تازہ ترین
کام جاری ہے...
Tuesday, May 9, 2017

سیکولر سوچ جب تک خود نہ مشاھدہ کر لو ....یقین نھیں کرنا

May 09, 2017


میرے دادا مرحوم کھیتی باڑی کیا کرتے تھے ۔
اس وقت ان کے پاس ہل چلانے کےلئے چھوٹے قد کا ایک بیل تھا ۔
اس کا قد اتنا چھوٹا تھا کہ دیکھنے میں "بچھڑا" دکھائی دیتا تھا ۔
لیکن غصے کا بہت ہی تیز اور لڑاکا قسم تھا ۔
بھرپور جوانی میں غصے اور طاقت کے بل پر بڑے بڑے بیل کے ساتھ بھڑ جاتا تھا ۔
اور انہیں مار مار کر بھاگنے پر مجبور کر دیتا تھا ۔
میرے دادا نے بچپن سے ہی پالا تھا اسے ۔
اسلئے میرے دادا کے علاوہ کسی کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتا۔
ان صفات کی وجہ سے اس کی شہرت آس پاس کے کئی اور گاؤں اور دیہاتوں میں پھیل چکی تھی۔
شہرت سن کر لوگ دیکھنے آتے تھے ۔اور سمجھدار لوگ دور سے دیکھنے کے بعد سمجھ جاتے تھے ۔
بیل کے بارے سن کر ایک بزرگ "چاچا فضلو" (پورا نام غالبا فضل دین) بھی اس بیل کو دیکھنے آئے ۔
چاچا فضلو بیل کے چھوٹے قد کی وجہ سے اسے "بیل" ماننے کو ہی تیار نہیں تھے وہ اسے  "بچھڑا" کہنے پر مصر تھے ۔
چاچا فضلو نے جو کچھ سن رکھا تھا انہیں کسی لحیم شحیم بیل کے دیکھنے کی توقع تھی۔
ایک "چھوٹا" سا بچھڑا دیکھ انہیں بہت مایوسی ہوئی۔
بیل کے بارے جو باتیں انہوں نے سن رکھی تھیں ایک ایک کر کے بیان کرتے جاتے اور دادا سے تصدیق کرتے "یہ کارنامہ اسی چھوٹے سے "بچھڑے" نے سر انجام دیا ؟
ہاں فضلو! لیکن اس کے قریب جانے کی حماقت مت کرو ۔ تمہاری مہربانی ۔ یہ بیل بہت غصے والا ہے ۔ مارے گا۔ میرے دادا نے سمجھایا
یہی بچھڑا؟ مذاق اڑانے کے سے انداز میں چاچا فضلو مزید قریب ہو گیا
دیکھو تم بہت قریب پہنچ چکے ہو مزید کوئی حرکت مت کرنا ۔ بیل مارے گا ۔ دادا نے اسے بیل کی "رینج" میں آتے دیکھ کر تنبیہہ کی
یہی بچھڑا؟ اس نے پھر سے غیر یقینی انداز میں پوچھا اور بیل کے بالکل قریب ہو گیا
او بھائی۔ بہت ہو گیا چلو یہاں سے ۔ دادا نے چاچا فضلو اور بیل دونوں کے تیور بھانپتے ہوئے کہا
بیل بالکل ساکت سر جھکائے کھڑا تھا ۔ اس کی نظریں چاچا فضلو پر ٹکی تھیں۔
چاچا فضلو نے ایک بار پھر "یہی بچھڑا" کہہ کر بیل کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنے کی غرض سے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ خود زمین سے اٹھ گیا ۔
بیل نے اس کی ٹانگوں کے بیچ میں سینگ گھسا کر اسے زمین سے بلند کر دیا تھا ۔
چاچا فضلو چند لمحے ہوا میں معلق رہنے کے بعد "دھڑام" کی آواز کے ساتھ زمین پر آ رہے۔
دادا نے آگے بڑھ کر پچکارتے ہوئے بیل کو قابو کیا ۔ تب تک چاچا فضلو کے حواس ٹھکانے آ چکے تھے ۔ اٹھ کر کپڑے جھاڑتے ہوئے بولے: حاجی تیڈا ڈاند تاں واقعی بھڑدے(حاجی! تیرا بیل تو واقعی لڑاکو ہے)۔

بالکل یھی سوچ ملحدین کی ھے
جب تک یہ کسی چیز کا مشاھدہ نہ کر لیں ،اسکا یقین نھیں کرتے

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں