مولانا عبد المصطفی اعظمی صاحب نے کتاب سیر ت المصطفی مختصر کیوں لکھی تھی۔؟

مولانا عبد المصطفی اعظمی صاحب نے کتاب سیر ت المصطفی مختصر کیوں لکھی تھی۔
مولانا عبد المصطفی اعظمی صاحب اپنی کتاب سیر ت المصطفی کے شروع میںلکھتے ہیں :
پہلے خیال تھا کہ سیرت مقدسہ کے تمام عنوانوں پر کئی جلدوں میں ایک مبسوط ومفصل کتا ب تحریرکروں، مگر بچندوجوہ مجھے اپنے اس خیال سے رجوع کرنا پڑا۔
(پہلی وجہ کو ہم نے حذف کر دیا ہے )
ثانیاً: یہ کہ انسانی مصروفیات کے اس دور میں جب کہ مسلمانوں کو اپنی ضروریات زندگی سے بالکل ہی فرصت نہیں مل رہی ہے اورعلمی تحقیقات سے ان کی ہمتیں کوتاہ اوردلچسپیاں ناپید ہوچکی ہیں اورذہن وحافظہ کی قوتیں بھی کافی حد تک ماؤف وکمزورہوچکی ہیں،آج کل کے مسلمانوں سے یہ امید فضول نظر آئی کہ وہ طویل ومفصل او رموٹی موٹی کتابوں کو پڑھ کر اس کے مضامین کو اپنے ذہن وحافظہ میں محفوظ رکھ سکیں گے ۔ لہٰذا اس حال وماحول کا لحاظ کرتے ہوئے، میرے خیال میں یہی مناسب
معلوم ہوا کہ سیرت نبویہ کے موضوع پر ایک اتنی مختصر اورجامع کتاب لکھ دی جائے ،جس کو مسلم طبقہ اپنے قلیل ترین اوقات فرصت میں صرف چند نشستوں کے اندر پڑھ ڈالے اوراس کو اپنے ذہن وحافظہ میں محفوظ رکھے ۔
ثالثاً: یہ کہ میرے نزدیک اس موضو ع پر مبسوط ومفصل کتا ب کی تدوین وتالیف تو بہت ہی آسان کام ہے، مگر اس کی طباعت واشاعت کا انتظام کرنا غریب طبقہ علما کے لئے اتنا ہی مشکل کام ہے، جتنا کہ ہمالیہ کی بلند چوٹیوں کو سرکرلینا،کیونکہ مسلمانان اہل سنت کا مالدار طبقہ لغو اورفضول کاموں میں تو لاکھوں کی دولت اڑادینے کو اپنے لئے اتنا ہی آسان سمجھتاہے ،جتنا کہ اپنی ناک پر سے مکھی اڑا دینے کو ،لیکن کسی دینی ومذہبی کتاب کی طباعت یا اس کی خریداری میں اس کے لئے ایک نیا پیسہ لگادینا ،اتنا ہی دشوار اور کٹھن کام ہے جتنا کہ اپنی کھال کو اتار کر پامال کردینا ۔
یہ وہ تلخ حقیقت ہے کہ جس کی تلخی سے بار بار تجربات کے کام ودہن بگڑ چکے ہیں، لہٰذا ان تجربات کی بنا پر میں نے یہی بہتر سمجھا کہ میں بس اتنی ہی ضخیم کتاب لکھوں ،جس کی طباعت واشاعت کے اخراجات کا سارا بار میں خود ہی اٹھا سکوں اورمجھے کسی کے آگے دست سوال دراز کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
سبق :
علماء کرام کو آجکل مختصررسائل لکھنے چائیں ،تاکہ عوام آسانی سے پڑھ سکیں ۔
عوام کو چاہیے ،کہ وہ کتب کی اشاعت میں علماء کرام کا ساتھ دیں ،کیونکہ علماء کرام خود کو تدریس و تصنیف کے لیے وقف کر چکے ہوتے ہیں ،عوام کو چاہیے وہ انکی مالی معاونت کرتے رہیں ۔