تازہ ترین
کام جاری ہے...
Wednesday, May 10, 2017

ایران کا پاکستان پر مداخلت کا الزام ۔ حقیقت کیاھے : کالم نگار: اوریا مقبول جان

May 10, 2017

ایران کا پاکستان پر مداخلت کا الزام ۔ حقیقت کیاھے :

کالم نگار: اوریا مقبول جان

افغانستان، ایران اور بھارت، میرے ملک کا ''عظیم'' دانشور، خود ساختہ مورخ اور ''عالی دماغ'' تجزیہ نگار اپنی تحریروں اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں اپنے تبصروں میں ارشاد فرمائے گا کہ ہم کسی بھی پڑوسی سے اچھے تعلقات استوار کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ان تمام دانشوروں، مؤرخوں اور تجزیہ نگاروں کی سوئی ضیاء الحق پر اٹکی ہوئی ہے۔ نہ وہ اس سے پہلے کی تاریخ پڑھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اس کے بعد کے حالات کا آزادانہ جائزہ لینا پسند کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر ان کا کوئی بچہ امتحان میں فیل ہو جائے، گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوجائے، بیوی چھوڑ کر چلی جائے، بیٹی کو طلاق ہو جائے، ان سب مسائل کی جڑ ضیاء الحق کا دس سالہ دور اقتدار ہے۔ وہ ان سب کے پیچھے بھی اس دور کی پالیسیوں سے کوئی تعلق ضرور ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ضیاء الحق کو برا کہنا ہمارے سیکولر اور لبرل طبقے کے اس رویے کی علامت ہے کہ وہ اسلام کو تو برا بھلا نہیں کہتے، لیکن مولوی کو برا بھلا کہہ کر اپنا مقصد پورا کر لیتے ہیں۔ یہاں پر بھی مقصد فوج کو برا بھلا کہنا ہوتا ہے، لیکن جرات اظہار سے عاری یہ طبقہ ضیاء الحق کو گالی دے کر اپنا مقصد پورا کرتا ہے۔

افغانستان اور بھارت کے ساتھ تو ہمارے حالات ہمیشہ سے کشیدہ رہے۔ بھارت کے بارے میں تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں، بچہ بچہ جانتا ہے۔ لیکن پھر بھی اس ملک میں بھارت کی محبت میں لوگ اچھلتے تھے، ان کے افکار وخیالات کا رد کرنے کے لیے کسی بحث یا تحریر کی اب ضرورت نہیں۔ نریندر مودی کا ہر نیا دن ان کے دوستی کے جذبات کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کرتا ہے۔ البتہ انہیں افغانستان کے حملوں کا جواز ڈھونڈنے کی محنت نہیں کرنا پڑتی۔ سیدھا ضیاء الحق اور افغان جہاد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا دو۔ کس قدر ڈھٹائی سے لوگ ضیاء الحق سے پہلے کی اس تیس سالہ پاکستانی تاریخ کو بھول جاتے ہیں جب پاکستان کا ہر غدار، دشمن وطن افغانستان میں جا کر پناہ لیتا تھا۔ خان آف قلات کے بھائی شہزادہ عبدالکریم نے 1948ء میں الحاق پاکستان کے بعد بغاوت کی تحریک چلائی تو اسے منظم کرنے کے لیے افغانستان کی سر زمین ملی۔ ساٹھ کی دہائی میں شیر محمد مری جسے ''جنرل شیروف'' کہا جاتا تھا اس کی کمیونسٹ انقلاب کی طرز کی گوریلا جنگ شروع ہوئی تو اس کی ٹریننگ اور بھاگ کر پناہ حاصل کرنیوالوں کا ٹھکانہ افغانستان تھا۔

ستر کی دہائی میں جب ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری آمریت کے دوران سرحد اور بلوچستان کی جمہوری حکومتوں کو برطرف کیا گیا تو بلوچستان میں ایک مسلح بغاوت کا آغاز ہوا جس کا ساتھ سرحد کی خان عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کی لیڈر شپ نے بھی دیا۔ اجمل خٹک سے لے کر نوجوان یوسف زئی، مینگل اور مری تک سب کے سب افغانستان چلے گئے۔ انہیں وہاں منظم کیا گیا۔ بھارت کے سفیر کو انہیں سرمایہ اور اسلحہ فراہم کرنے کی کھلی اجازت تھی یہ لوگ افغانستان سے بندوقوں، بموں اور بارودی سرنگوں سے لیس ہو کر پاکستان آتے اور قتل وغارت بھی کرتے اور دھماکے بھی، ان کے درمیان ایک انقلابی پروفیسر جمعہ خان صوفی بھی تھا جس نے ''فریب ناتمام'' جیسی کتاب تحریر کرکے سب کچھ بیان کر دیا۔ افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف 1948ء سے استعمال ہوتی چلی آ رہی ہے اور میں اپنے دوستوں کو یاد دلا دوں کہ روس وہاں 1979ء دسمبر میں داخل ہوا تھا اور پاکستان میں آنے والے مجاہدین نہیں مہاجرین تھے۔ افغانستان کی وہ کٹھ پتلی حکومت جو گزشتہ تیس سال سے پاکستان کے خلاف سرگرم عمل تھی اور اب روس کی افواج کے بل بوتے پر قائم رہنا چاہتی تھی، یہ مجاہدین اس کے خلاف لڑنے اور اپنے ملک کو آزاد کروانے نکلے تھے۔ دنیا میں موجود تمام عالمی اخلاقی معیارات کے مطابق ایک محکوم قوم کی مدد کرنا حکومتوں، قوموں اور بحیثیت مجموعی انسانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن میرے ملک کا یہ دانشور طبقہ اس وقت بھی 1947ء سے قائم افغانستان کی پاکستان مخالف حکومت اور روسی فوج کے ساتھ تھا۔ آج بھی امریکہ اور اس کی قائم کردہ بھارت نواز پاکستان مخالف حکومت کے حق میں بولتا ہے۔

بھارت اور افغانستان کی بحث تو لمبی ہے اس میں جو جس کا کھاتا ہے اسی کا گاتا ہے لیکن یہ ایران کو کیا ہو گیا. شاید عراق اور شام میں اس کے پاسداران کو معصوم مسلمانوں کو قتل عام کے بعد انسانی خون کا چسکا لگ چکا ہے۔ عراق میں بھی امریکی تباہی میں یہ شریک تھے اور عراق کو برباد کر کے یہ اس میں داخل ہوئے اور شام میں ان کی مدد امریکہ اور روس دونوں بیک وقت کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان پر یہ الزام کہ ہماری سرزمین ان کے خلاف استعمال ہوتی ہے اس پر جو حیرت مجھے ہوئی ہے اور ایران کی سرحد کے قریب بسنے والے ہر بلوچ کو ہوئی ہو گی، وہ ناقابل بیان ہے۔

پاکستان کا خطہ اور خصوصاً بلوچستان 1979ء کے ایران انقلاب سے پہلے مسلکی ہم آہنگی کی شاندار مثال تھا۔ محرم کے دن سب کے لیے یکساں احترام اور سوگ کے دن تھے۔ تعزیہ شعیہ برادری کا ہوتا تو جگہ جگہ سبیلیں سنی عوام لگاتے۔ ہر گھر سے اس دن نذر ونیاز دی جاتی اور شہیدان کربلا کے ذکر سے آنکھیں نم کی جاتیں۔ پورے ملک میں سیاہ صحابہ نام کی کسی تنظیم کا وجود تک نہ تھا۔ اسلامی قوانین ایران میں 1979ء میں نافذ ہوئے جو وہاں ہر سنی کے لیے یکساں تھے۔ پورے ایران میں تعزیرات اور عمومی قوانین کے لیے فقہ جعفریہ نافذ کر دی گئی۔ لیکن جب پاکستان میں ضیاء الحق نے زکوٰة اور عشر کا قانون نافذ کیا تو ایرانی ایما پر یہاں اس کے خلاف اہل تشیع نے احتجاج شروع کیا۔ اگر یہ معاملہ پاکستان تک رہتا تو ٹھیک تھا لیکن اس احتجاج میں ایران کا سفیر بھی شریک ہو گیا۔

یہ دنیا کے سفارتی آداب کے خلاف تھا۔ لیکن اس بیرونی مداخلت کے باوجود پاکستان کی حکومت اور عوام اپنے شیعہ بھائیوں کی وجہ سے خاموش رہی۔ 1979ء سے پہلے پاکستان میں ایرانی ثقافتی مراکز ہوا کرتے تھے جنہیں خانہ فرہنگ ایران کہا جاتا تھا۔ یہ آج بھی اسی نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔ یہ پاکستان میں فارسی شعراء، مولانا روم، حافظ سعدی، جامی اور دیگر کے متوالوں کے لیے ایک علمی مرکز کا کام کرتے لیکن ایرانی انقلاب کے بعد یہ مراکز اس انقلاب کو بیرون ملک برآمد کرنے کا ذریعہ بن گئے۔ آیت اللہ خمینی کی قیادت نے پہلی دفعہ پاکستانی طلبہ کو چار ہزار وظائف جاری کئے تاکہ وہ ایران جا کر آیت اللہ خمینی کے تصور ''ولائت فقہیہ'' کے مطابق مذہبی تعلیم حاصل کریں۔ ولائت فقیہہ باقی تمام شیعہ فکر سے کتنا مختلف ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایرانی انقلاب کے بعد تین نعرے لگاتے ہیں1۔ مرگ بر امریکہ۔ 2۔ مرگ بر اسرائیل۔ 3۔ مرگ بر ضد ولائت فقہیہ - (جاری) بشکریہ روزنامہ 92 نیوز

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں