تازہ ترین
کام جاری ہے...
Saturday, May 13, 2017

یھود و نصاری اہل کتاب ہیں یا کافر ،یھود و نصاری کا ذبیحہ اور ان سے نکاح کا معاملہ ایک تحقیقی فتوی

May 13, 2017
حرف آغاز :
یہ فتوی مولانا احمد رضا خان صاحب نے اس وقت دیا تھا ،جب ہندوستان پر انگریز قابض تھے ۔

مسئلہ4
اس زمانہ کے یہود و نصارٰی کتابی ہیں یانہیں؟
جواب مفصل بدلائل عقلیہ ونقلیہ مدلل درکار ہے؟بینواتوجروا۔



……………………………………………………
جواب
نصارٰی باعتبار حقیقت لغویہ انجاکہ قیام مبدء مستلزم صدق مشتق ہے بلا شبہہ مشرکین ہیں
کہ وہ بالقطع قائل بہ تثلیث وبنوت ہیں
 اسی طرح وہ یہودجو الوہیت وابنیت عزیرعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے قائل تھے،
مگر کلام اس میں ہے کہ
حق تبارک وتعالٰی نے کتب آسمانی کا اجلال فرماکر یہود و نصارٰی کے احکام کو احکامِ مشرکین سے جدا کیا اور ان کا نام اہل کتاب رکھا اور ان کے نساء و ذبائح کو حلال و مباح ٹھہرایا
آیا نصارٰی زمانہ بھی کہ الوہیتِ عبداﷲ مسیح بن مریم علیہما الصلوٰۃ والسلام کی علی الاعلان تصریح اور وہ یہود جو مثل بعض طوائف ماضیہ الوہیت بندہ خدا عزیر علیہ الصلوٰۃوالسلام کے قائل ہوں
 انہیں میں داخل اور اس تفرقہ کے مستحق ہیں
یا
 ان پر شرعاً یہ ہی احکام مشرکین جاری ہوں گے اور ان کی نساء سے تزوّج اور ذبائح کا تناول ناروا ہوگا۔
کلماتِ علماءِ کرام رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین اس بارے میں مختلف،
بہت مشائخ نے قولِ اخیر کی طرف میل فرمایا، بعض علماء نے تصریح کی کہ اسی پر فتوی ہے،

مستصفی میں ہے:
قالواھذایعنی الحل اذالم یعتقد واالمسیح الٰھا
امااذااعتقدوہ فلا
وفی مبسوط شیخ الاسلام
ویجب ان لایأکلوا ذبائح اھل الکتاب اذا اعتقد وان المسیح الٰہ وان عزیر الٰہ
 ولا یتزوّجو انساء ھم
وقیل علیہ الفتوی۲؎۔
 علماء نے فرمایا کہ
ان کا ذبیحہ تب حلال ہوگا کہ وہ عیسٰی علیہ السلام کو الٰہ نہ مانتے ہوں،
 لیکن اگر وہ ان کو الٰہ مانتے ہوں تو پھر حلال نہ ہوگا،
اور شیخ الاسلام کی مبسوط میں ہے کہ
 مسلمانوں پر لازم ہے کہ اہلِ کتاب کا ذبیحہ اس صورت میں نہ کھائیں جب وہ مسیح علیہ السلام اور عزیر علیہ السلام کو الٰہ مانتے ہوں
 اور اندریں صورت
 ان کی عورتوں سے نکاح بھی نہ کریں، اسی پر فتوٰی کہا گیا ہے۔(ت)

 (۲؎ فتح القدیر بحوالہ المستصفٰی کتاب النکاح     فصل فی بیان المحرمات     مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر    ۳/ ۱۳۵)

ان علماء کا استدلال آیہ کریمہ
"قالت الیھود عزیر ابن اﷲ وقالت النصٰرٰی المسیح ابن اﷲ  
(یہود نے کہا عزیر ابن اﷲ اور نصارٰی نے کہا مسیح ابن اﷲ۔ت)
سے ہے کہ اس کے آخرمیں ارشاد پایا
سبحٰنہ وتعالٰی عمّایشرکون۳؎  
(وہ پاک ذات ہے اور جو انہوں نے اس کا شریک بنایا اﷲ تعالٰی اس سے بلند وبالا ہے۔ت)

 (۳؎ القرآن الکریم                         ۹/ ۳۱)


دیکھو اول ان کے اقوال خبیثہ یاد فرماکر آخر ان کے شرک سے اپنی نزاہت وتبری بیان فرمائی
تو معلوم ہوا کہ قائلین بنوت مشرکین ہیں
 مگر ظاہرالروایۃ میں ان پر علی الاطلاق حکم کتابیت دیا اور ان کے ذبائح ونساء کو حلال ٹھہرایا،

درمختار میں ہے:
صح نکاح کتابیۃ وان کرہ تنزیھا مؤمنۃ بنبی مرسل مقرۃ بکتاب منزل
وان اعتقدوا المسیح الٰھا
وکذاحل ذبیحتھم علی المذھب
بحرانتہی۱؎۔
کتابیہ عورت سے نکاح صحیح ہے اگرچہ مکروہ تنزیہی ہے بشرطیکہ وہ عورت کسی مرسل نبی پر ایمان رکھتی ہو اور کسی منزل من اﷲ کتاب کا اقرار کرتی ہو
اگرچہ عمومی طور پر وہ نصاری عیسٰی علیہ السلام کو الٰہ مانتے ہوں یونہی ان کا ذبیحہ بھی مذہب میں حلال ہے، بحر، اھ۔(ت)

 (۱؎ درمختار             کتاب النکاح فصل فی المحرمات     مطبع مجتبائی دہلی         ۱/ ۱۸۹)

ردالمحتار میں بحرالرائق سے منقول ہے:
وحاصلہ
ان المذھب الاطلاق
لما ذکرہ شمس الائمۃ فی المبسوط
من ان ذبیحۃ النصرانی حلال مطلقًا، سواء قال بثالث ثلثۃ اولا،
لاطلاق الکتاب ھنا وھو الدلیل
 ورجحہ فی فتح القدیرالخ۲؎۔
 حاصل یہ ہے کہ مذہب میں اطلاق ہے
کیونکہ شمس الائمہ سرخسی نے مبسوط میں یہ ذکر کیا ہے کہ
 نصرانی کا ذبیحہ مطلقًا حلال ہے وہ عیسٰی علیہ السلام کے متعلق ثالث ثلٰثہ کا قول کریں یا نہ کریں
کیونکہ کتاب اﷲ کا یہاں ا طلاق ہے اور یہی دلیل ہے،
 اس کو فتح القدیر میں ترجیح دی ہے الخ(ت)

 (۲؎ ردالمحتار         کتاب النکاح فصل فی المحرمات    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲/ ۲۸۹)

مستصفٰی میں عبارت مذکورہ کے بعد مبسوط سے ہے:
لکن بالنظر الی الدلائل ینبغی ان یجوز الاکل والتزوج انتہی۳؎۔
 لیکن دلائل کو دیکھتے ہوئے یہی مناسب قول ہے کہ ان کا ذبیحہ کھانا اور ان کی عورتوں سے نکاح جائز ہے انتہی۔(ت)

 (۳؎ فتح القدیر بحوالہ المستصفٰی   کتاب النکاح فصل فی بیان المحرمات   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳/ ۱۳۵)

فتاوٰی حامدیہ میں ہے:
مقتضی الدلائل الجواز کما ذکرہ التمر تاشی فی فتاواہ،الخ۴؎۔
 دلائل کا مقتضٰی یہی ہے کہ جائز ہے جیسا کہ اسے تمرتاشی نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کیا ہے الخ(ت)

 (۴؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الذبائح         ارگ بازار قندھار افغانستان     ۲/ ۲۳۲)






ردالمحتار میں ہے:
فی المعراج ان اشتراط ماذکر فی النصاری مخالف لعامۃ الروایات۱؎۔ م
عراج میں ہے کہ نصارٰی کے مذکورہ شرائط عام روایات کے مخالف ہیں ۔(ت)

 (۱؎ ردالمحتار     کتاب الذبائح     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۱۸۸)

امام محقق علی الاطلاق مولٰنا کمال الملۃ والدین محمد بن الہمام رحمۃ اﷲ علیہ
فتح القدیر میں اس مذہب کی ترجیح اور دلیل مذکور مذہب اول کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:
مطلق لفظ المشرک اذاذکر فی لسان الشارع لاینصرف الی اھل الکتاب وان صح لغۃ فی طائفۃ بل طوائف واطلق لفظ الفعل اعنی یشرکون علی فعلھم کما ان من رأی بعلمہ من المسلمین فلم یعمل الالاجل زید یصح فی حقہ انہ مشرک لغۃ ولایتبادر عند اطلاق الشارع لفظ المشرک ارادتہ لما عھد من ارادتہ بہ من عبد مع اﷲ غیرہ ممن لایدعی اتباع نبی وکتاب ولذلک عطفھم علیہ فی قولہ تعالٰی لم یکن الذین کفر وامن اھل الکتٰب والمشرکین منفکین ونص علی حلھم بقولہ تعالٰی والمحصنٰت من الذین اوتوالکتٰب من قبلکم ای العفائف منھم۲؎الی اٰخرما اطال واطاب کما ھودابہ رحمہ اﷲ تعالٰی۔
 لفظ مشرک جب مطلق ذکر کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں اہل کتاب کو شامل نہ ہوگا اگرچہ لغت کے لحاظ سے اہل کتاب کے کسی گروہ یا کئی گروہوں پر اس کا اطلاق صحیح ہے،
اہل کتاب کے فعل پر صیغہ "یشرکون" کا اطلاق ایسے ہے جیسے کسی مسلمان ریاکار کے اس عمل پر جس کو مثلاً زید کی خوشنودی کےلئے کررہا ہوتو کہا جاسکتا ہے کہ یہ لغت کے لحاظ سے مشرک ہے،
 شرعی اصطلاح میں مطلقًا لفظ مشرک کا استعمال صرف اس شخص کے لئے متبادر ہوتا ہے، جو کسی نبی اور کتاب کی اتباع کے دعوٰی کے بغیر اﷲ تعالٰی کی عبادت میں غیر کو شریک کرے اسی لئے اہل کتاب پر مشرکین کا عطف اﷲ تعالٰی کے اس قول
 ''لم یکن الذین کفروا من اھل الکتٰب والمشرکین منفکین''

میں کیا گیا ہے اور اﷲتعالٰی کے اس قول
 ''والمحصنٰت من الذین اوتوالکتٰب''

میں کتابیہ عورتوں کے حلال ہونے پر صراحتاً نص فرمائی گئی ہے
یعنی اہل کتاب کی عفیف عورتیں حلال ہیں،
 ابن ہمام کے طویل اور طیب قول کے آخر تک،
جیسا کہ ان کی عادت ہے، اﷲ تعالٰی ان پر رحمت فرمائے۔(ت)

 (۲؎ فتح القدیر     کتاب النکاح     فصل فی بیان المحرمات     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۳/ ۱۳۵)

بالجملہ محققین کے نزدیک راجح یہی ہے کہ یہود ونصارٰی مطلقاً اہل کتاب ہیں اور ان پر احکام مشرکین جاری نہیں
اقول
 وکیف لا
وقد علم اﷲ سبحٰنہ وتعالٰی انھم یقولون بثالث ثلٰثۃ حتی نھاھم عن ذٰلک وقال انتھوا خیرالکم۱؎
وان ھم یقولون ان المسیح الٰہ حتی قال
لقد کفر الذین قالواان اﷲ ھوالمسیح ابن مریم۲؎
بل بالوھیۃ امہ ایضا
حتی یسألہ علیہ الصلٰوۃ والسلام یوم القٰیمۃ ٰیعیسٰی ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الٰھین من دون اﷲ،۳؎
وانھم مصرحون بالبنوۃ حتی نقل عنھم
''قالت الیھود عزیر ابن اﷲ وقالت النصٰری المسیح ابن اﷲ ۴؎
 ومع ذٰلک فرق بینھم وبین المشرکین
 فقال
والمحصنٰت من الذین اوتواالکتٰب من قبلکم۵؎،
وقال
 طعام الذین اوتوا الکتٰب حل لکم ۶؎
 وقال
 لم یکن الذین کفروا من اھل الکتٰب والمشرکین منفکین حتی تاتیھم البینۃ۷؎
فارشد بالعطف الی التغایر
اقول(میں کہتا ہوں)
یہ کیسے مرادنہ ہو جبکہ اﷲ تعالٰی علیم ہے کہ نصارٰی ثالث ثلثہ کہتے ہیں حتی کہ ان کو اس سے منع بھی فرمایا اور فرمایا اس سے باز آؤ تمہارے لئے بہتر ہے اور وہ علیم ہے کہ نصارٰی کہتے ہیں مسیح الہٰ ہے، حتی کہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا

"لقد کفر الذین قالواان اﷲ ھو المسیح ابن مریم"

بلکہ وہ ان کی والدہ کو بھی الٰہ کہتے ہیں، حتی کہ قیامت کے روز اﷲ تعالٰی عیسی علیہ السلام سے سوال فرمائے گا

"یاعیسٰی ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الٰھین من دون اﷲ"

اور وہ علیم ہے کہ یہ لوگ عیسٰی علیہ السلام کے بیٹا ہونے کی تصریح کرتے ہیں حتی کہ ان سے نقل فرمایا

"قالت الیھود عزیر ابن اﷲ وقالت النصارٰی المسیح ابن اﷲ"
اس کے باوجود اﷲ تعالٰی نے اہلِ کتاب اور مشرکین میں فرق بیان فرمایا،
اور ارشاد فرمایا:
تمہارے لئے حلال ہیں پار ساعورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی، اور فرمایا جن کو کتاب دی گئی(اہلِ کتاب) ان کا طعام تمہارے لئے حلال ہے جس کو یوں فرمایا

"طعام الذین اوتواالکتٰب حل لکم"

اورفرمایا"
لم یکن الذین کفروا من اھل الکتٰب والمشرکین منفکین حتی تاتیھم البینۃ"
 واضح دلیل آنے تک کافر لوگوں میں سے اہل کتاب اور مشرک جدانہ ہوں گے،
 تو اس آیۃ کریمہ میں دونوں میں عطف کے ذریعہ تغایر کی رہنمائی فرمائی،

 (۱؎ القرآن الکریم   ۴/ ۱۷۱ )(۲؎ القرآن الکریم   ۵/ ۱۷ و ۷۲)(۳؎ القرآن الکریم   ۵/ ۱۱۶ )(۴؎ القرآن الکریم    ۹/ ۳۰)
(۵؎ القرآن الکریم   ۵/۵    )(۶؎ القرآن الکریم  ۵/۵)(۷؎ القرآن الکریم   ۹۸/ ۱)

فالمولٰی سبحٰنہ وتعالٰی اعلم بمذاھبھم واعلم بما یشرع من الاحکام فلہ الحکم ولہ الحجۃ السامیۃ لاالٰہ الاھو سبحٰنہ وتعالٰی عما یشرکون۱؎
حتی ترقتی بعض المشائخ فجوز نکاح الصائبات ایضًا ان کن یدن بکتاب منزل ویؤمن بنبی مرسل وان عبدن الکواکب
وصرح انھا لاتخرجھم عن الکتابیۃ وھو الذی یعطیہ ظاہرکلام الامام المحقق برھان الملۃ والدین المرغینانی فی الھدایۃ
حیث رتب عدم حل النکاح علی امرین
عبادۃ الکواکب وعدم الکتاب
وتبعہ العلامۃ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی فی التنویر
فقال لاعبادۃ کوکب لاکتاب لھا۲؎
فاشار بمفھوم المخالف الی
 انھا ان کان لھا کتاب حل نکاحھا مع عبادتھا الکواکب،
تو اﷲ سبحانہ وتعالٰی ان کے مذاہب کو بہتر جانتا ہے اور احکام کی مشروعیت کو بہتر جانتا ہے، تو حکم اسی کا ہے اوربلند وبالا حجت اسی کی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جس کو انہوں نے شریک بنایا اﷲ تعالٰی اس سے بلند وبالا ہے
اور بعض مشائخ نے اسی پر ترقی کرتے ہوئے صابی عورتوں سے نکاح کو بھی جائز قرار دیا بشرطیکہ وہ کسی دین کی آسمانی کتاب اور کسی نبی پر ایمان رکھتی ہوں اگرچہ وہ ستاروں کی پجاری ہوں
 اور انہوں نے یہ تصریح کی ہے کہ ستاروں کی پوجا ان کو کتابیہ ہونے سے خارج نہیں کرتی ، یہ وہ نظریہ ہے جو امام محقق برہان الملت والدین مرغینانی کی کتاب ہدایہ کے ظاہر کلا م سے ملتا ہے،
ہاں انہوں نے نکاح کے عدمِ جواز کو دوچیزوں پر مرتب کیا
ایک ستاروں کی پوجا
اور دوسری کتاب کا نہ ہونا،
اور اس کی علامہ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی نے تنویر میں اتباع کرتے ہوئے فرمایا کہ س
تاروں کی پوجا نہ کرتی ہو اور اس کی کتاب بھی نہ ہو۔
 تو اس عبارت کے مفہوم مخالف سے یہ اشارہ دیا کہ اگر اس کی کتاب ہو تو نکاح جائز ہے اگرچہ وہ ستاروں کی پوجا کرتی ہو۔

(۱؎ القرآن الکریم     ۹/ ۳۱)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار     کتاب النکاح     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۱۸۹)

فان قلت الیس قد تکلم فیہ المولٰی زین بن نجیم فی البحر
فقال الصحیح انھم ان کانوا یعبد ونھا یعنی الکواکب حقیقۃ فلیسوا اھل الکتاب وان کانوایعظمونھا کتعظیم المسلمین للکعبۃ فھم اھل الکتاب کذافی المجتبٰی۱؎انتہی
فیستفاد منہ
 ان الصحیح مباینۃ الکتابیۃ لعبادۃ غیراﷲ سبحانہ وتعالٰی فلایجتمعان ابداوحِ یتجہ مامال الیہ کثیر من المشائخ فی حق اولٰئک الیھود والنصارٰی انھم مشرکون حقاحتی قیل ان علیہ الفتوی
 قلت وباﷲ التوفیق
ھٰھنا فرق دقیق ھوان قضیۃالعقل ھی المباینۃ القطعیۃ بین الکتابیۃ وعبادۃ غیراﷲ سبحانہ وتعالٰی فانھا ھی الشرک حقا والکتابی غیر مشرک عند الشرع فکل من رأیناہ یعبد غیرالحق جل وعلا حکمنا علیہ انہ مشرک قطعا وان کان یقر بکتب وانبیاء علیھم الصلٰوۃ والسلام ولکنا خالفناہ ھذہ القضیۃ فی الیھود والنصارٰی بحکم النص فانا وجدنا القراٰن العظیم یحکی عنھم مایحکی من العقائد الخبیثۃ ثم یحکم علیھم بان ھم اھل الکتاب ویمیزھم عن المشرکین فوجب التسلیم لورودالنص بخلاف الصابئۃ اذ لم یرد فیھم مثل ذٰلک فلم یجز قیاسھم علٰی ھٰؤلاء ولاالخروج عن قضیۃ العقل فی بابھم،
اگر تیرا اعتراض ہو کہ
 اس مسئلہ میں مولانا زین نجیم نے کیا گفتگو کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ صحیح بات یہ ہے
کہ اگر یہ لوگ حقیقۃً ستاروں کی عبادت کرتے ہوں تو یہ اہل کتاب نہ ہوں گے اور اگر وہ صرف ستاروں کی تعظیم کرتے ہیں جیسا کہ مسلمان کعبہ کی تعظیم کرتے ہیں تو پھر یہ اہل کتاب ہیں، مجتبٰی میں یونہی ہے اھ
، تو اس بیان کا مفادیہ ہے کہ
 کتابیہ اورغیراﷲ کی عبادت والی، ایک دوسرے سے الگ ہیں دونوں کا اجتماع نہیں ہوسکتا
 تو اب اس سے بہت سے مشائخ کا ان یہود و نصارٰی کے متعلق یہ نظریہ قابل توجہ قرار پایا کہ یہ لوگ حقیقی مشرک ہیں حتی کہ بعض نے اسی پر فتوٰی کا قول کیا ہے۔
قلت (میں کہتا ہوں) اﷲ تعالٰی کی توفیق سے، کہ یہاں ایک باریک فرق ہے وہ یہ کہ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ کتابیہ اورغیراﷲ کی عبادت کرنے والی عورت ایک دوسرے سے قطعًا جدا ہیں،
کیونکہ غیراﷲ کی عبادت قطعاً شرک ہے جبکہ شرعاً کتابیہ غیرمشرک ہے
 لہذا جس کو بھی غیراﷲ کی عبادت کرنے والا پائیں گے اس کو قطعاً مشرک کہیں گے اگرچہ وہ کتب اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا اقرار کرے
لیکن ہم نے اس عقلی کلیہ کا خلاف یہود ونصارٰی میں نص کے حکم پر مانا ہے کہ ہم نے قرآن کو ان کے عقائد خبیثہ کی حکایت کرنے کے باوجود یہ حکم کرتے ہوئے پایا کہ
 یہ اہل کتاب ہیں،
 اور یہ کہ قرآن ان میں اور مشرکین میں امتیاز بھی کرتا ہے
 لہذا نص کے وارد ہونے پر اسکو تسلیم کرنا واجب ہے ب
خلاف صابیہ عورت کے کہ اس کے متعلق ایسی کوئی نص نہیں ہے
 اس لئے صابی لوگوں کو ان یہود ونصارٰی پر قیاس نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کے بارے میں عقلی کلیہ کو ترک کیا جائے گا،

 (۱؎ بحرالرائق     کتاب النکاح     فصل فی المحرمات     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۳/ ۱۰۴)

والحاصل ان کتابیۃ القائلین بالبنوۃ والوھیۃ الغیر من الیھود والنصاری واردۃ فیمااحسب علی خلاف القیاس فیقصر علی المورد،
وبھذاتبین ان ماقالہ ذٰلک البعض من المشایخ ان عبادۃ الکواکب لاتخرج الصابئۃ عن الکتابیۃ قول مھجور وان کلام الھدایۃ والتنویر غیرمحمول علی ظاھرہ وان الحق مع العلامۃ صاحب البحر فی تصحیحہ اشراکھم ان کانوا یعبدون الکواکب وانہ لاتنا فی بین تصیحیحۃ ھذا وقولہ سابقاً فی اولٰئک الیھود والنصاری ان المذھب الاطلاق وان قالوا بثالث ثلثۃ وبہ ظھران انتصار العلامۃ عمر بن نجیم فی النھر والمولٰی محمد بن عابدین فی ردالمحتار لذلک البعض من المشایخ بان مامرمن حل النصرانیۃ وان اعتقدت المسیح الٰھا یؤید قول بعض المشایخ ۱؎ انتہی مبنی علی الذھول عن ھذاالفرق فاغتنم تحریر ھذاالمقام فقد زلت فیہ اقدام والحمد للہ ولی الانعام۔
 خلاصہ یہ کہ یہود ونصارٰی کتابی لوگ جو بنوت کے قائل ہونے کے باوجود غیراﷲ کی الوہیت کے قائل ہیں کو اہل کتاب ماننا ،میرے خیال میں خلافِ قیاس ہے ،لہذا یہ حکم اپنے مورد میں ہی محفوظ رہے گا جس پر کسی اور کو قیاس نہیں کیا جاسکتا،
 اس سے ان بعض مشائخ کا یہ نظریہ کہ ستاروں کی  پوجا صابیہ عورت کو کتابیہ سے جدا نہیں کرتی، واضح طور پر متروک قرار پاتا ہے
 اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ ہدایہ اور تنویر کا کلام ظاہری معنٰی پر محمول نہیں ہے، اور صاحب بحر کا کلام حق ہے کہ صابی لوگ اگر ستاروں کی پوجا کرتے ہیں تو وہ مشرک ہیں جس کی انہوں نے تصحیح کی ہے،
 اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ بحر کی اس تصحیح اور اسکے پہلے قول کہ یہود ونصاری کا اہل کتاب ہونا علی الاطلاق مذہب ہے اگرچہ وہ ثالث ثلٰثہ کے قائل ہیں میں منافات  نہیں ہے
او ر اسی سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ علامہ عمر ابن نجیم کا نہر میں اور علامہ محمد بن عابدین کا ردالمحتار میں مذکور بیان کہ نصرانی عورت اگرچہ مسیح علیہ السلام کوالٰہ ہونے کا عقیدہ رکھے تب بھی اس سے نکاح حلال ہے کو ان بعض مشائخ کی تائید ماننا الخ
اس فرق سے ذہول پر مبنی ہے،
 اس تحریر کو غنیمت سمجھو، کیونکہ اس میں بہت سے قدم پھسلے ہیں، نعمتوں کے مالک اﷲ تعالٰی کے لئے ہی حمد ہے۔(ت)

 (۱؎ ردالمحتار     فصل فی المحرمات     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۲۹۰)

مگر تاہم جبکہ علماء کا اختلاف ہے اوراس قول پر فتوٰی بھی منقول ہوچکا تو احتیاط اسی میں ہے کہ نصارٰی کی نساء وذبائح سے احتراز کرے،
اور آج کل بعض یہود بھی ایسے پائے جاتے ہوں جو عزیر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ابنیت مانیں تو ان کے زن وذبیحہ سے بھی بچنا لازم جانیں
 کہ ایسی جگہ اختلاف ائمہ میں پڑنا محتاط آدمی کا کام نہیں،
 اگر فی الواقع یہ یہود و نصارٰی عنداﷲ کتابی ہوئے تاہم ان کی عورتوں سے نکاح اور ان کے ذبیحہ کے تناول میں ہمارے لئے کوئی نفع نہیں
، نہ شرعاً ہم پر لازم کیاگیا،
 نہ بحمد اﷲ ہمیں اس کی ضرورت بلکہ برتقدیر کتابیت بھی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بے ضرورت احتراز چاہئے،

فی الفتح القدیر
 یجوز تزوج الکتابیات والاولٰی ان لایفعل ولایأکل ذبیحتھم الاللضرورۃ الخ۱؎
 فتح القدیر میں ہے
کتابیات سے نکاح جائز ہے،اور اولٰی یہ ہے کہ نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کاذبیحہ بغیر ضرورت کھایا جائے الخ(ت)

 (۱؎ فتح القدیر     کتاب النکاح     فصل فی بیان المحرمات     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳/ ۱۳۵)

اور اگر انہیں علماء کا مذہب حق ہو ااوریہ لوگ بوجہ اعتقادوں کے عنداﷲ مشرک ٹھہرے تو پھر زنائے محض ہوگا اور ذبیحہ حرام مطلق والعیاذ باﷲ تعالٰی،
 توعاقل کاکام نہیں کہ ایسا فعل اختیار کرے جس کی ایک جانب نامحمود ہو اور دوسری جانب حرام قطعی،
فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ ایسا ہی گمان کرتا تھا یہاں تک کہ بتوفیق الٰہی مجمع الانہر میں اسی مضمون کی تصریح دیکھی،

حیث قال فعلی ھذایلزم علی الحکام فی دیارنا ان یمنعوھم من الذبح لان النصارٰی فی زماننا یصرحون بالابنیۃ قبحھم اﷲ تعالٰی
 وعدم الضرورۃ متحقق والاحتیاط واجب
 لان فی حل ذبیحتھم اختلاف العلماء کما بیناہ
فالاخذبجانب الحرمۃ اولی عندعدم الضرورۃ ۲؎
انتہی، واﷲ تعالٰی سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
جہاں انہو ں نے فرمایا کہ اس بناء پر
ہمارے ملک کے حکام پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کو نصارٰی کے ذبیحہ سے منع کریں کیونکہ ہمارے زمانہ کے نصارٰی عیسٰی علیہ السلام کے ابن اﷲ ہونے کی تصریح کرتے ہیں،
جبکہ ضرورت بھی متحقق نہیں ہے تو احتیاط واجب ہے
 کیونکہ ان کے ذبیحہ میں علماء کا اختلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے
تو حرمت والی جانب اپنانا بہتر ہے جبکہ ضرورت نہیں ہے اھ،
واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم(ت)

 (۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر     کتاب النکاح     فصل فی بیان المحرمات   داراحیاء التراث العربی بیروت      ۱/ ۳۲۸)

فتاوی رضویہ ،ج ۱۴،

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں