنا جسم یا چہرہ ڈھانپے ہوئے ہوں۔
افسران پر لازم ہوگا کہ وہ ایسے افراد کو ایئرپورٹ یا ریلوے اسٹیشن میں داخل ہونے سے روکیں اور ان کی اطلاع پولیس کو دیں۔
خلاف معمول داڑھی رکھنے اور حد سے زیادہ مذہبی رغبت رکھنے والے نام رکھنے پر پابندی ہوگی.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الکفر ملة واحدہ کفار سارے ایک ہی ہیں.آج امریکا روس چین اور برطانیہ سے ہمارے تعلقات صرف ملکی مفاد کی خاطر استوار کئے جاتے ہیں جبکہ صدیوں سے مسلمانوں کے خون سے ان یہود و نصاریٰ کے رنگے ہوئے ہاتھ ہمارے ہاتھوں میں ہوتے ہیں.اور ہمیں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ کم از کم ان سے اس وقت تک تعلقات نہ رکھیں جب تک ان کی بندوقوں کا رخ مسلمانوں سے ہٹ نہیں جاتا....دور جدید کا یہ اسلام نہ تو امت مسلمہ کے بہتے خ2ن کا مداوا کرسکتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کو کبھی دیں سکتا ہے.
ہمیں اس اسلام کو اپنانا ہوگا جو 1400 سال پہلے ہمارے نبی لیکر آئے.

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں