تراویح آٹھ رکعت ہیں یا بیس رکعت ۔۔؟احادیث کی روشنی میں بتائیں




تراویح آٹھ رکعت ہیں یا بیس رکعت ۔۔؟
سوال :۔۔۔۔۔۔کتنی تراویح پڑھنا سنت ہے ،بیس یا آٹھ ؟
تھجدو تراویح میں فرق ہے یا نہیں ؟
احادیث کی روشنی میں بتائیں
جواب :۔۔۔۔۔۔
بسم اللہ والحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ
نماز تراویح بیس رکعت ہی سنت موکدہ ہے ،اس سے کم پڑھنے والا تارک سنت ہے ،
    شارح بخاری علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں
انہ صلی بالناس عشرین رکعۃ لیلتین
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دو دن (جماعت کے ساتھ ) بیس رکعت تراویح پڑھائی
(تلخیص الحبیر )

حدیث میں ہے:
سننت لکم قیامہ
میں نے رمضان کا قیام تمہارے لیے سنت قرار دیا
(ابن ماجہ ،شعب الایمان )

آپ نے تراویح کو سننت قرار دیا صحابہ کرام و تابعین کا اسی پر عمل کرتے تھے ،فقہاء کرام نے بھی اپنی کتابو ں میں اسے سنت موکدہ لکھا
    خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیس رکعت تراویح اور وتر پڑھتے تھے ،
حدیث میں ہے
ان النبی کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ سوی الوتر
(فتح الباری ،میزان الاعتدال ،تھذیب الکمال ،مصنف ابن ابی شیبہ)

    صحابہ کرام نے اپنے دور میں بیس رکعت ہی جماعت کے ساتھ پڑھی حدیث میں ہے :
کان الناس یقومون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان بثلاث وعشرین رکعۃ
لوگ فاروق اعظم کے دور میں بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھتے تھے
(ترمذی ،فتح الباری ،شعب الایمان ،موطا امام مالک ،التمھید ،نیل الاوطار)

حضرت علی المرتضی بھی بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے
انہ کان یومھم فی شھر رمضان بعشرین رکعۃ ویوتربثلاث
(مصنف ابن ابی شیبہ ،سنن الکبری )

حضرت ابی بن کعب صحابی رسول بھی بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے
کان ابی بن کعب یصلی بالناس فی رمضان بالمدینۃ عشرین رکعۃ ویوتربثلاث
(مصنف ابن ابی شیبہ )

    امام شافعی اور جلیل القدرامام حضرت سفیان ثوری ،حضرت عبد اللہ بن مبارک کا بھی یہی قول ہے
(ترمذی )

امام شافعی فرماتے ہیں :
میں نے مکہ میںاہل علم کوبیس رکعت ہی نماز تراویح پڑھتے پایا
ھکذا ادرکت ببلدنا بمکۃ یصلون عشرین رکعۃ
(ترمذی )

    آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،صحابہ ،تابعین کا عمل دیکھ لیا ،ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ۔
آخر میں یہ دو اقوال بھی دیکھ لیں
جن کی بات مخالفین زیادہ جلدی مان لیتے ہیں
    علامہ ابن تیمیہ ، لکھتے ہیں :
ابی بن کعب سے ثابت ہے کہ وہ بیس رکعت تراویح ا ور تین وتر پڑھاتے ہیں
کثیر علماء نے اسے ہی سنت کہا ہے
کیوں کہ یہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام کے درمیان قائم ہوئی
ولم ینکرہ منکر
او ر کسی صحابی نے اس کا انکار نہیں کیا
(مجمومہ فتاوی ابن تیمیہ )

اگر صحابہ کرام کے نزدیک تراویح بیس رکعت نہ ہوتی تو وہ ضرور اس کا انکار کرتے

اب آخر میں ہم محمد بن عبد الوہاب نجدی کا بھی قول نقل کردیتے ہیں
کانت صلاتھم عشرین رکعۃ
ان کی تراویح بیس رکعت تھی
(مجموعہ فتاوی نجدیہ )

یادر کھیں
تراویح ترویحہ کی جمع ہے، ترویحہ چار رکعت کو کہتے ہیں اگر تراویح آٹھ رکعت ہوتی تو اسے ترویحتان کہتے ،کیونکہ یہ یہ تثنیہ ہوگا ، عربی میں دو کو تثنیہ کہتے ہیں ،جمع کم از کم تین کو کہتے ہیں

    بخاری شریف کی حدیث جس میں آٹھ رکعت کا ذکر ہے ،اس سے لوگوں کو مغالطہ ہوا ہے ،اگر یہ لوگ اس کی شرح پڑھتے تو ابن حجر عسقلانی اور شاہ عبد العزیر محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس حدیث سے تھجد مراد ہے
    خدا کا واسطہ اس امت میں اختلاف اور تفرقہ نہ پیدا کریں ،پوری امت بیس رکعت پڑھتی چلی آئی ہے امت کو اسی پر قائم رہنے دیں ۔
    یاد رکھیں
نماز تراویح وتھجد میں فرق ہے ، تھجد وہ نماز ہے جو سونے کے بعد پڑھی جائے

حدیث شریف میں ہے
( انما التھجد الصلوۃ بعد رقدۃ )
تھجد وہ نماز ہے جو سونے کے بعد بیدار ہو کر پڑھی جائے
(طبرانی کبیر )

حالانکہ تراویح تو عشاء کے فورا بعد پڑھ لی جاتی ہے
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھجد رات میں کب پڑھتے تھے

حدیث میں ہے:
کان یقوم اذا سمع الصارخ
آپ تھجد کے لیے اس وقت بیدار ہوتے جب مرغ اذان دیتا ہے
(بخاری ،مسلم )   

ہم نے صرف احادیث مبارکہ ہی سے مسئلہ کو بیان کیا ،جو اس کے بارے میں تفصیلی معلومات چاہتا ہو،وہ فقہاء کرام کی کتابوں کا مطالعہ کرے
    طالب دعا : احسان اللہ کیانی