ایسے بے غیرتوں کو لبرل کھتے ھیں، کالم نگار: رعایت اللہ فاروقی

ہمارے کرتوت :
رعایت اللہ فاروقی

خطرہ بھارت، افغانستان اور ایران نہیں بلکہ غیر ملکی فنڈز پر پلنے والی وہ مخلوق ہے جو ان تینوں ممالک سے ٹینشن کے ہر موقع پر کورس کی شکل میں گاتے ہوئے کہتی ہے:
”ہمیں اپنے کرتوتوں پر بھی غور کرنا چاہیے، یہ ممالک ویسے ہی ہمارے خلاف تو نہیں ہوسکتے.“
چلیے ان تینوں ممالک کے حوالے سے اپنے تنازعات کی جڑ میں جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کرتوت ہمارے ٹھیک نہیں یا ان کے جن کی آپ قوالی گا رہے ہیں۔

بھارت
ــــــ
بھارت سے ہماری دشمنی کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ سکھ مہاراجہ لاکھوں کشمیریوں کو بھارت کی غلامی میں دینے کے لیے نہرو کے نام خفیہ خط لکھ دیتا ہے اور بھارت وہاں فوج اتار کر قبضہ کر لیتا ہے۔ ہم جوابی کارروائی کو پہنچ کر ایک بڑا حصہ آزاد کرا لیتے ہیں لیکن زیادہ بڑا حصہ بھارت کے ہی قبضے میں رہ جاتا ہے۔ ہماری جانب سے کشمیر کی آزادی کے لیے لڑی جانے والی یہ جنگ کسی جنرل ضیاء الحق نہیں بلکہ قائد اعظم کے حکم پر ہوتی ہے۔ بھارت اقوام متحدہ میں استصواب رائے کا وعدہ کرکے مکر جاتا ہے اور یوں مسئلہ کشمیر آگے چل کر ہماری مستقل دشمنی کی بنیاد بنتا نظر آتا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں قائداعظم کے ”کرتوت“ ٹھیک نہیں تھے؟

افغانستان
ـــــــ
پاکستان قائم ہونے لگتا ہے تو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختون خوا) واحد علاقہ ہوتا ہے جس کے عوام سے ریفرنڈم کے ذریعے پوچھا جاتا ہے کہ آپ بھارت اور پاکستان میں سے کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں؟ 97 فیصد سے زائد ووٹر پاکستان کے حق میں ووٹ دے دیتے ہیں، اس کے باوجود افغانستان یہ پخ ڈال دیتا ہے کہ یہ ہمارا علاقہ ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کی ممبرشپ کے لیے قرارداد پیش ہوتی ہے تو پوری دنیا سے افغانستان واحد ملک ہوتا ہے جو پاکستان کے خلاف ووٹ دے کر گویا یہ کہتا ہے کہ وہ پاکستان کو بطور ریاست قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ 27 سال تک افغانستان میں وہ عسکری ٹریننگ سینٹرز چلاتا ہے جہاں پاکستانیوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا سکیں اور پھر یہ دہشت گردی ہوتی بھی چلی جاتی ہے، یہاں تک خیبرپختونخوا کے وزیراعلی حیات شیرپاؤ کو قتل کر دیا جاتا ہے. جمعہ خان صوفی نے اپنی کتاب فریب ناتمام میں اس کا اعتراف کیا ہے۔ اس دوران ہماری جانب سے افغانستان کو ایک گولی کا بھی ردعمل نہیں ملتا لیکن 1975ء میں آ کر ذوالفقار علی بھٹو فیصلہ کر لیتے ہیں کہ افغانستان کو اسی کی زبان میں جواب دیے بغیر بات نہیں بنے گی، چنانچہ حکمت یار اور احمد شاہ مسعود وغیرہ منظر عام پر نظر آنے لگتے ہیں۔ کیا آپ اسی بات کو ”ہمارے کرتوت“ کہہ رہے ہیں کہ ہم 27 سال تک افغانستان کی دہشت گردی کو بھگتتے رہے اور خاموش رہے؟ ذوالفقار بھٹو تو آپ کے ممدوح ہیں، تو آپ کہنا چاہتے ہیں کہ بھٹو مرحوم کے ”کرتوت“ ٹھیک نہیں تھے؟

ایران
ــــ
ایران میں نام نہاد اسلامی انقلاب آتا ہے تو انقلابی پورے خطے میں اپنا انقلاب ایکسپورٹ کرنے کی کوششیں شروع کر دیتے ہیں جس سے یہ پورا خطہ فرقہ واریت کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ 80ء کی دہائی کے اوائل میں ہی وہ پارہ چنار میں ٹریننگ سینٹر قائم کر لیتے ہیں جہاں پاکستان میں مسلح بغاوت کی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔ اس بغاوت کا سیاسی فرنٹ علامہ عارف حسین الحسینی سنبھال کر اسلام آباد میں پاک سیکرٹریٹ کا محاصرہ کر لیتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے حکم پر جنرل فضل حق خفیہ ملٹری آپریشن کرکے پارہ چنار میں قائم دہشت گردی کے اڈے تباہ کر دیتے ہیں۔ کچھ ہی عرصے بعد عارف حسینی بھی مارا جاتا ہے جس کا جواب جنرل فضل حق کو قتل کر کے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایران میں ٹریننگ سینٹر کھل جاتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر پاکستان سے 18 سے 30 سال کی عمر کے زائرین کی بسیں بھر بھر کر ایران جانے لگتی ہیں۔ آگے چل کر خود ایرانی محترمہ بینظیر بھٹو کو دھمکی دیتے ہیں کہ ہم ایک لاکھ پاکستانیوں کو عسکری تربیت دے چکے ہیں جو ہمارے حکم کے منتظر ہیں۔ نام نہاد زائرین کی بسیں نشانہ بننے لگتی ہیں تو ایک بار پھر پارہ چنار میں ٹریننگ سینٹر بنانے کی کوشش ہوتی ہے جسے ایک بار پھر ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ مسلسل ناکامی سے دوچار ایران پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھارت سے ہاتھ ملا لیتا ہے لیکن کلبھوشن ہمارے ہاتھ لگ جاتا ہے، عزیر بلوچ کا کھرا بھی وہاں جا نکلتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پہلے سعودی عرب سے تعاون کے پیش نظر یہ دھمکی دی گئی کہ پاکستان پر حملے کے لیے دو لاکھ جنگجو تیار ہیں، اور اب ایرانی وزیردفاع اور آرمی چیف کھلے عام پاکستان پر چڑھ دوڑنے دھمکیاں دے رہے ہیں. ڈالروں پر پلنے والی مخلوق بتائے کہ کیا یہ سب ”ہمارے کرتوت“ ہیں؟

نائن الیون سے چند ماہ قبل ایک امریکی کانگریس مین نے بیان دیا تھا کہ ”پاکستانی ڈالر کے لیے اپنی ماں بھی بیچ سکتے ہیں“، اس بیان پر پاکستان میں شدید مظاہرے ہوئے تھے لیکن کانگریس مین نے یہ بات اسی لیے کہی تھی کہ ہماری صفوں میں وہ بے غیرت پائے جاتے ہیں جو ڈالر کے لیے ماں کیا ملک کو بھی بیچنے سے باز نہیں آتے۔ جو تنازعات میں دشمن کے وکیل بن جاتے ہیں اور ایسے ہی بے غیرتوں کو ”لبرل“ کہتے ہیں!