بیج سے پودا کون اگاتا ھے ...؟؟

بھلا دیکھو تو کہ جو بیج تم بوتے ہو
تو کیا تم اسے اُگاتے ہو یا ہم اُگاتے ہیں؟
الواقعہ، 63،64
.
تمہارا کام صرف اتنا ہے کہ زمین میں ہل چلاؤ اور اس میں بیج ڈالو۔ اس کے بعد اس کے پک کر تیار ہونے تک جو حیران کن تغیرات وقوع پذیر ہوتے ہیں، کیا اس میں تمہارا بھی کوئی دخل ہے۔ پھر ان کے لیے جتنی حرارت، ٹھنڈک، روشنی، ہوا، رطوبت وغیرہ عوامل کی ضرورت ہوتی ہے، ان کو مناسب مقدار میں اور بروقت کون مہیا کرتا ہے؟
وہ مٹی جو لوہے کو خاک بنا دیتی ہے اسی مٹی میں تیرا بویا ہوا دانہ وہ خالق و مالک ضائع نہیں ہونے دیتا،
اس سے کونپل پھوٹتی ہے پھر پودے کی صورت اختیار کر لیتا ہے، مکئی کا ایک دانا بویا تم نے اس پر دس سٹے اگا دیے ہر سٹے میں سینکڑوں دانے،
یہ بھی اسی کی مہربانی ہے کہ اسے بڑھاتا اور پکاتا ہے ورنہ وہ یہ بھی قدرت رکھتا ہے کہ اسے سُکھا دیتا،بے نام و نشان کر دیتا، پھر تم کہتے بڑا نقصان ہو گیا ہم تو برباد ہو گئے، ہماری تو جمع پونجی غارت ہو گئی، رنج و الم سے پھر بھانت بھانت کی بولیاں بولتے،
کبھی غور کیا کہ ایک دانہ بونے پر سینکڑوں دانے کیوں مہیا کر دیے گئے، کیونکہ کھانے والے بھی بہت ہیں یہ انکے رزق کا بندوبست ہو رہا ہے، اسی سے تمہارے جانوروں کا چارہ بھی نکلتا ہے،

جو ذات اس دانے کو جو زمین میں گل جاتا ہے، اس کو پھر ایک تن آور پودا بنا دیتی ہے، کیا اس کے لیے مشکل ہے کہ وہ انسان کو خاک میں ملنے کے بعد نئی زندگی عطا فرما دے۔

تحریر : نامعلوم