Wednesday, May 31, 2017

نماز میں ہاتھ باندھنے کا سنت طریقہ حدیث کی روشنی میں

نماز میں ہاتھ باندھنے کا سنت طریقہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبانی
سنن ابوداؤد کی حدیث میں

غفلت کی وادی سے نکل کر

اب ہمیں غفلت کی وادیوں سے نکل کر  اپنے رب کی طاعت و فرمانبرادری کی طرف آجانا چاہیے
آخر ہم کس وقت کا انتظار کر رہے ہیں
جب موت دروازے پر دستک دینے لگے گی ..؟
یا
جب روح حلق تک پہنچ جائے گی ..؟

قرآن کریم میں ہے:
فَفِرُّوۡۤا  اِلَی اللّٰہِ ؕ اِنِّیۡ  لَکُمۡ  مِّنۡہُ  نَذِیۡرٌ  مُّبِیۡنٌ ﴿ۚ۵۰﴾
پس تم اﷲ کی طرف دوڑ چلو، بیشک میں اُس کی طرف سے تمہیں کھلا ڈر سنانے والا ہوں
(الذاریات:50)

#توبہ #قرآن #موت
#Allah #Tauba #Quran #death

اللہ کی قدرت

جو اللہ ایسی زمین سے اس نازک پودے کو نکالنے پر قادر ہے ،وہ ہمیں بھی ہر سختی اور پریشانی سے باحفاظت نکالنے پر قادر ہے.
لھذا ہر مشکل میں اسی سے دعا کریں
یا اللہ
یا ارحم الراحمین
یا رب العالمین

طیب اردگان کی افطاری شھید کے بچوں کے ساتھ

شہید کے گھرانے کے ساتھ چوتھے روزے کی افطاری کے موقع پر صدر رجب طیب ایردوان،
شہید کے بچوں کے ساتھ

خواب کی چار قسمیں اور ان کی علامت

خواب کی چار قسمیں اور ان کی علامت
ماخوز از
کیا آپ کو معلوم ہے..؟
تالیف:
مفتی محمد اکمل قادری صاحب

سرسید کے عقائد انتہائی گمراہانہ تھے : مفتی تقی عثمانی کا فتوی

سرسید احمد خان صاحب:
مفتی تقی عثمانی صاحب دیوبندی مسلک کے بڑے علماء میں سے شمار کیے جاتے ہیں،سرسید احمد خان صاحب کے متعلق ان کا فتوی ہے کہ  .سرسید کے عقائد انتہائی گمراہانہ تھے
ماخوذ از
#فتاوی_عثمانی ،جلد اول

#سرسید #علیگڑھ #مفتی_تقی_عثمانی
#sir_syed_ahmed_khan

2017 میں صدقہ فطر،فدیہ صوم،کفارہ صوم اور کفارہ قسم کی رقم

2017 میں
صدقہ فطر،فدیہ صوم،کفارہ صوم اور کفارہ قسم کی رقم

از مفتی منیب الرحمن صاحب
جامعہ نعیمیہ ،کراچی

Tuesday, May 30, 2017

جن امور سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

جن امور سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:
حُقّہ، سگار، سگریٹ، چرٹ پینے سے روزہ جاتا رہتا ہے

کھانے پینے،جماع کرنے سے روزہ جاتا رہتا ہے، جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو

شکر وغیرہ ایسی چیزیں جو مونھ میں رکھنے سے گھل جاتی ہیں، مونھ میں رکھی اور تھوک نگل گیا روزہ جاتا رہا

کلی کر رہا تھا بلا قصد پانی حلق سے اُتر گیا، یا ناک میں پانی چڑھایا اور دماغ کو چڑھ گیا روزہ جاتا رہا،
مگر جبکہ روزہ ہونا بھول گیا ہو، تو نہ ٹوٹے گا

روزہ میں دانت اکھڑوایا اورخون نکل کر حلق سے نیچے اُترا، اگرچہ سوتے میں ایسا ہوا تو اس روزہ کی قضا واجب ہے۔

مبالغہ کے ساتھ استنجا کیا، یہاں تک کہ حقنہ رکھنے کی جگہ تک پانی پہنچ گیا، روزہ جاتا رہا

دماغ یا شکم کی جھلّی تک زخم ہے، اس میں دوا ڈالی اگر دماغ یا شکم تک پہنچ گئی روزہ جاتا رہا،
خواہ وہ دوا تر ہویا خشک
اور اگر معلوم نہ ہو کہ دماغ یا شکم تک پہنچی یا نہیں اور وہ دوا تر تھی، جب بھی جاتا رہا
اور خشک تھی تو نہیں

عورت کا بوسہ لیا، یا چُھوا ،یا مباشرت کی، یا گلے لگایا اوراِنزال ہوگیا ،تو روزہ جاتا رہا

کسی نے روزہ دار کی طرف کوئی چیز پھینکی، وہ اُس کے حلق میں چلی گئی روزہ جاتا رہا

سوتے میں پانی پی لیا یا کچھ کھا لیا یا مونھ کھولا تھا اور پانی کا قطرہ یا اولا حلق میں جا رہا روزہ جاتا رہا

مونھ میں رنگین ڈورا رکھا جس سے تھوک رنگین ہوگیا پھر تھوک نگل لیا روزہ جاتا رہا

آنسو مونھ میں چلا گیا اور نگل لیا، اگر قطرہ دو قطرہ ہے تو روزہ نہ گیا اور زیادہ تھا کہ اس کی نمکینی پورے مونھ میں محسوس ہوئی تو جاتا رہا۔ پسینہ کا بھی یہی حکم ہے

ماخوذ از
بہار شریعت
#روزہ #افطار #فتوی #روزے_کے_مسائل
#roza #ramzan #iftar

verse of Quran Nisa 147

Quran:
وَ کَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیۡمًا
and Allah is Most Appreciative , Well Aware (of every act).
(Nisa:147)

#Quran #Allah #Appreciative #verse

ابلیس کی مجلس شوری :کلام اقبال

ابلیس کی مجلس شوری
ابلیس
یہ عناصر کا پرانا کھیل، یہ دنیائے دوں
ساکنان عرش اعظم کی تمناؤں کا خوں!
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز
جس نے اس کا نام رکھا تھا جہان کاف و نوں
میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب
میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں
میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں
کون کر سکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروں
جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اس نخل کہن کو سرنگوں!
پہلا مشیر
اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ ابلیسی نظام
پختہ تر اس سے ہوئے خوئے غلامی میں عوام
ہے ازل سے ان غریبوں کے مقدر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نماز بے قیام
آرزو اول تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں
ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام
یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام
طبع مشرق کے لیے موزوں یہی افیون تھی
ورنہ 'قوالی' سے کچھ کم تر نہیں 'علم کلام'!
ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیام
کس کی نومیدی پہ حجت ہے یہ فرمان جدید؟
'ہے جہاد اس دور میں مرد مسلماں پر حرام!
دوسرا مشیر
خیر ہے سلطانی جمہور کا غوغا کہ شر
تو جہاں کے تازہ فتنوں سے نہیں ہے با خبر!
پہلا مشیر
ہوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیت کا اک پردہ ہو، کیا اس سے خطر!
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
کاروبار شہریاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجود میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصر
مجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر!
تیسرا مشیر
روح سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب
ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب؟
وہ کلیم بے تجلی، وہ مسیح بے صلیب
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
کیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہ پردہ سوز
مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روز حساب!
اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب!
چوتھا مشیر
توڑ اس کا رومہ الکبرے کے ایوانوں میں دیکھ
آل سیزر کو دکھایا ہم نے پھر سیزر کا خواب
کون بحر روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا
'گاہ بالد چوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب،
تیسرا مشیر
میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں
جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب
پانچواں مشیر
( ابلیس کو مخاطب کرکے(
اے ترے سوز نفس سے کار عالم استوار!
تو نے جب چاہا، کیا ہر پردگی کو آشکار
آب و گل تیری حرارت سے جہان سوز و ساز
ابلہ جنت تری تعلیم سے دانائے کار
تجھ سے بڑھ کر فطرت آدم کا وہ محرم نہیں
سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار
کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف
تیری غیرت سے ابد تک سرنگون و شرمسار
گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحر تمام
اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار
وہ یہودی فتنہ گر، وہ روح مزدک کا بروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جنوں سے تار تار
زاغ دشتی ہو رہا ہے ہمسر شاہین و چرغ
کتنی سرعت سے بدلتا ہے مزاج روزگار
چھا گئی آشفتہ ہو کر وسعت افلاک پر
جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مشت غبار
فتنہء فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج
کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جوئبار
میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے
جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار
ابلیس
( اپنے مشیروں سے)
ہے مرے دست تصرف میں جہان رنگ و بو
کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسمان تو بتو
دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق
میں نے جب گرما دیا اقوام یورپ کا لہو
کیا امامان سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہو
کارگاہ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو!
دست فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک
مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو
کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشفتہ مو
ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اس امت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرار آرزو
خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشک سحر گاہی سے جو ظالم وضو
جانتا ہے، جس پہ روشن باطن ایام ہے
مزدکیت فتنہ فردا نہیں، اسلام ہے!
(2)
جانتا ہوں میں یہ امت حامل قرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندہ مومن کا دیں
جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے ید بیضا ہے پیران حرم کی آستیں
عصر حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں
الحذر! آئین پیغمبر سے سو بار الحذر
حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفریں
موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لیے
نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشیں
کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف
منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں
اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں!
چشم عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئیں تو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محروم یقیں
ہے یہی بہتر الہیات میں الجھا رہے
یہ کتاب اللہ کی تاویلات میں الجھا رہے
(3)
توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسم شش جہات
ہو نہ روشن اس خدا اندیش کی تاریک رات
ابن مریم مر گیا یا زندہ جاوید ہے
ہیں صفات ذات حق، حق سے جدا یا عین ذات؟
آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے
یا مجدد، جس میں ہوں فرزند مریم کے صفات؟
ہیں کلام اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم
امت مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟
کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دور میں
یہ الہیات کے ترشے ہوئے لات و منات؟
تم اسے بیگانہ رکھو عالم کردار سے
تا بساط زندگی میں اس کے سب مہرے ہوں مات
خیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہان بے ثبات
ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات
مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا مختصر تعارف

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا مختصر تعارف:
نام :
فاطمہ (رضی اللہ عنھا )

والد:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

والدہ:
خدیجہ بنت خویلد
ایک قول کے مطابق آپ نبی کریم علیہ السلام کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی.

لقب:
سیدۃ نساء العالمین
یعنی تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار

نکاح:
دو ہجری رمضان المبارک میں آپ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نکاح فرمایا اور ذی الحجہ میں ازدواجی تعلق قائم کیا

اولاد:
آپ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ اولاد پیدا ہوئی
حسن ،حسین ،محسَن ،زینب ،ام کلثوم ،اور رقیہ رضی اللہ عنھم

وفات:
آپ نے نبی کریم علیہ السلام کے تین ماہ یا چھ ماہ بعد  مدینہ منورہ میں وفات پائی .
اس وقت آپ کی عمر مبارک 28 سال تھی .

غسل:
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کو غسل دیا.

جنازہ:
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی.

تدفین:
آپ کو رات کو دفن کیا گیا .

روایات:
آپ سے حضرت علی ،حسن ،حسین اور بہت سے صحابہ نے احادیث روایت فرمائیں.

سچائی:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہے ،میں نے نبی کریم علیہ السلام کے علاوہ حضرت فاطمہ سے بڑھ کر کوئی سچا نہیں دیکھا.
آپ دونوں کے درمیان کوئی بات ہوئی ، آپ نے عرض کی ،یا رسول اللہ حضرت فاطمہ سے پوچھ لیں ،کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتی.

الاکمال فی اسماء الرجال
تالیف :
صاحب المشکوۃ محمد بن عبد اللہ الخطیب التبریزی

#فاطمہ #خاتون_جنت #3رمضان
#fatima #khatoon_e_janat

کیا انسان چاند پر پہنچ چکا ہے یا یہ امریکی جھوٹ ہے

21 جولائی 1969ء کو دنیا کے کئی ممالک میں live TV پر امریکہ نے اپنے دو خلانوردوں کو چاند کی سطح پر اترتے ہوئے دکھایا اور 50 کروڑ لوگوں نے اسے دیکھا۔ لیکن کچھ ہی سالوں میں خود امریکہ میں اس بات پر شک و شبہ ظاہر کیا جانے لگا کہ کیا واقعی انسان چاند پر اترا تھا؟ [1][2]
15 فروری 2001ء کو Fox TV Network سے نشر ہونے والے ایک ایسے ہی پروگرام کا نام تھا ?Conspiracy Theory: Did We Land on the Moon۔ یہ نشریات 19 مارچ کو دوبارہ نشر کی گئی

وجوھات :

امریکہ کے ایٹمی ہتھیار روس کے ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ بہتر اور چھوٹے سائز کے تھے اس لئے انہیں میزائلوں میں استعمال کرنے کے لئے چھوٹے راکٹوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ اس کے برعکس روسیوں کو اپنے بھاری ایٹمی ہتھیاروں کے لئے بہت بڑے راکٹوں کی ضرورت تھی اور اس وجہ سے روسی راکٹ سازی میں امریکہ سے کہیں آگے نکل گئے۔ امریکہ کو شدید خطرہ تھا کہ نہ صرف اس کے علاقے روسی ایٹمی ہتھیاروں کی زد میں ہیں بلکہ سرد جنگ کی وجہ سے شروع ہونے والی خلائی دوڑ میں بھی انہیں مات ہونے والی ہے۔ جنگ ویتنام میں ناکامی کی وجہ سے امریکیوں کا مورال بہت نچلی سطح تک آ چکا تھا

روسی خلائی برتریترميم

پہلا مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے کے معاملے میںروس کو سبقت حاصل ہو چکی تھی جب اس نے 4 اکتوبر 1957ء کو Sputnik 1 کو کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں بھیجا۔ روس 1959ء میں بغیر انسان والے خلائی جہاز چاند تک پہنچا چکا تھا۔ 12 اپریل 1961ء کو روسی خلا نورد یوری گاگرین نے 108 منٹ خلا میں زمیں کے گرد چکر کاٹ کر خلا میں جانے والے پہلے انسان کا اعزاز حاصل کیا۔ 23 دن بعد امریکی خلا نورد Alan Shepard خلا میں گیا مگر وہ مدار تک نہیں پہنچ سکا۔ ان حالات میں قوم کا مورال بڑھانے کے لئے صدر کینڈی نے 25 مئی 1961ء میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم اس دہائی میں چاند پر اتر کر بخیریت واپس بھی آجائیں گے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ دہائی کے اختتام پر بھی اسے پورا کرنا امریکہ کے لئے ممکن نہ تھا اس لئے عزت بچانے اور برتری جتانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لینا پڑا۔ امریکہ کے ایک راکٹ ساز ادارے میں کام کرنے والے شخص Bill Kaysing کے مطابق اس وقت انسان بردار خلائی جہاز کے چاند سے بہ سلامت واپسی کے امکانات صرف 0.017% تھے۔ اس نے اپولو مشن کے اختتام کے صرف دو سال بعد یعنی 1974ء میں ایک کتاب شائع کی جس کا نام تھا We Never Went to the Moon: America's Thirty Billion Dollar Swindle
3 اپریل 1966ء کو روسی خلائی جہاز Luna 10 نے چاند کے مدار میں مصنوعی سیارہ چھوڑ کر امریکیوں پر مزید برتری ثابت کر دی۔

ڈراما:

21 دسمبر 1968ء میں NASA نے Apollo 8 کے ذریعے تین خلا نورد چاند کے مدار میں بھیجے جو چاند کی سطح پر نہیں اترے۔ غالباً یہ NASA کا پہلا جھوٹ تھا اور جب کسی نے اس پر شک نہیں کیا تو امریکہ نے پوری دنیا کو بے وقوف بناتے ہوئے انسان کے چاند پر اترنے کا یہ ڈراما رچایا اور لندن کے ایک اسٹوڈیو میں جعلی فلمیں بنا کر دنیا کو دکھا دیں۔ آپولو 11 جو 16جولائی 1969ء کو روانہ ہوا تھا درحقیقت آٹھ دن زمین کے مدار میں گردش کر کے واپس آ گیا۔
1994ء میں Andrew Chaikin کی چھپنے والی ایک کتاب A Man on the Moon میں بتایا گیا ہے کہ ایسا ایک ڈراما رچانے کی بازگشت دسمبر 1968ء میں سنی گئی تھی۔

اعتراضات:

چاند تک پہنچنے کے لیے انسانوں کو وان ایلن ریڈیئشن بیلٹ (Van Allen radiation belts) سے گزرنا پڑتا ہے جو صحت کے لیے سخت خطرہ بن سکتی ہیں۔ زمین کے قریبی مداروں میں جانے کے لیے ان خطرناک تابکار بیلٹ میں سے نہیں گزرنا پڑتا۔ اس کے باوجود زمین کے بہت نزدیک خلائی مداروں میں جانے کے لئے انسان سے پہلے جانوروں کو بھیجا گیا تھا اور پوری تسلی ہونے کے بعد انسان مدار میں گئے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ چاند جیسی دور دراز جگہ تک پہنچنے کے لئے پہلے جانوروں کو نہیں بھیجا گیا اور انسانوں نے براہ راست یہ خطرہ مول لے لیا۔
کچھ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اگر انسان چاند پر پہنچ چکا تھا تو اب تک تو وہاں مستقل قیام گاہ بن چکی ہوتی مگر معاملہ برعکس ہے اور چاند پر جانے کا سلسلہ عرصہ دراز سے کسی معقول وجہ کے بغیر بند پڑا ہے۔ اگر 1969ء میں انسان چاند پر اتر سکتا ہے تو اب ٹیکنولوجی کی اتنی ترقی کے بعد اسے مریخ پر ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہے۔ ناسا کے مطابق دسمبر 1972ء میں اپولو 17 چاند پر جانے والا آخری انسان بردار خلائی جہاز تھا۔

گمشدہ ٹیپ:

چاند پر انسان کی پہلی چہل قدمی کی فلم کا سگنل دنیا تک ترسیل کے بعد slow scan television -SSTV فارمیٹ پر اینالوگ Analog ٹیپ پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ان ٹیپ پر ٹیلی میٹری کا ڈیٹا بھی ریکارڈ تھا۔ عام گھریلو TV اس فارمیٹ پر کام نہیں کرتے اس لئے 1969ء میں اس سگنل کو نہایت بھونڈے طریقے سے عام TV پر دیکھے جانے کے قابل بنایا گیا تھا۔ اب ٹیکنولوجی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ایسے سگنل کو صاف ستھری اور عام TV پر دیکھنے کے قابل تصویروں میں بدل دے۔ جب ناسا سے SSTV کے اصلی ٹیپ مانگے گئے تو پتہ چلا کہ وہ ٹیپ دوبارہ استعمال میں لانے کے لئے مٹائے جا چکے ہیں اور Nasa آج تک اصلی ٹیپ پیش نہیں کر سکا ہے۔

گمشدہ ڈرائنگ:

چاند پر جانے اور وہاں استعمال ہونے والی مشینوں کے بلیو پرنٹ اور تفصیلی ڈرائنگز بھی غائب ہیں۔

Monday, May 29, 2017

رمضان کے مہینے کے فضائل

ماہ رمضان کے فضائل:
رمضان میں ہر روز افطاری کے وقت دس لاکھ لوگوں کو جھنم سے آزاد کیا جاتا ہے.(حدیث)
رمضان میں جمعہ کے دن اور شب جمعہ کو ہر ہر لمحے دس دس لاکھ لوگوں کو جھنم سے آزاد کیا جاتا ہے.(حدیث)
ماخوذ از
#تنبیہ_الغافلین
مزید کے لیے مطالعہ فرمائیں

#رمضان #جنت #بخشش #مغفرت #افطاری #جمعہ #شب_جمعہ #اسلام
#ramzan #iftari #juma #hadees #islam

امام غزالی کی تین کتب کے نام

امام غزالی کی وہ تین کتب جنھیں پڑھ کر دل کی دنیا بدلنے لگتی ہے،
احیاء العلوم ،
کیمیائے سعادت ،
منھاج العابدین

توکل اور رزق

دینی طلباء اگر صرف توکّل سیکھ لیں،تو انکی رزق کی ساری پریشانیاں دور ہو جائیں .
ذرا سوچیے تو سہی ،ہمیں جو رزق ملنا ہے،وہ بہت پہلے لکھا جا چکا ہے.
اب رزق کے پیچھے مارے مارے پھرنے سے بہتر ہے ، اخلاص سے دینی کاموں میں مشغول ہو جائیں،اللہ آپ کے رزق کا بندوبست خود فرما دے گا.

#اخلاص #رزق #توکل #اللہ #اسلام #حدیث
#islam #hadees #rizq #ikhlas #Allah #deeni

صحابہ کرام سے منقول زنا کے چھ نقصانات:

صحابہ کرام سے منقول زنا کے چھ نقصانات:
١-رزق میں برکت ختم
٢-بھلائی سے محروم
٣-لوگوں کے دلوں میں مبغوض
٤-اللہ کے عذاب کا شکار
٥-حساب و کتاب میں سختی
٦-جھنم میں داخلہ
ماخوذ از
#تنبیہ_الغافلین ،جلد دوم

#روزہ #رمضان #زنا #رزق #اسلام #روایت

#Roza #islam #ramzan #zina #rizq

روزے میں صرف بھوک و پیاس برداشت کرنے والے لوگ

روزے میں صرف بھوک و پیاس :
حدیث شریف :
قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صَوْمِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَالْعَطَشُ
رواہ النسائی وابن ماجہ کمافی احیاء العلوم
شرحہ :
 فَقِيلَ هُوَ الَّذِي يُفْطِرُ عَلَى الْحَرَامِ وَقِيلَ هُوَ الَّذِي يُمْسِكُ عَنِ الطَّعَامِ الْحَلَالِ وَيُفْطِرُ عَلَى لُحُومِ النَّاسِ بِالْغِيبَةِ وَهُوَ حَرَامٌ وَقِيلَ هُوَ الَّذِي لَا يَحْفَظُ جَوَارِحَهُ عَنِ الْآثَامِ
(احیاء علوم الدین )
نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا:
کتنے ہی ایسے روزہ دار ہیں ،جنھیں انکے روزے سے بھوک ،پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔
(نسائی ،ابن ماجہ،احیاء العلوم )
وضاحت :
ان سےمراد وہ لوگ ہیں جو حرام سے روزہ افطار کرتے ہیں ۔
یا ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو حلال سے تو رکے رہتے ہیں ،لیکن لوگوں کی  غیبت کرکے روزہ افطار کر دیتے ہیں ۔
یا ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے جسم کے اعضاء کو گناہوں سے نہیں بچاتے ۔
(احیاء العلوم ،کتاب الصوم )

توجہ طلب :
اس کا اگر گز یہ مطلب نہیں ،کہ جو ان سے نہیں بچ سکتا وہ روزہ رکھے ہی نہیں ،کیونکہ اس سے بڑا جرم ہے ۔
روزہ مسلمانوں پر فرض ہے ،ہر صورت میں رکھنا ہو گا ۔

طالب دعا :احسان اللہ کیانی
29 may 2017


Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Join us on