تازہ ترین
کام جاری ہے...
Sunday, April 16, 2017

مشال خان کا واقعہ شریعت اور قانون کی نظر میں

April 16, 2017

مشال خان کا واقعہ شریعت اور قانون کی نظر میں :
تحریر : احسان اللہ کیانی
چند دن قبل مشال خان کو ایک مخصوص وجہ سے قتل کر دیا گیا ۔
اگر بغور اس واقعہ کو دیکھا جائے ،تو اس کے دو پہلو ہیں ۔
(١)۔۔۔۔۔۔ماورائے عدالت انسانی جان کا قتل 
(٢)۔۔۔۔۔۔اسلام کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال 
ماورائے عدالت انسانی جان کا قتل بھی جرم ہے ،اور اسلام کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال بھی جرم ہے ۔
اسی طرح 
انسانی جان کی حفاظت بھی ضروری ہے ،اور اسلام کی حفاظت بھی ضروری ہے۔
اب ہم نے یہ فیصلہ کرنا ہے ،کہ 
جب یہ دونوں چیزیں باہم متعارض ہوں ،تو کس کو ترجیح دی جائے گی ...؟
انسانی جان کو یا اسلام کو ...؟
قانون اور شریعت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے ،کہ بہت سے ایسے جرم ہیں ،جن کی وجہ سے انسانی جان کی حفاظت ضروری نہیں رہتی ،بلکہ اس کا قتل ضروری ہو جاتا ہے ۔
جیسے ھمارے ملکی قانون میں 
باغی کی سزا قتل ہے ۔
ملکی فوج کی مخبری کرنے والے کی سزا قتل ہے ۔
اور شریعت اسلامیہ میں 
اسلام لانے کے بعد اگرکوئی شخص کافر ہو جائے ،تو اس کی سزا قتل ہے ۔
لیکن قانون و شریعت میں کوئی ایک بھی جرم ایسا نہیں ،جس کی وجہ سے اسلام کی حفاظت ضروری نہ رہے ۔
اس سے معلوم ہوا ،کہ اسلام کی حفاظت ہر حال میں ضروری ہے ،جبکہ انسانی جان کی حفاظت اس وقت تک ضروری ہے ،جب تک وہ کسی ایسے جرم کی مرتکب نہ ہو ،جس سے اس کا قتل واجب ہو جائے ۔
اب ہم مشال خان کے معاملے کی طرف آتے ہیں ۔
اگر تو اس نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا ،جس کی وجہ سے اس کا قتل واجب ہو گیا تھا ،تو پھر اس کو قتل کرنے والے بالکل غلط ہیں ۔
اور اگر اس نے ایسا جرم کیا تھا ،جس کی وجہ سے اس کا قتل واجب ہو گیا تھا ،تو پھر قتل درست ہے،البتہ قتل کا طریقہ کار غلط ہے ۔

اب ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں چند اسلامی اصول آپ کے سامنے رکھتے ہیں ،جن کو پیش نظر رکھ کر آپ کے لیے فیصلہ کرنا آسان ہوگا ۔

اصول نمبر ایک:
اگر کوئی شخص کسی وجہ سے کافر ہو جائے ،تو اس کے سابقہ تمام نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں ۔
اللہ تعالی فرماتا ہے :
''وَ قَدِمْنَآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآء ً مَّنْثُوْرًا ''
جوکچھ اعمال انہوں نے کئے تھے، ہم نے سب برباد کر دیے۔
(الفرقان :٢٣)

اصول نمبر دو:
مسلمان کو اللہ تعالی مختلف طریقوں سے آزماتا رہتا ہے :
اللہ تعالی فرماتا ہے :
''اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ ''
کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں، کہ انھیں صرف اتناکہنے پر چھوڑ دیا جائے گا ،کہ ہم ایمان لائے ، ان کی آزمائش نہ جائے گی۔
(العنکبوت :٢۔١)
اس آیت مبارکہ میں معلوم ہوا کہ 
فقط مسلمانی کا زبانی دعوی قبول نہیں کیا جائے گا،بلکہ مختلف اوقات میں تمہاری آزمائش بھی کی جائے گی ۔

اصول نمبر تین:
 مومن مخالفین اسلام سے محبت نھیں کرتا:
اللہ تعالی فرماتا ہے :
''لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَ رَسُوْلَہ وَ لَوْ کَانُوْۤا اٰبَآء َہُمْ اَوْ اَبْنَآء َہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْ اُولٰۤئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِہِمُ الْاِیْمَانَ ''
جو اللہ اور آخرت کے دن ایمان پر لاتے ہیں،تم انھیں نہیں دیکھو گے ،کہ وہ ان سے محبت کریں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ،اگرچہ وہ ان کے باپ ،بیٹے ،بھائی اور قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہوں ،یہ وہ لوگ ہیں ،جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش کر دیا ہے ۔
(المجادلۃ :٢٢)
اس آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا :
ایمان والے اللہ اور رسول کی مخالفت کرنے والے سے بالکل محبت نہیں کرتے ،اگر چہ وہ ان کا باپ ،بھائی ،بیٹا ہی کیوں نہ ہو ۔
یعنی جیسے ہی معلوم ہو ،کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے ،اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ۔

اصول نمبر چار:
مسلمان ایسے شخص کو دوست نھیں بناتے ،جو کفر کو پسند کرتا ھو .
ایمان والوں کو اللہ تعالی حکم فرماتا ہے :
ٰۤ''یااَیُّھا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْۤا اٰبَآء َکُمْ وَ اِخْوٰنَکُمْ اَوْلِیَآء َ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیْمٰنِ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰۤئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ ''
اے ایمان والو! اپنے باپ ،اپنے بھائیوں کودوست نہ بناؤ۔
اگر وہ ایمان پر کفر کو پسند کریں اور تم میں جوکوئی ان سے رَفَاقت پسند کرے ، وہی ظالم لوگوں میں سے ہے ۔
(التوبۃ :٢٣)
مسلمان کوچاہیے ،کہ جب اللہ اور رسول کا معاملہ آجائے ،تو پھر کسی رشتے اور دوستی کی پرواہ نہ کرے ۔

اصول نمبر پانچ:
دشمنِ اسلام کی خفیہ حمایت بھی ممنوع ھے :
اللہ تعالی فرماتا ہے :
''تُسِرُّوْنَ اِلَیْہِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَآ اَخْفَیْتُمْ وَمَآ اَعْلَنْتُمْ وَ مَنْ یَّفْعَلْہُ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآء َ السَّبِیْلِ ''
تم خفیہ طور پر ان سے دوستی کرتے ہو ،اور میں خوب جانتا ہوں ،جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو ،اور تم میں سے جو ایسا کرے گا ،بے شک وہ سیدھی راہ سے بھٹکا ہوا ہے۔

اصول نمبر چھ:
نبی کریم علیہ السلام سے سب سے بڑھ کر محبت کرنا فرض ہے :
نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا:
: ''لاَیُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاْسِ اَجْمَعِیْنَ۔''
تم میں کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا ،جب تک میں اُسے، اُس کے ماں ،باپ,او لاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں۔
یہ حدیث بخاری و مسلم میں ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا، ہر شخص سے بڑھ کر محبت نبی کریم علیہ السلام سے ہونی چاہیے ۔

اصول نمبر سات:
اللہ و رسول کو تکلیف دینے والے کے لیے دنیا و آخرت میں لعنت ھے اور ذلت والا عذاب ھے:
دنیا و آخر ت میں لعنت اور ذلت کا عذاب :
اللہ تعالی فرماتا ہے :
''اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللہَ وَ رَسُوْلَہ لَعَنَہُمُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّہِیْنًا ''
بے شک جواﷲو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اِیْذاء دیتے ہیں، ان پر دنیا و آخرت میں اللہ کی لعنت ہے،اور اﷲَّ نے ان کیلئے ذِلّت کا عذاب تیارکر رکھا ہے ۔ 
(الاحزاب :٥٧)

رسول اللہ کو تکلیف پہنچانے والے کے لیے درد ناک عذاب ہے:
اللہ تعالی فرماتا ہے :
''وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ''
اور جو رسول اﷲکو ایذاء دیتے ہیں ان کیلئے دردناک عذاب ہے۔ 
(التوبۃ:٦١)
 

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں